پاکستان کا آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ، اقوام متحدہ میں مؤقف واضح

09:59 AM, 18 Nov, 2025

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایک بار پھر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرا دیا۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ہمارا مقصد غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنا اور وہاں امن قائم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن ممکن نہیں۔ عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی جانب سے قرارداد کی منظوری پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد کے حق میں پاکستان سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

امریکی مندوب نے قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ غزہ کے استحکام کے لیے ایک تاریخی اور مثبت قدم ہے۔

اس قرارداد میں غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور عبوری حکومت کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم فلسطینی تنظیم حماس اور دیگر مزاحمتی گروپوں نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد فلسطینی عوام کے حقوق کی ترجمانی نہیں کرتی بلکہ غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں انسانی امداد کا نظام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فلسطینی اداروں کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔

مزیدخبریں