انسانی خدمت کا بیس سالہ سفر

09:18 AM, 18 Nov, 2025

یتیم لڑکوں کی تعلیم و تربیت کے لیئے اٹک میں قائم کئے گئے ادارے آغوش میں چند سال قبل انٹرنیشنل فیڈریشن فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (IFRD)کے وفد کی آمد کے موقع پر منعقدہ تقریب میں رپورٹنگ کے لیئے کراچی سے مدعو کیا گیاتھا۔تقریب کے اختتام کے بعد رات کو اسلام آباد کے ہوٹل میں قیام اور اگلے روز شام کی فلائٹ سے واپسی تھی۔ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں ناشتے کے دوران ہمارے میزبان نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ (HHRD) کی دو روزہ کانفرنس تھی جس میں شرکت کے لیئے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (اکنا۔  ICNA) کے صدر اور چند دیگر عہدیدار بھی آئے ہوئے ہیں۔ان کا قیام بھی اسی ہوٹل میں ہے۔کیا آپ اکنا کے صدر سے ملاقات یا ان کا انٹرویو کرنا چاہیں گی۔ انہوں نے بتایاکہ اکنا کے صدر اپنی اہلیہ کے ساتھ اسی ڈائننگ ہال میں ناشتہ کر رہے ہیں۔اکنا کے صدر سے ملاقات اور انٹرویو کرنا دیرینہ خواہش تھی ۔ قدرے کم رش والی میز پر اکنا کے صدر اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔ اکنا کے صدر سے بالمشافہ گفتگو میںان کے تعارف کے علاوہ امریکہ میں اکنا کے قیام‘سرگرمیوں اور امریکہ میں اسلام اور پاکستانیوںکی سماجی و فلاحی تنظیم ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔انٹرویو کے بعدہیلپنگ ہینڈ پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنے اسلام آباد دفتر کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
کچھ عرصے بعد اسلام آباد میں خواتین کی انٹرنیشنل کانفرنس میںشرکت کے موقع پر ہیلپنگ ہینڈ کے دفتر میں کنٹری ڈائریکٹر سے تفصیلی انٹرویو کیا۔انٹرویو کے دوران  ہیلپنگ ہینڈ کے قیام‘ سرگرمیوں ‘ فلاحی کاموں اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔جس کا خلاصہ تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ پاکستانیوںکی سماجی و فلاحی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصدعوام کی زندگیوں کو بااختیار کرنا ‘ہمدردی و خدمت کے جذبات کو مضبوط بنانا اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ نے 8اکتوبر 2005ء میں خیبر پختونخوا اور آزاد ریاست جموں وکشمیر میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کے لیئے ریسکیو اور امدادی سر گرمیوں سے اپنا کام شروع کیا۔اس ادارے کے اہم پروگراموں میں آرفن سپورٹ‘ ری ہیبلیٹشن ‘ واٹر فار لائف ‘ ایمر جنسی ریلیف ‘ ان کائینڈ ڈونیشن ‘ ایجوکیشنل سپورٹ ‘ معذور بچوں کی بحالی کا جامع پروگرام ‘ کیپسٹی بلڈنگ ‘ خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیئے سکلز ڈویلپمنٹ ‘ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ‘ ہیلتھ کیئر ‘ رمضان‘ قربانی اور ونٹر پروگرام کے علاوہ بلا سود قرضوں کی فراہمی سے متعلق ایثار مائیکرو فنانس پروگرام شامل ہیں ۔ بلوچستان میںآوران ‘ ماشکیل اور خیبر پختون خوا میں ہولناک زلزلوں کے بعد ہونے والی تباہی ‘ شدیدسیلاب اور بعض جگہوں پر آپریشن کی صورت میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیئے فوری خدمات فراہم کیں اورپاکستان کے چاروں صوبوں‘ آزا دریاست جموں و کشمیر اور گلگت  بلتستان کے ضرورت مند اور بے سہارا افراد کو مشکل اور ایمر جنسی کی صورت میں فوری سہارا دیا ۔ ہیلپنگ ہینڈرنگ و نسل‘ مذہب‘ قومیت‘بچوں اور بوڑھے افراد اور صنفی امتیاز سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور فلاح کے کام سر انجام دے رہی ہے جس سے لاکھوں مستحق افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ہیلپنگ ہینڈ کے دفتر کا ماحول کافی مختلف نظر آیا۔بیشتر لڑکیاں عبایا اور اسکارف پہنے ہوئے تھیں۔دفتر کے حضرات انہیں Sisterکہہ رہے تھے۔ خواتین کی نماز کے لیئے الگ جگہ مختص تھی۔صحافی‘کالم نگار اور مصنفہ کی حیثیت سے راقم کو اس تنظیم کا کام بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اسلام آباد میں ہیلپنگ ہینڈ کی انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس میں خصوصی دعوت پر شرکت کی۔جس میں اس وقت کے اکنا کے صدرامریکہ سے اپنے نوجوان بیٹوں کے ساتھ شریک تھے۔ان کے بیٹے دنیا بھر میں اکنا اور ہیلپنگ ہینڈ کے تحت ہونیوالے امدادی اور فلاحی کاموں میں اپنے والد کیساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔حقیقت بھی یہی ہے کہ وہی فلاحی تنظیمیں کامیاب ہوتی ہیں جن کے سربراہ اپنے اہل خانہ کو بھی فلاحی کاموں میں شامل کرتے ہیں۔
 اسلام میں یتیم بچے کی کفالت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔سندھ‘بلوچستان‘خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہات میں ہیلپنگ ہینڈ کے تحت یتیم بچوں کے آرفن سپورٹ پروگرام ‘خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیئے اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام اور معذور بچوں کی بحالی کے جامع پروگرام بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔جس سے اندازہ ہوا کہ اس تنظیم کے تحت مستحق لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی مدد کی جاتی ہے۔شدید گرمی ہو یا سردی کی یخ بستہ ہوائیں‘ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار خلوص دل کیساتھ فلاحی کاموں کے مشن میں مصروف رہتے ہیں۔ یتیم بچوں کی کفالت کے پروگرام کے تحت جن بچوں کی کفالت کی جاتی ہے انہیں معاشرے کا با صلاحیت اور پراعتماد شہری بنایا جارہا ہے ۔تعلیم سے فارغ ہونیوالے یہ بچے عملی زندگی میں کامیابی کیساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کر رہے ہیں۔ 
کچھ عرصہ بعدہیلپنگ ہینڈ کے تحت ایوان صدر اسلام آ باد اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کوئٹہ میں آرفن سپورٹ پروگرام اور خصوصی بچوں کی بحالی کے پروگرام کی تقریبات میںبھی شرکت کا موقع ملا۔ ان بچوں کی پرفارمنس اور ان کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ یتیم اور معذور بچے انتہائی ذہین اوربا صلاحیت ہیں اوران کی شخصیت کو نکھارنے میں ہیلپنگ ہینڈ کی ٹیم اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ہیلپنگ ہینڈ کا انسانی خدمت اور  فلاحی کاموں کا بیس سالہ کامیاب سفر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھرپور انداز میں جاری ہے ۔ انسانی زندگی کی تعمیر کا یہ مشن پاکستان کے چاروں صوبوں‘ آزادریاست جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے 132 اضلاع سمیت دنیا کے 80 سے زائد ممالک میں امید کی کرن بن چکا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں 4کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد اس پلیٹ فارم کے ذریعے بہتر زندگی کی جانب گامزن ہوئے۔ ہیلپنگ ہینڈپاکستان کی قیادت کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں پر محیط یہ سفر لاکھوں زندگیوں میں امید روشن کرنے کا ذریعہ بنا۔ حقیقی کامیابی انہی لوگوں کی خوشی اور ترقی ہے جن کے لیئے ہم کام کرتے ہیں اور انشااللہ دکھی انسانیت کی خدمت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی پوری ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ جاری رہے گا۔
پاکستان کے آئین اور اور لیبر لاز میں14 سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت پر پابندی عائد ہے ۔ ا س وقت پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے ۔غربت اوربیروزگاری کے باعث پاکستان میں مستحق یتیم بچوں سمیت دو کروڑ سے زائد بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ان بچوں کو تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ہیلپنگ ہینڈ نے خدمت کے اپنے بیس سالہ سفر میں مستحق بچوں  کے لیئے تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے آرفن سپورٹ پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ 22 ہزار یتیم بچوں کی تعلیم اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام سے 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد طلباء کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسکلز ڈویلپمنٹ اور لائیولی ہڈ پروگرام کے تحت 80 ہزار نوجوانوں اور خواتین کو ہنرمند بنا کر باعزت روزگار کے قابل بنایا گیا جبکہ یوتھ ایمپاورمنٹ پروگرام نے 25 ہزار نوجوانوں کوقیادت اور سماجی خدمت کا شعور دیا۔ہیلپنگ ہینڈ کی اصطلاح عموماً کسی ایسے شخص یا ادارے کے لیئے استعمال ہوتی ہے جو فلاحی کاموں کے ذریعے دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔تعلیم اور فلاحی کاموں کا دائرہ وسیع کرنے کے لیئے ہیلپنگ ہینڈ جیسے اداروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف ضروری ہے۔

مزیدخبریں