بیوروکریسی … روگ اور بوجھ

09:17 AM, 18 Nov, 2025

اب یہ بات کسی دانشور تک محدود نہیں رہی بلکہ عام آدمی بھی خوب سمجھ چکا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلادیش میں رائج CSS/IAS طرز کا نوآبادیاتی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ وہ ڈھانچہ جو کبھی انتظامی کارکردگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج ایک بوسیدہ جال بن چکا ہے جس نے ریاست، عوام اور نظام کو بْری طرح جکڑ رکھا ہے۔ پاکستان میں تو صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی ہے کہ خرابی کی جڑ بیوروکریسی بن چکی ہے… ایسا طبقہ جو ملک، قوم اور پورے ریاستی ڈھانچے کو یرغمال بنائے بیٹھا ہے۔ یہاں ۱۴ اگست کو آزادی کا اعلان ضرور ہوا تھا مگر سچ یہ ہے کہ غلامی کی ایک نئی شکل آج بھی جاری ہے، بس اس کا چہرہ بدل کر بیوروکریسی کے راج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اس فرسودہ راج سے نجات پانے کے لیے وقت آ گیا ہے کہ دیانت دار دانشوروں، سنجیدہ فکری رہنماؤں اور حقیقی پالیسی ماہرین کی تیار کردہ اصلاحات نافذ کی جائیں۔ سیاسی قیادتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کو مزید ’’فائل روکنے والے حکمران طبقے‘‘ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے پرویز صالح، بشیر ریاض، ممتاز شاہ اور دیگر اہل افراد کی دانش اور تجربے سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔وہ افراد جو بیوروکریسی کے اس فرسودہ ڈھانچے کو مسمار کر کے اسکینڈے نیویا، چین یا سنگاپور جیسا جدید، شفاف، جواب دہ اور نتیجہ خیز انتظامی ماڈل متعارف کرا سکتے ہیں۔
انہی روشن امکانات کے تناظر میں پرویز صالح کا نام نمایاں سامنے آتا ہے۔سابق خصوصی مشیر وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو، سابق رکن نیشنل فنانس کمیشن اور سابق چیئرمین وزیراعظم لٹریسی کمیشن۔ پالیسی سازی، معاشی حکمتِ عملی اور انتظامی ڈھانچوں سے گہری واقفیت رکھنے والی ایسی شخصیات بخوبی جانتی ہیں کہ پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے کس نوعیت کی اصلاحات، کس سمت اور کتنی سیاسی و انتظامی سنجیدگی درکار ہے۔ یہی وہ فکری صلاحیت ہے جس نے سنگاپور، ملائیشیا، جنوبی کوریا اور چین کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے—فرق صرف یہ ہے کہ قیادت نے بیرونی مشوروں کے بجائے اپنے اندر موجود اصل ماہرین کو آگے لانا ہے۔
دنیا میں ’’ایشیا کے ٹائیگرز‘‘ اور ’’ایشیا کے کَبز‘‘ محض معاشی استعارے نہیں بلکہ نیت، وژن اور پلاننگ کی زندہ مثالیں ہیں۔ ملائیشیا، فلپائن، انڈونیشیا، ترکی اور دیگر ممالک اس لیے ترقی کر گئے کہ انہوں نے بوسیدہ نوآبادیاتی بیوروکریسی کے بجائے پروفیشنل انتظامی ماڈلز اپنائے، جہاں فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ سنیارٹی اور فائل روکنے کے ہنر پر۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں نہیں؟ ایک ایسا ملک جس کی آبادی دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، جس کی زمین معدنیات، توانائی، زراعت اور بے پناہ انسانی وسائل سے مالا مال ہے، جو خطے کے اہم اسٹریٹجک محلِ وقوع پر واقع ہے اور جہاں نوجوانوں کی تعداد دنیا کے کئی بڑے ممالک سے بھی زیادہ ہے—وہ ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہ گیا؟ اس کا جواب عام آدمی بھی جانتا ہے: کیونکہ یہاں تبدیلی کا راستہ بیوروکریسی کی بند فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ بیوروکریسی نظام کو چلاتی نہیں بلکہ مفلوج کرتی ہے۔ یہ عوام کی خدمت نہیں کرتی بلکہ عوام سے خدمت لیتی ہے۔ یہ کارکردگی پر نہیں بلکہ اختیارات پر زندہ رہتی ہے۔ یہ جواب دہ نہیں ہوتی بلکہ جواب دہی کو طاقت کے زور پر روند دیتی ہے۔ پاکستان کو آگے بڑھنے سے روکنے والا کوئی بیرونی دشمن نہیں۔یہ دشمن اسی ملک کے دفاتر کی گرد آلود الماریوں میں بیٹھا ہوا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ اس خستہ حال ڈھانچے کو گرا کر ایسی بنیاد رکھی جائے جس میں کارکردگی سنیارٹی سے بالا ہو، جواب دہی جماعتوں کے بجائے عوام سے ہو، نظام افراد کے رحم و کرم پر نہ بلکہ اصولوں کے تابع ہو اور سیاست اور انتظامیہ ایک دوسرے کی تکمیل کریں نہ کہ ٹکراؤ پیدا کریں۔ یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو پاکستان کو ایشیا کا نیا شیر بنا سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے چین نے پچاس سالہ منصوبہ بندی کے ذریعے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔
پاکستان کی اصل قوت اس کے لوگ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس قوت کو قابل، ایماندار اور وژن رکھنے والی قیادت کے ذریعے ایک سمت دی جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی قیادت بیوروکریسی کے بوجھ سے نکلے اور ماہرین، دانشوروں اور پالیسی سازوں کے ہاتھ تھامے، تاکہ پاکستان صرف خوابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ایشیا کے ٹائیگرز کی صف میں شامل ہو سکے۔ 
پاکستان کی عدلیہ ملک کی آئینی، قانونی اور سیاسی ساخت میں ایک اہم ستون کے طور پر دیکھی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کا کردار کئی سنگین مسائل کا باعث ہے۔ عدلیہ کے فیصلے عوامی توقعات اور قانونی اصولوں کے بجائے اکثر سیاسی مفادات اور دباؤ کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ اس کے اثرات نہ صرف قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مسلسل متاثر کرتے ہیں۔
عدلیہ اکثر سیاسی بحرانوں میں سرگرم کردار ادا کرتی ہے، مگر یہ کردار شفاف اور غیرجانبدارانہ نہیں ہوتا۔ فیصلے اکثر اس انداز میں کیے جاتے ہیں کہ وہ حکومتی یا طاقتور حلقوں کے مفاد میں ہوں، جبکہ عام شہریوں کی حقیقی ضرورتیں اور انصاف پس پشت رہ جاتے ہیں۔ مقدمات کی طویل سماعتیں، عدالتی پیچیدگیاں اور بروقت فیصلہ نہ ہونا بھی عدلیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی طاقتوں کے دباؤ کی تابع ہو گئی ہے۔
مزید برآں، عدالتی نظام میں غیر واضح موقف، تضاد اور مبہم فیصلے عام ہیں، جو ملک میں عدالتی شفافیت اور عوامی اعتماد کو مسلسل کمزور کرتے ہیں۔ عدلیہ کے ایسے اقدامات ملک میں آئینی اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا عدلیہ حقیقی معنوں میں عوام کے لیے انصاف فراہم کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ مجموعی طور پر، پاکستان کی عدلیہ کا کردار شدید تنقیدی نگاہ کے مستحق ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف سیاسی مفادات اور دباؤ کے زیر اثر فیصلے کرتا ہے بلکہ عوامی اعتماد اور عدالتی شفافیت کو بھی مستقل نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر عدلیہ حقیقی معنوں میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم رکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنے فیصلوں میں غیرجانبداری، شفافیت اور بروقت فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور عدلیہ ملک میں انصاف کا حقیقی علمبردار بن سکے۔

مزیدخبریں