عرفان صدیقی مرحوم۔۔۔سدا بہار دوستی کا سفر !

09:15 AM, 18 Nov, 2025

’’ملک صاحب (راقم ساجد ملک ) سے سدا بہار دوستی کا سفر ہنوز جاری ہے۔ اس میں آج بھی عہدِ جوانی کی خوش رنگ وخوش جمال محفلوں کی تمازت اور صبح دم کھلنے والی کلیوں کی مہک موجود ہے۔ ہم دونوں پاکستان کے حوالے سے اپنی طبعی عمریں گزار چکے ہیں۔ اُن کی صحت بھی ڈانواں ڈول رہتی ہے اور میں بھی خود کو بصد مشکل سمیٹے پھرتا ہوں۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کون ، کب ، کس سے رشتہ ِ وفا توڑ اور چھ دہائیوں کی رفاقت سے منہ موڑ کر دور کی منزلوں کو نکل جائے۔‘‘ 
یہ برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے میرے بارے میں انتہائی خوبصورت نثر میں لکھے ہوئے اُس مفصل تاثراتی مضمون کا ایک اقتباس ہے جو ’’سدا بہار دوستی کا سفر ‘‘ کے عنوان سے سفرِ حرمین شریفین کے حوالے سے ’’دیارِ حجاز میں‘‘ کے نام سے چند دنوں میں چھپ کر آنے والی میری کتاب میں شامل ہے۔ چند ماہ قبل عرفان صاحب نے میرے بارے میں یہ مضمون لکھا اور چند احباب نے یہ مضمون پڑھا تو اُن کا کہنا تھا کہ عرفان صاحب نے آپ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کو نبھاتے ہوئے آپ کے بارے میں کمال کا مضمون لکھا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ میں احباب کے اس تبصرے پر فرحاںو نازاں تھا کہ میری اتنی قدر افزائی ہوئی ہے ۔ کچھ دن بعد عرفان صاحب سے میری بات ہوئی تو مضمون کا ذکر ہوا۔ اظہارِ تشکر کے طور پر میری آنکھوں میں موتی تیر رہے تھے اور میں نے شکر گزاری کا کچھ اظہار کیا تو عرفان صاحب نے آگے سے ہنس کر بات کا رُخ کسی اور طرف کر دیا جیسے یہ کوئی بڑی بات ہی نہ ہو یہ اُن کے بڑے پن کا اظہار تھا۔ مضمون میں نے اپنی کتاب کے مسودے کے ساتھ کتاب کے پبلشر قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل لاہور کے چیف ایگزیکٹو علامہ عبدالستار عاصم کو بھیج دیا اور ساتھ ہی تاکید کی کہ اس مضمون میں سے ایک اقتباس کتاب کے بیک ٹائٹل پر عرفان صاحب کی تصویر یا فوٹو کے ساتھ چھپنا چاہیے۔ مجھے بتایا گیا کہ بیک ٹائٹل پر عموماً مصنف کی تصویر یا فوٹو ہوتا ہے لیکن میں عرفان صاحب کی فوٹو چھاپنے کی اپنی رائے پر قائم رہا ۔ میری کتاب ’’دیارِ حجاز میں‘‘جو چھپ کر تقریباً تیار ہو چکی ہے کے بیک ٹائٹل پر عرفان صاحب کی تصویر موجود ہے اور یہ سطور لکھتے ہوئے میرے دل میں کچھ یہ احساس بھی ہے کہ چلیں اس طرح قدرت نے مجھے اپنے انتہائی قریبی اور پیارے دوست ، اپنے مہربان، اپنے مربی ، اپنے محسن اور اپنے ہمدمِ دیرینہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں سُر خرو کیا ہے۔ 
عرفان صاحب نے میرے بارے میںاپنے مضمون جس کا اقتباس میں نے شروع میں درج کیا ہے اور بھی بہت ساری قابلِ قدر باتیں لکھی ہیں لیکن میں ان کو چھوڑ کر عرفان صاحب نے یہ جو رشتہِ وفا توڑنے اور چھ دہائیوں کی رفاقت سے منہ موڑ کر دور کی منزلوں کو نکل جانے کی بات کی ہے کی طرف آتا ہوں۔ کیا اُن کی یہ بات خالی از علت تھی یا قدرت کی طرف سے انہیں کچھ اشارہ مل گیا تھا کہ آخری منزل اب قریب آ چکی ہے۔ اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ شاید اس طرح کے کچھ چھوٹے موٹے اشارے اگرچہ کچھ سامنے آنا بھی شروع ہو گئے تھے تاہم یہ خیال ذہن میں کبھی نہیں آیا تھا کہ چھ دہائیوں کی رفاقت اور عہدِ وفا چھوٹنے کی نوبت اتنی جلدی آجائے گی۔ عرفان صاحب نے تین ، چار ماہ قبل جب یہ مضمون لکھا تھا تو اُن دنوں اُن سے ملاقات ہوئی ۔ اُن کی صحت ماشاء اللہ ٹھیک ٹھاک تھی اور وہ حسبِ معمول چاق و چوبند تھے۔ کچھ ہی دن گزرے غالباً وسط جولائی کی کوئی تاریخ تھی کہ اُن کا ملنے کا پیغام ملا۔ انہوں نے محبانِ گرامی ڈاکٹر جمال ناصر ، ڈاکٹر ریاض شیخ اور ڈاکٹر ندیم اکرام کے ساتھ مجھے بھی اپنے گھر پر بلا رکھا تھا تاکہ اُن کے اُن دنوں جو ٹیسٹ ، ایکسرے اور سی ٹی سکین وغیرہ ہوا تھا اُن کے بارے میں ڈاکٹر صاحبان سے مشاور ت ہو سکے۔ میری موجودگی میں ڈاکٹر صاحبان نے اُن کے ایکسرے، سی ٹی سکین اور ٹیسٹوں وغیرہ کے بارے میں مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا اور پھیپھڑوں (Lungs ) کا ایک آدھ مزید سی ٹی سکین کروانے کا فیصلہ ہوا ، اس دوران ہنسی مذاق اور گپ شپ بھی چلتی رہی اور اسلام آباد کلب میں عرفان صاحب کی میزبانی میں کھانا کھایا گیا۔ چند دن بعد اُن کے پھیپھڑوں کا سی ٹی سکین ہوا اور ڈاکٹر جمال ناصر صاحب سے میرا رابطہ ہوا تو اُن کا کہنا تھا کہ فائنڈنگز یا رزلٹ وغیرہ تسلی بخش ہے اور کوئی تشویش کی بات نہیں۔ دو تین ہفتے گزرے ہوں گے کہ وہ سینٹ کی امورِ خارجہ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے یورپ کے سیکنڈے نیوین ممالک ڈنمارک، اور بلجیم وغیرہ کے دورے پر چلے گئے ۔ اس دوران ہر منگل کو سینڈیکیٹ میں قومی اخبارات میں اُن کے کالم باقاعدگی سے چھپتے رہے تو اس کے ساتھ ٹی وی چینلز پر اُن کی گفتگو اور ایکس پر اُن کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ۔ درمیان میں میرا اُن سے کچھ رابطہ نہ ہو سکا پھر مجھے پتہ چلا کہ وہ یورپ سے وہ واپس آئے ہیں اور لمبے سفر کی وجہ سے اُن کی ٹانگوں میں کچھ ایسی تکلیف ہو گئی ہے کہ اُن سے قدم اُٹھانا اور چلنا کچھ دوبھر ہو گیا ہے ۔ میرے دل میں کچھ وسوسے اور کچھ نہ کچھ تشویش ضرور تھی اسی عالم میں میرا رابطہ اُن کے بڑے صاحبزادے عزیزی عمران خاور صدیقی سے ہوا ۔سچی بات ہے کہ عمران خاور مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز اور پیارا ہے اور وہ بھی میرا بے پناہ احترام ہی نہیں کرتا بلکہ مجھ سے بے پناہ لگائو بھی رکھتا ہے ۔ یہی عالم عرفان صاحب کے دوسرے بیٹے عزیزی نعمان راشد کا بھی ہے ۔ خیر عمران سے میری بات ہوئی تو عمران کو میں نے اُن کے پنجاب حکومت میں انویسٹمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد ی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عمران میرے لیے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ متحدہ عرب امارات میں کم و بیش دواڑھائی عشرے کی بینکنگ کی ملازمت کے بعد اب مستقلاً واپس پاکستان آ گئے ہیں ۔ عمران کو یہ کہنا شاید میرے دل میں کسی حد تک پائی جانے والی اس تشویش کے تناظر میں تھا کہ عرفان صاحب یا میں عمر کے جس حصے میں پہنچ گئے ہیں وہاں ہمیں کسی وقت بھی قدرت کی طرف سے بلاوا آ سکتا ہے تو ایسی صورت میں بچوں کا پاس ہونا ضروری سمجھا جا سکتا ہے ۔ 
آج کے کالم میں، میں عرفان صاحب کالم نگاری کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا کہ کیسے اُس کو عروج حاصل ہوا اور کس طرح عرفان صاحب کا شمار اُردو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مقبول، پسندیدہ اور صاحب اسلوب کالم نگار کے طور پر ہونے لگا۔ انشاء اللہ اگلے کالم میں اس بارے میں اظہارِ خیال ہو گا۔

مزیدخبریں