لندن: بین الاقوامی میڈیا نے دنیا بھر میں انسانی جانوں سے کھیلنے اور منشیات کو فروغ دینے والے بھارتی دواساز نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ فارماسیوٹیکل سیکٹر کے معتبر عالمی جریدے "فارمیسی بزنس" نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت کی آشیرباد سے تیار ہونے والی مضرِ صحت اور مہلک ادویات مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بن رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی دوا ساز کمپنیاں منافع خوری کی خاطر ایسی خطرناک ادویات عالمی مارکیٹ میں سپلائی کر رہی ہیں جو انسانوں میں مستقل ذہنی و جسمانی معذوری اور موت بانٹنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ اس بھیانک کاروبار کے نتیجے میں افریقی ملک سیرا لیون کے دارالحکومت میں صرف 90 دنوں کے اندر 400 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
عالمی جریدے نے بھارتی دواساز صنعت کے اس گمراہ کن کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ریاستی سرپرستی میں چلنے والا ایک ایسا گورکھ دھندا قرار دیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سیرا لیون اور دیگر غریب ممالک میں ہونے والی ان اموات کے بعد اب بھارتی ادویات پر عالمی پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔