ہمارے ملک کے نامور صحافی اور دانشور محترم الطاف حسن قریشی بھی رخصت ہوئے ۔ ان کی رحلت سے پاکستان کی صحافت کے ایک درخشاں عہد کا اختتام ہوا۔ الطاف حسن قریشی محض ایک صحافی نہیں تھے ، آپ ایک بلند مرتبہ علمی و ادبی شخصیت تھے۔ قریشی صاحب نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کے علمبردار تھے۔آپ پاکستان کی فکری اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ تھے۔ جمہوری اور فوجی ادوار میں آپ نے ڈٹ کر صحافت کی ۔ سچ بولنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ الطاف قریشی صاحب کے صحافتی کردار کا ذکر کئے بغیر پاکستان کی صحافتی تاریخ نامکمل رہتی ہے۔ آپ نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم۔ ا ے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد آپ نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی محنت کی وجہ سے پاکستان میں صف اول کے صحافیوں میں شامل ہوگئے۔ ان کے صحافتی نظریات سے اختلاف کی گنجائش نکل سکتی ہے، تاہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں نہایت محنت اور مشقت سے اپنا مقام بنایا۔ ان کی سیاسی بصیرت اور اسلام سے وابستگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی عمر کم و بیش پچانوے برس تھی۔گزشتہ چند ماہ سے وہ شدید علیل تھے۔ تاہم ان چند مہینوں کے علاوہ ، وہ پیرانہ سالی کے باوجود بستر پر بیٹھے اپنے علمی، تحقیقی اور صحافتی امور نمٹانے میںمشغول رہا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک ان کے کالم بھی ہمیں پڑھنے کو ملا کرتے تھے۔ ان کی یاداشت نہایت تیز تھی۔ اس عمر میں بھی انہیں پاکستان کی تاریخ اور دستور پاکستان ازبر تھے۔ اپنی عمر عزیز کے آخری برسوں میں بھی انہوں نے مختلف کتابیں تحریر کیں۔ اس کام میں انہیں اپنے پوتے کی معاونت حاصل تھی۔ قلم فاونڈیشن کے روح رواں علامہ عبد الستار بھی ان کی مدد کے لئے ہر آن حاضر رہا کرتے تھے۔جنہوں نے یکے بعد دیگرے الطاف صاحب کی کئی عمدہ کتابیں شائع کیں۔ اس معاونت کے باوجو د، وہ کتاب کے مسودے کو باریک بینی سے دیکھا کرتے تھے۔ گزشتہ ڈیڑھ دو برس میں قریشی صاحب نے جنگ ستمبر کی یادیں، مشرقی پاکستان، میں نے آئین بنتے دیکھا ہے، ایک ٹوٹا تارا، قافلے دل کے چلے اور ملاقاتیں کے نام سے کتابیں شائع کیں۔اپنی صحافتی زندگی میں انہوں نے سینکڑوں ، ہزاروںاخباری تجزئیے، کالم، تحقیقی مضامین اور انٹرویوز لکھے۔ انہوں نے نامور شخصیات کے جو انٹرویوز کئے وہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔یہ انٹرویوز پڑھ کر بہت سے تاریخی حقائق آشکار ہوتے ہیں۔ بیشتر انٹرویوز باقاعدہ تاریخی حوالے کا درجہ رکھتے ہیں۔
الطاف صاحب کا ایک حوالہ اردو ڈائجسٹ بھی ہے۔ آپ کا شمار اردو ڈائجسٹ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اپنے بڑے بھائی مرحوم اعجاز حسن قریشی کے ساتھ مل کر آپ نے ریڈڑز ڈائجسٹ کی طرز پر پاکستان میں اردو ڈائجسٹ کا آغاز کیا تھا۔ اس ڈائجسٹ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔ ان دونوں شخصیات نے برسوں پہلے اردو ڈائجسٹ میں صحافت کا جو انداز اور معیار متعارف کروایا تھا۔ وہ آج بھی قائم ہے۔ مرحوم اعجاز حسن قریشی کے بیٹے اور مرحوم الطاف حسن قریشی کے بھتیجے برادرم طیب اعجاز قریشی اپنے والد اور چچا کے مشن کو بخوبی آگے بڑھا رہے ہیں۔
الطاف صاحب شعبہ صحافت کا بہت بڑا نام تھے اس کے باوجود ان میں عاجزی اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میری ان سے محض چند ملاقاتیں رہیں۔ ٹیلی فون پر البتہ ان سے رابطہ رہا کرتا تھا۔ مختلف محافل میں،میں نے ہمیشہ انہیں دوسروں کا احترام کرتے دیکھا۔ انتہائی جونئیر لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔ جن دنوں میں روزنامہ جنگ میں کالم لکھا کرتی تھی الطاف قریشی صاحب کالم پڑھ کر باقاعدہ ٹیلی فون کرتے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ میں نے روزنامہ نئی بات میں کالم لکھنا شروع کیا تو بھی الطاف صاحب کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ چند ایک مرتبہ الطاف صاحب نے میرے کالم میں لکھے کچھ تاریخی حقائق کے متعلق میری تصیح فرمائی ۔ سچ یہ ہے کہ تب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ مجھ جیسی معمولی کالم نگار کی تحریر کو بھی غور سے پڑھتے ہیں۔
الطاف صاحب گزشتہ کئی مہینوں سے علیل تھے۔ دو چار مرتبہ برادرم علامہ عاصم صاحب کے توسط سے ان سے رابطہ ہوا۔ چند ماہ پہلے میں ان کی عیادت کیلئے ان کے گھر حاضر ہوئی تو الطاف صاحب اپنے آئی ۔پیڈ پر اخبار پڑھنے میں مصروف تھے۔ کہنے لگے کہ اب اخبار پڑھنے کے بجائے اپنے پوتے ایقان کی مدد سے سن لیتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے ان کی کتاب "میں نے آئین بنتے دیکھا ہے"، پر ایک کالم لکھا تھا۔ میں ان کی یاداشت کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکی جب انہوں نے میرے اس کالم پر تبصرہ کیا۔اس میں کچھ نکات کے بارے میں باقاعدہ وضاحت کی کہ آپ نے جو لکھا وہ یوں نہیں، یوں ہونا چاہیے تھا۔ اس دن ہم نے طے کیا کہ جیسے ہی وہ صحت یاب ہوں گے ہم جامعہ پنجاب کے فلم ڈیپارٹمنٹ میں ان کی کتاب کے حوالے سے ایک تقریب رکھیں گے۔ لیکن یہ تقریب ہماری قسمت میں نہیں تھی
ابھی چند دن پہلے الطاف صاحب کے بھتیجے محترم ذکی اعجاز صاحب نے مجھے ایوارڈ کی مبار ک باد دینے کیلئے فون کیا تھا۔ ذکی صاحب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل چیئرمین اور وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ آپ بھی اپنے والد اور چچا کی طرح ایک متحرک شخصیت ہیں۔ میں نے ذکی صاحب سے الطاف قریشی صاحب کی خیریت معلوم کی۔عرض کیا کہ اب کافی عرصہ سے ان کی کال موصول نہیں ہوئی۔ ان کا فون بھی بند رہتا ہے۔ زکی صاحب نے بتایا کہ وہ شدید علیل ہیں ۔ آپ ان کے لئے دعا کریں۔ اس کے دو دن بعد ہی اطلاع ملی کہ پاکستان کی صحافت کا یہ سورج غروب ہو گیا ہے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون ۔ خیال آتا ہے کہ اب الطاف قریشی صاحب جیسے نفیس اور صاحب بصیرت صحافی ہمیں کہاں ملیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک الطاف قریشی صاحب کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے اہل خانہ کو صبر عطا فرمائے۔ ان کے خاندان کو قریشی صاحب کا مشن آگے بڑھانے کی ہمت عطا فرمائے۔آمین۔
الطاف حسن قریشی بھی رخصت ہوئے!!
09:08 AM, 18 May, 2026