ٹرمپ کا دورہ فاصلے بڑھا گیا

09:06 AM, 18 May, 2026


واشنگٹن کے ہوائی اڈے سے ائیرفورس ون نے پرواز کی تو اس کا اہم ترین مسافر ایک ببرشیر تھا، کئی گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد اس جہاز نے بیجنگ کے ہوائی اڈے پر لینڈ کیا تو ببرشیر بلی بن چکا تھا پھر چین میں اپنے قیام کے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران یہی بلی دنیا کو میاﺅں میاﺅں کرتی نظر آئی۔ امریکی صدر کے دورہ چین کا خلاصہ تو یہ ہے کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا، اب یہ چوہا اوول آفس پہنچ چکا ہے۔ اس سے بو کے بھبھکے ماہ نومبر تک تو اٹھتے رہیں گے پھر مڈٹرم الیکشن کے بعد نیا امریکی صدر آیا تو اوول آفس کی صفائی کرائے گا لیکن اگر سی آئی اے اور پینٹاگون اور کانگریس و سینٹ کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی شیشے میں اتار لیا گیا تو امریکہ کی تباہی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گا، جس کی بنیاد امریکی صدر اپنی دوسری مدت صدارت کا حلف اٹھاتے ہی رکھ چکے ہیں۔ امریکی صدر اپنے ہمراہ ڈیڑھ درجن امریکی ارب پتی سرمایہ داروں کو بھی لے کر گئے جو اپنے ملک کی معیشت میں اپنے سرمائے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، انہیں خوش کرنا یوں بھی ضروری تھا کہ ان سے پہلے بھی عام انتخابات میں خوب مدد حاصل کی گئی تھی۔ آئندہ مڈٹرم الیکشن میں بھی ان کی اشد ضرورت ہو گی۔ سرمائے کے اعتبار سے تو ٹرمپ کے برخوردار ایرک ٹرمپ کی وہ حیثیت نہیں جو ایلون مسک کی ہے لیکن وہ امریکی صدر کے کاروباری امپائر کو چلانے والے شخص کی حیثیت سے اہم ہیں اور اس حوالے سے انہیں وفد میں شامل کیا گیا۔ جھکے سر جھکے کندھوں اور بجھے ہوئے چہرے والے ٹرمپ کے ٹیرف کے حوالے سے اختیارات تو ان کی سپریم کورٹ چھین چکی ہے یوں اب ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بیچنے والا سودا نہ بچا تھا لیکن وہ چین سے بہت کچھ مانگنا چاہتے تھے۔ وہ ایک بڑا کشکول لے کر گئے تھے اسی لئے انہوں نے چین میں قیام کے دوران انتہائی تمیز کا مظاہرہ کیا۔ وہ چینی صدر کے ساتھ مودبانہ انداز میں چلتے اور بات کرتے نظر آئے۔انہوں نے کم بولنے اور زیادہ سننے کی پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے چینی صدر کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے ان کا ہاتھ تھام کر اپنا دوسرا ہاتھ اس کے اوپر رکھ کر انہیں پیغام دیا گیا، ان کی اس بدزبانی کو بھول جائیں جو وہ امریکہ میں رہتے ہوئے چین اور اس کی قیادت کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی کہ وہ اپنے سے زیادہ طاقتور شخص کے سامنے کھڑے ہیں اور انہیں اس سے بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ چین کی گریٹ ہال بلڈنگ میں دو ملکوں کے صدر آمنے سامنے مذاکرات کیلئے جام صحت تجویز کئے ایک دوسرے کی تعریفیں کیں لیکن ان باتوں سے خالی پیٹ نہیں بھرتے۔ امریکی صدر کا دورہ چین مارچ میں ہونا تھا لیکن امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے سبب یہ منسوخ ہو گیا۔ یہ جنگ اب بھی جاری ہے۔ اب معرکہ آبنائے ہرمز میں ہے جسے ایران نے بند کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں ا ور دوستوں کی سانسیں روک دی ہیں۔ اس بندش کے سبب تیل کی ترسیل میں خلل آچکا ہے، بس یہ خلل ہی امریکی صدر کو چین کے قدموں میں کھینچ لایا ہے۔ امریکہ اپنی طاقت سے اسے نہیں کھلوا سکا۔ اس نے اپنی عزت بچانے کے لئے دوسری طرف اپنا بحری بیڑا لگایا ہے تاکہ ایران کو خوفزدہ کیا جا سکے جس نے خوف کے بت بہت پہلے ہی توڑ دیئے تھے اور وہ دو ایٹمی طاقتوں کے مقابل آگیا تھا۔ امریکہ چین سے تین معاملے میں مدد چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جائے اور بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹیکس نہ لیا جائے۔ چین کی طرف سے رئیرارتھ منرلز پر لگائی گئی پابندی ختم ہو جائے اور کوئی ایک ایسا تجارتی معاہدہ ہو جائے جو امریکی و یورپی اخبارات کی شہ سرخی اور الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز کا موضوع بن جائے لیکن ان کی تین خواہشوں میں سے ایک بھی پوری نہیں ہو سکی۔ امریکی صدر چین جانے سے قبل یورپ افریقہ ایشیا اور مڈل ایسٹ سے کہتے نظر آئے کہ چین اور چینی بہت خطرناک ہیں۔ ان سے دور رہیں لیکن جب امریکی معیشت کی کمر ٹوٹنے لگی تو ڈیڑھ درجن ارب پتیوں کا وفد لے کر چین جا پہنچے۔ وہ چین کے قریب ہو کر خود تو فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن دنیا کو ان فائدوں سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا کو اب امریکی منافقت کی سمجھ آجانا چاہئے اور انہیں اپنے برے بھلے کی تمیز ہو جانی چاہئے۔ ان پر ایک راز تو کھل چکا ہے کہ کس طرح گزشتہ پچاس برس میں خلیج اور عرب ممالک کے خرچ پر امریکہ صرف اسرائیل کی حفاظت کرتا رہا۔ ان ملکوں میں بنائے گئے اڈے دراصل اسرائیل کی حفاظت کیلئے بنائے گئے تھے۔ چین کے اس دورے میں امریکی صدر پر واضح کیا، اسے تائیوان کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا بصورت دیگر چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ کے ایران پر حملے اور جاری بحری ناکہ بندی کو بلاجواز قرار دیا گیا اور حالات کی بہتری کیلئے اسے فوراً ختم کرنے کیلئے کہا گیا۔ امریکہ نے درخواست کی کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرے جس پر کہا گیا چین کوشش کرے گا لیکن اس نے ایرانی کی طرف سے عائد کردہ محصول کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔
امریکہ کی تاریخ میں ان کے کسی صدر کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں چین نے کوئی ایم او یو کوئی معاہدہ سائن نہیں کیا۔ وہ نومبر تک امریکہ اور اس کے صدر کا طرزعمل دیکھیں گے پھر کوئی فیصلہ کریں گے۔ کسی دور رس فیصلے پر پہنچنے کیلئے چین اپنے درست روس سے بھی مشاورت کرے گا۔ روسی صدر پیوٹن ماہ نومبر میں چین کا دورہ کریں گے جس کے بعد فیصلے فائنل ہونگے کہ امریکہ کو کہاں رکھنا ہے۔ ٹرمپ کے دورہ چین میں کچھ عجب واقعات ہوئے، چین جانے سے قبل ان کا وفد ایک انجانے خوف کا شکار تھا، انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنا موبائل فون لیپ ٹاپ اور الیکٹرانک آلات چین لے کر نہ جائیں، انہیں خطرہ تھا کہ ان کا ڈیٹا ہیک ہو سکتا ہے۔ ایک تقریب میں ٹرمپ سے پہلے ان کے سکیورٹی سٹاف نے اسلحہ سمیت عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو چینی سکیورٹی نے انہیں روک دیا جس پر تلخ کلامی بڑھ گئی۔ چینی سکیورٹی اہلکاروں نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں کو زمین پر گرا کر پھینٹی لگائی، واقعے کو برطانوی صحافیوں نے اس طرح رپورٹ کیا۔ ایک اور تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جنگ پنگ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ چینی صدر خطاب کےلئے اٹھے تو امریکی صدر نے چینی صدر کے فولڈر میں رکھے کاغذات پھرولنا شروع کر دیئے وہاںتو تمام نوٹس چینی زبان میں لکھے تھے لہٰذا ٹرمپ کے پلے کچھ نہ پڑا پس انہوں نے فولڈر بند کر دیا۔ یہ بدتمیزی صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی کر سکتا ہے کوئی اور نہیں۔ امریکی صدر اور ان کے وفد کی خجالت اور خوف کا یہ عالم تھا کہ دورے کے اختتام پر انہوں نے چین کی طرف سے دیئے گئے تمام تحائف یادگاری شیلڈز، سووینئرز اور فون کچرے کے ڈرم میں پھینک دیئے۔ انہوں نے یہ سب کچھ اپنی سکیورٹی کے نام پر کیا۔ خدشات کی فضا میں شروع کیا گیا امریکی دورہ عالم خوف میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ دورہ امریکہ کو چین کے قریب لانے کی بجائے ٹرمپ حماقتوں کے سبب اسے چین سے بہت دور لے گیا ہے، فاصلے بڑھا گیا ہے۔

مزیدخبریں