بلوچستان خصوصاً جنوبی بلوچستان کے نوجوان خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، مگر منفی سوچ کا شکار ہو کر رزق حلال کے راستوں کو چھوڑ کر غیر قانونی اور غیر شرعی ذرائع آمدن کی تلاش میں اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ سمگلنگ، بارڈر کراسنگ اور غیر قانونی سرحدی تجارت جیسے خطرناک راستے بظاہر وقتی فائدہ ضرور دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کا انجام خوف، بے سکونی، ذلت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ مذہب اسلام سمگلنگ، بھتہ خوری اور ناجائز تجارت کو حرام قرار دیتا ہے، جبکہ محنت سے کمایا گیا رزق حلال باعث برکت اور باعث عزت ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ”کسی انسان نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا۔“ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک صحابی ؓ کے سخت محنت والے کھردرے ہاتھ دیکھے تو فرمایا: ”یہ وہ ہاتھ ہیں جنہیں اللہ اور اس کا رسولﷺ پسند کرتے ہیں۔“ واضح رہے کہ آج کی دنیا صرف بڑی ڈگریوں کی نہیں بلکہ ہنر، مہارت اور عملی صلاحیتوں کی دنیا ہے۔ چاہے کوئی مستری ہو، ڈرائیور، مکینک، الیکٹریشن یا ڈیجیٹل سکلز سیکھنے والا نوجوان، ہر شخص باعزت طریقے سے رزق حلال کما سکتا ہے۔ جنوبی بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، مختلف اداروں، انڈسٹریز اور سکیورٹی اداروں میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ نوجوان اپنی حالت بدلنے کا عزم کر لیں تو ان کے لیے بہتر مستقبل کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ آج کا کم تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان بھی محنت اور جائز ذرائع اختیار کر کے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے خاندان کا باعزت طریقے سے پیٹ پال سکتا ہے۔ اگر کوئی ڈرائیور ہے تو یہاں موجود انڈسٹریز، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ملازمت حاصل کر سکتا ہے، جبکہ رینٹ اے کار جیسے کاروبار بھی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ مختلف کمپنیوں اور فرمز میں الیکٹریشن، مکینک، مزدور اور ہنر مند افراد کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوان اپنی ذاتی دکان، چھوٹا کاروبار یا سٹال قائم کر کے بھی باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت اور مختلف سرکاری ادارے نوجوانوں کی مالی معاونت اور فنی تربیت کے لیے متعدد سہولیات اور مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری طرف فتنہ الہندوستان کی پراکسیز اور پروردہ کالعدم تنظیموں کی طرف سے ایک منظم اور مسلسل پراپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کے پاس باعزت روزگار کے مواقع موجود نہیں اور ان کا مستقبل صرف غیر قانونی سرحدی تجارت، تیل کے کاروبار یا زمیاد گاڑیوں کی ڈرائیونگ تک محدود ہے۔ آج اسی من گھڑت بیانیے کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بلوچستان میں ترقی کا کوئی وجود نہیں، وسائل پر دوسروں کا قبضہ ہے اور نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بند ہیں۔ یہی زہریلا بیانیہ احساس محرومی، مایوسی اور نفرت کو جنم دینے کا ذریعہ بنا۔ نوجوانوں کو برین واشنگ کے ذریعے غیر قانونی سرحدی تجارت کے نیٹ ورک میں دھکیلا جاتا ہے، جہاں زمیاد گاڑیوں کے ذریعے سرحد پار سے اسلحہ، گولہ بارود اور ممنوعہ اشیاءکی ترسیل جیسے خطرناک معاملات جڑے ہیں۔ یہ غیر قانونی راستہ نہ صرف مقامی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ دہشت گردی اور بدامنی کے پھیلا¶ کا بھی ایک بڑا ذریعہ بنتا ہے، کیونکہ ایسے نیٹ ورکس سے حاصل ہونے والی آمدن کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت میں استعمال ہوتی ہے۔ بظاہر بلوچ حقوق کی دعویدار تنظیمیں نوجوانوں کو مثبت راستے پر لانے کے بجائے انہیں انتشار، تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ایک نوجوان اپنی زندگی، مستقبل اور خاندان کو کس نقصان سے دوچار کر رہا ہے۔ ان کا واحد مقصد اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل ہے، جس میں نوجوانوں کو بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں شعوری طور پر تعلیم اور ہنر سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ غیر قانونی نیٹ ورک صرف معاشی نقصان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل جیسے عوامل بدامنی، دہشت گردی اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کے زیاں کا سبب بنتے ہیں۔ اس طرح یہ سرگرمیاں پورے معاشرے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہیں اور ترقی کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان خود اپنے راستے کا تعین کریں۔ ایک راستہ علم، ہنر، محنت اور باعزت روزگار کا ہے، جبکہ دوسرا راستہ تباہی، مایوسی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو محنت، علم اور شعور کو اپناتی ہیں۔ تبدیلی ہمیشہ خود انسان کے ارادے اور عمل سے آتی ہے۔ جنوبی بلوچستان کے نوجوان اگر سنجیدگی، محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے علاقوں کا نام روشن اور خاندانوں کے مستقبل کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، اصل ضرورت درست سمت اور مثبت سوچ کی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے نوجوان کو شاہین سے تعبیر کیا تھا۔ بلند حوصلہ، خوددار اور خوداعتماد۔ آج نوجوانوں کو بھی اسی فکر کے مطابق اپنی توانائیاں علم، ہنر اور ترقی کی طرف لگانا ہوں گی۔ اگر وہ دشمن کے جھوٹے پراپیگنڈے سے متاثر ہوئے تو اس کا نقصان فرد سے بڑھ کر پورے معاشرے تک پہنچے گا، لیکن اگر انہوں نے شعور اور محنت کو اپنایا تو کوئی رکاوٹ ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ بلوچستان کے نوجوان باشعور ہیں اور وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں کہ ترقی کا راستہ بندوق نہیں بلکہ علم، ہنر اور محنت ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ہر اس بیانیے کو رد کریں جو انہیں مایوسی اور تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یاد رکھیے گا کہ محنت میں عظمت ہے اور اسی میں دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ آج بلوچ نوجوانوں کو محنت، ہنر اور مثبت سوچ کو اپنانا ہو گا، کیونکہ ان کا مستقبل صرف زمیاد گاڑی چلانے تک محدود نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی قابلیت کو منوانا ہے۔ نوجوانوں کو درست سمت کا انتخاب کرنا ہو گا۔ دنیا میں ہزاروں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ وہ لوگ جو اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے، مگر اپنی محنت، لگن اور ہنر کے ذریعے دنیا میں اپنا نام پیدا کیا۔ آج کا بلوچ نوجوان بھی بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ محنت، ہنر اور درست راستے کو اختیار کرے۔
بلوچ نوجوان، روزگارکے مواقع اور منفی پراپیگنڈا
09:06 AM, 18 May, 2026