28 ویں ترمیم، پس پردہ حقائق

09:06 AM, 18 May, 2026

آئین میں ترامیم وقت کی ضرورتوں اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاتی رہی ہیں۔ 1973 سے لے کر اب تک 27 اہم ترین ترامیم کی جا چکی ہیں۔ یہ کلی طور پر پارلیمان کا اختیار اور ثواب دید ہے کہ وہ ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کر سکتی ہے۔ یہ ایک عام فہم اور ملکی مفادات کا عمل ہے مگر ہمارے ہاں کسی بھی قانون سازی کو ایک مخصوص چشمہ لگا کر دیکھا جاتا ہے اور پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا تعلق صرف حکومتی جماعت کے سیاسی مفادات سے ہوتا ہے۔ اب تو واضح طور پر یہ بات چند عاقبت نااندیش کر رہے ہیں کہ قانون سازی صرف فوج کے مفادات کے لیے کی جاتی ہے اور بالخصوص 28 ویں ترمیم کا تعلق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذات سے ہے۔ یہ ملک دشمن، اغیار کے ٹکڑوں پر پلنے والے سوشل میڈیائی گروہ بغض عاصم منیر میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ان کا کام ہی فوج پر بھونکنا اور ملکی مفاد میں کیے جانے والے ہر فیصلے کو متنازع بنانا ہے۔ ان کے نزدیک ملکی مفاد کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ سیاسی یتیم ہر دیگ اڈیالہ میں قید کرپشن کے سزا یافتہ مجرم پر چڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا پاکستان کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ملک کو ہر طرح انتشار کا شکار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان سوشل میڈیائی سائنسدانوں نے 28 ویں ترمیم کی آڑ میں پہلے صدر آصف علی زرداری کو نشانے پر رکھا اور مصنوعی طور پر حکومتی اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی، کبھی یہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو صدر پاکستان بنتا دکھاتے ہیں تو کبھی تاریخ کے کامیاب ترین وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کر کے سادہ لوح عوام میں خدشات پیدا کرتے ہیں۔ الحمدللہ اس وقت ملک کو ایک منظم سیاسی قیادت آگے بڑھا رہی ہے۔ شہباز شریف صاحب سمیت صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سب ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ پاکستان آگے بڑھے۔ ملک ترقی کرے اور اس ترقی کے مضمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ جہاں تک 28 ویں ترمیم کا معاملہ ہے تو ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہے اور اس کا مقصد ملکی آئینی و انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لانا ہے مگر ابھی اس کی جزئیات پر کام ہو رہا ہے۔ اس کی شکل و صورت اور بنیادی ڈھانچے پر سوچ بچار ہو رہی ہے۔ موجودہ قیادت واضح برتری کے باوجود سیاسی پختگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایسا کوئی بھی عمل نہیں کیا جائے گا جس سے فیڈریشن اور 
صوبوں کے درمیان دوری یا کھچاو¿ پیدا ہو۔ ترامیم ہوتی رہیں گی اور یہ آج نہیں تو کل ہونا ہی ہے۔ کچھ 
بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ 1973 سے اب تک 27 اہم ترین ترامیم ہو چکی ہیں تو 28 ویں بھی ہو گی اور یقینا ہو گی مگر اس حوالے سے پارلیمان اور سیاسی قیادت کو مکمل اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی اولین ترجیح ہے۔ پیپلز پارٹی سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو معاملے کی نزاکت اور ضرورت کو سامنے رکھ کر اعتماد میں لیا گیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔ سیاستدان راستہ تلاش کر لیتے ہیں ٹھہراو¿ یقینا خطرناک ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں اس حوالے سے ڈھکے چھپے الفاظ میں بات ہو رہی ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ آخر اس بات کی ضرورت کیوں پڑی اور کیا اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس بات پر سنجیدہ اور طاقتور حلقے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور ایک ایسا مسودہ تیار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جو سب کیلئے قابلِ قبول ہو۔ 28 ویں ترمیم میں جو اہم نقاط زیر بحث ہیں ان میں سر فہرست این ایف سی ایوارڈ، نئے صوبوں کا قیام، ووٹر کی عمر کا ازسرنو جائزہ، دفاعی بجٹ کے ساتھ کچھ دیگر انتظامی معاملات ہیں تاہم کچھ شر پسند یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چونکہ صدر بھی بننا چاہتے ہیں تو 28 ویں ترمیم میں ایسا قانون پاس کیا جائے گا۔ ان سوشل میڈیائی جھوٹ کی فیکٹریوں کو یہ بات کون سمجھائے کہ صدر کا عہدہ ایک علامتی ریاستی عہدہ ہے اختیارات صدر کے پاس اتنے بھی نہیں ہوتے کہ وہ کوئی بل روک سکے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت اپنی عسکری اور خدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان کیا دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کے پاس 9 مئی 2023 پھر 9 مئی 2025 سمیت بہت سے ایسے مواقع موجود تھے کہ وہ براہ راست حکومت پر قبضہ کر سکتے تھے۔ ایک فاتح سپہ سالار جس کے گن ساری دنیا گا رہی ہو وہ کیا نہیں کر سکتا۔ مگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سیاسی قیادت کو نہ صرف عزت دیتے ہیں بلکہ پارلیمان کے ہر فیصلے کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔ سپہ سالار نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ وہ جمہوری نظام اور پارلیمان پر بھر پور اعتماد کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف پر وہ غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں اور وہ وزیراعظم پاکستان کی صلاحیتوں کے معترف بھی ہیں۔ ایسے میں چند سیاسی یتیم اس ترمیم کو ایک خاص اینگل دے کر متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ ہر بار ناکام ہی رہے اور ان کے مذموم عزائم بُری طرح پٹ چکے ہیں۔ ماضی میں 18 ویں ترمیم میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئی تھیں جن کے نتائج آگے چل کر توقعات کے عین مطابق نہ نکل سکے اور آج اور کل کے حالات و واقعات میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ دنیا میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ محصولات اور اخراجات کا توازن بھی بگڑا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وفاق کے تحفظات کو ترجیح دی جائے۔ اس عمل کو سیاسی طور پر متنازع بنانے والے میرے نزدیک ملک دشمنی کر رہے ہیں۔ اگر محصولات میں وفاق کا حصہ کم ہے یا وفاق کو نظام مملکت چلانے میں پریشانیاں ہیں تو صوبے فیڈریشن کو مضبوط کرنے میں بھی سنجیدہ ہیں تاہم صوبائی حکومتوں اور غیر پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو بھی اس حوالے سے دل گردہ بڑھا کرنا چاہیے۔ اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو اس وقت کل محصولات کا 57.5 فیصد صوبوں کو جاتا ہے اور صرف 42.5 فیصد وفاق کو ملتا ہے۔ جس میں موجودہ حالات میں نظام مملکت چلانا دشوار ہے۔ صوبوں کا حصہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے متفقہ طور پر آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ بالحاظ آبادی سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جس کے حصے میں 51.74 فیصد، سندھ آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ اس کا حصہ 24.55 جبکہ اسی ترتیب سے خیبرپختونخوا 14.62 اور بلوچستان 9.09 کا حقدار ہے۔ اب اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ صوبے جی ڈی پی کے لحاظ سے کل محصولات میں کتنا حصہ ڈالتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ کس طرح بعض صوبے اپنی آمدن سے زائد وصول کر رہے ہیں۔ پنجاب دیتا 60.58 جبکہ وصول 51.74 کرتا ہے اسی طرح سندھ کا جی ڈی پی میں حصہ 23.60 اور وصولی کا تناسب 24.55 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا کا جی ڈی پی میں حصہ 9.9 فیصد ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں اس کا حصہ 14.62 فیصد ہے۔ اسی طرح بلوچستان چونکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ اس کا جی ڈی پی میں حصہ 2.9 فیصد جبکہ این ایف سی ایوارڈ میں اسے ملتا ہے 9.09 فیصد اس ترتیب سے دیکھا جائے تو پنجاب اپنی آمدن سے بھی کم وصول کرتا ہے سندھ کا معاملہ قریبی یے جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان بہت زیادہ وصول کر رہے ہیں۔ علاہ ازیں خیبرپختونخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کو وفاق اپنے حصے سے دیتا ہے اور فاٹا کی ضم شدہ اضلاع کو بھی وفاق اچھا خاصا فنڈ دیتا ہے۔
(جاری ہے)
 اسی طرح بلوچستان کی پسماندگی کے نام پر بھی وفاق حصہ ڈالتا ہے۔ وفاق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بھی تقریباً 800 ارب روپے دیتا ہے۔ وفاق کو ٹھیک ٹھاک خسارے کا سامنا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کچھ اہم اور قابلِ قبول تجاویز زیر غور ہیں کہ دفاعی اخراجات بڑھ چکے ہیں بالخصوص گزشتہ سال بھارت کی طرف سے جنگ کے بعد پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت اس حوالے سے سوچ بچار کر رہی ہے۔ وفاق کے حصے سے دفاعی اخراجات کی مد میں 17573 ارب روپے نکل جاتے ہیں جن سے اشیائے حرب کی خریداری اور دیگر دفاعی امور پورے کیے جاتے ہیں۔ جبکہ فوج کا خالصتاً بجٹ صرف 2550 ارب روپے ہے اگر ڈالروں میں دیکھیں تو 8 ارب ڈالر جبکہ ہمارے دشمن بھارت کا فوجی بجٹ 80 ارب ڈالر ہے۔ پھر بھی ہمارے بہادر سپاہیوں نے بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ یعنی انتہائی کم وسائل کے ساتھ جنگ لڑی اور تاریخی فتح حاصل ہے۔ سارا پاکستان چائے گا کہ فوجی بجٹ بڑھے اور ہماری فوج کو سہولیات دی جائیں کیونکہ ہمارا سامنا ایسے دشمن سے ہے جو اس مد میں بے پناہ اخراجات کر رہا ہے۔ ہمارے فوجی بہادر ہیں مگر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ 28 ویں ترمیم میں یہ تجویز زیر غور ہے کہ اگر صوبے این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی پر رضا مند نہ ہوں تو ایسا فارمولا ترتیب دیا جا سکے جس کے تحت کل محصولات میں سے سب سے پہلے دفاعی بجٹ علیحدہ کر لیا جائے اس طرح وفاق کا بوجھ قدرت کم ہو جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ فوج صرف وفاق کی نہیں یہ چاروں صوبوں کی فوج یے اور سارے پاکستان کی دفاعی طاقت ہے۔ کل محصولات میں سے دفاعی بجٹ علیحدہ کر کے باقی کو این ایف سی ایوارڈ کی ترتیب کے مطابق صوبوں کو جاری کر دیا جائے یہ تجویز سب کو قبول ہونی چاہیے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی صوبوں کو دے دیا جائے یہ بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بہبود آبادی کا محکمہ بھی صوبوں کے پاس یے تو صوبے اپنے حساب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بطریق احسن چلا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کچھ محکمے جو صوبوں کو دئیے گئے تھے وہ وفاق کو واپس کر دیئے جائیں تاکہ فیڈریشن کی مضبوطی کے لیے ایک منظم قومی پالیسی کے تحت وفاق ان محکموں کو چلائے اور اس طرح ملی یکجتی کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔ ویسے بھی یہ محکمے صوبائی حکومتوں میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی توقع تھی۔ ایک تجویز ووٹر کی عمر کے حوالے سے ہے تو یہ قابلِ فہم ہے کہ 18 سالہ بچہ گھر نہیں چلا سکتا، والدین اس کے اوپر کوئی اہم ذمہ داری نہیں ڈالتے تو یہ کیسے اجازت ہونی چاہیے کہ وہ صرف سوشل میڈیا اور اپنی کمزور ذہنیت کے ساتھ ایک خاص بیانیہ کے تحت ملکی نظام چلانے کے لیے ووٹ کرے۔ یقینا ووٹر کی عمر میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کم از کم 21 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال کی عمر میں ووٹ کا حق دیا جانا چاہیے۔ اگر 18 سالہ شہری ممبر پارلیمان نہیں بن سکتا کیونکہ وہ ذہنی بلوغت نہیں رکھتا تو ووٹر کیسے ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ باقی سازشی تھیوریاں پہلے کی طرح دم توڑ جائیں گی کہ اس ترمیم کے ذریعے ملک میں صدارتی نظام کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صدر بننا چاہتے ہیں۔ نئے صوبوں بارے بھی بے وقت کی راگنی گائی جا رہی ہے۔ یہ سب ایک مخصوص گروہ کا ذہنی فتور ہے جو وہ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان میں پارلیمانی نظام ہی بہترین طرزِ حکومت ہے۔ یہی چلے گا اور اسی پر تمام حلقے ہم آواز ہیں۔ 28 ویں ترمیم آج نہیں تو کل ہو گی یقینا یہ وقت کی ضرورت ہے۔ قومیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھتی ہیں۔ ٹھہراو¿ کسی بھی قوم کیلئے زہر قاتل ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کیلئے اپنی ذاتی انا اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں گی اور جمہوری نظام کو ایک روشن راستہ دیں گی۔

مزیدخبریں