کراچی : نیشنل ڈائیلاگ کونسل (NDC) کے زیرِ اہتمام کراچی میں منعقدہ ’قومی یکجہتی کانفرنس‘ نے موجودہ حکمران اتحاد کے خلاف ایک سخت اور متفقہ چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔ کانفرنس میں ملک کی تمام ممتاز جمہوری اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کر کے ملک کی بقا کے لیے فوری اور بڑی آئینی تبدیلیاں لانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے متفقہ اعلامیے کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔اعلامیے میں حکومت پر تضادِ مفادات کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے دوران حکومت نے پٹرولیم کمپنیوں اور ریفائنریوں کو نوازا اور انہیں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر اربوں روپے منافع کمانے کی کھلی چھوٹ دی۔ کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ ان کرپٹ فیصلوں کی اسکروٹنی کی جائے۔ اس وقت پٹرول پر 35 فیصد اور ڈیزل پر 18 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث پاکستانی عوام پورے جنوبی ایشیا میں مہنگی ترین بجلی، گیس اور ایندھن خریدنے پر مجبور ہیں۔
قرارداد میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے چار سالہ دور کو ملکی معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے، سب سے زیادہ ٹیکس تھوپے اور عوام کی حقیقی آمدنی کو ختم کر دیا۔ کانفرنس نے واضح الفاظ میں کہا کہ شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے معاشی ترقی اور عوامی فلاح کا تصور بھی ممکن نہیں۔
سیاسی قیادت نے مؤقف اپنایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں کی کامیابیوں سے معاشی فوائد اسی صورت حاصل ہو سکتے ہیں جب ملک میں بڑی سٹرکچرل اصلاحات کی جائیں۔ ان اصلاحات میں بااختیار مقامی حکومتیں، چھوٹے صوبوں کا قیام، این ایف سی (NFC) ایوارڈ میں ترمیم اور صوبائی سطح پر جاری کرپشن کا خاتمہ شامل ہے۔
اعلامیے کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں فوری قومی مفاہمت کا آغاز کیا جائے، سیاسی تناؤ کو کم کر کے علیل سیاسی قیدیوں کو فوری طبی علاج فراہم کیا جائے۔ کانفرنس نے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک عبوری 'قومی حکومت' قائم کرنے کی تجویز دی، جو بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بعد ملک میں مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔
موجودہ معاشی پالیسیاں مسترد، ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے ’قومی حکومت‘ کی تشکیل اور آئینی اصلاحات کا پلان پیش
11:40 PM, 17 May, 2026