غزہ پر اسرائیلی بمباری شدت اختیار کر گئی، 119 فلسطینی شہید، عالمی سطح پر شدید ردعمل

03:34 PM, 18 May, 2025

غزہ:اسرائیلی فوج نے غزہ میں آج صبح شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 119 فلسطینی شہید ہو گئے۔ مقامی اور عالمی ذرائع کے مطابق اسرائیل ایک نئے زمینی حملے کی تیاری میں ہے، جبکہ دوسری طرف قطر میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صرف تین دن میں 400 سے زائد فلسطینیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر جاری جنگ میں اب تک 53 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں جاں بحق تصور کیا جا رہا ہے، جس سے شہداء کی اصل تعداد 61 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

ادھر امریکی سفارتخانے نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق امریکی حکومت نے فلسطینیوں کو غزہ سے لیبیا منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ سفارتخانے نے واضح کیا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں رہی۔

یاد رہے کہ امریکی چینل این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے دس لاکھ باشندوں کو لیبیا بھیجنے کے منصوبے پر غور کر رہی تھی۔بغداد میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں فلسطینی صدر، امیر قطر، مصری صدر، سعودی وزیر خارجہ سمیت کئی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
سعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ"فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کسی صورت قبول نہیں۔" یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا نے کہا کہ غزہ میں اسپتال تباہ ہو رہے ہیں، لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، اور یہ سب فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے غزہ کی صورتحال کو ناقابلِ بیان قرار دیتے ہوئے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان کے پاس 1,60,000 امدادی پیکجز موجود ہیں، جو اجازت ملتے ہی غزہ بھیجے جائیں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی غزہ میں جاری خونریزی کو ناقابلِ برداشت قرار دیا اور کہا کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم سے اس مسئلے پر بات کریں گے۔

مزیدخبریں