حالیہ پاک بھارت تنازع، اْس میں بھارت کی جارحیت، پاک فوج کا منھ توڑ جواب اَور بھارت کا دْم اَپنی ٹانگوں میں دبا کر دْبک جانا ہماری تارِیخ کا ایک اَہم باب ہے۔ قوموں کی تارِیخ میں اِس قسم کے واقعات یْونہی نہیں آجاتے۔ اْن کے خاص مقاصد ہوتے ہیں۔ سمجھ دار قوموں کو اْن مقاصد پرنظر رکھنی چاہیے۔ اْن سے سبق سیکھنے چاہئیں ہم بھی صرف نعرے لگا کر، جلوس نکال کر، چند جذباتی بیانات دے کر خاموش نہ ہوجائیں۔ اِس پر غوروفکر کریں اَور دْرست نتیجے نکالنے کی کوشش کریں۔ اِس سارے معاملے سے تین باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں۔
پہلی بات یہ کہ جو لوگ عام طور پر اَور گزشتہ تین سالوں میں خاص طور پر پاک فوج کی صلاحیت، کردار اَور افعال پر سوالیہ نشان اْٹھارہے تھے، اْنھیں بھی ایک شان دار جواب مل گیا ہے۔ ایک مخصوص سیاسی جماعت اَور اْس کے لیڈران کے بیانات اَور افعال، اْن لیڈروں پر آنکھیں اَور دماغ بند کرکے اِیمان لانے والے اَور اْن کی ہر بات پر آمنا اَور صدقنا کہنے والے ہمارے یہاں کم نہیں ہیں۔ میرے اَپنے کئی دوست اَور خاندان کے قریبی اَفراد اِس پروپیگنڈا سے بے حد متاثر تھے۔ وہ لوگ بڑھ چڑھ کر باتیں بنایا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک طوفان آیا ہوا تھا۔لوگوں نے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اِس قسم کی باتیں، فوج اَور قوم کے درمیان خلائ پیدا کرنے کی کوششیں کیا نتیجہ برآمد کرسکتی ہیں، محض اَپنے لیڈروں کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے آنکھیں بند کرکے اْس سیلاب میں بہہ گئے۔ پاک فوج کی ہر بات غلط تصور کی جاتی تھی اَور لوگ یہ بات سرعام کہتے تھیکہ یہ لوگ لڑنے کے قابل نہیں ہیں۔ جنگ ہوئی تو دْودھ کا دْودھ اَور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ وقت نے ثابت کردِیا کہ یہ سب باتیں غلط تھیں۔ پاک فوج کی صلاحیت اَور جنگی تیاری کھل کر واضح ہوگئی۔ اْن لوگوں سے اَب ایک ہی سوال کیا جاسکتا ہے۔"ہن آرام اِی؟" یعنی کیا اَب آپ کو مناسب جواب مل گیا ہے۔
دْوسری بات یہ ہے کہ جس مد میں، جس طرف ہماری حکومتوں نے سنجیدگی سے توجہ دی اَور پیسہ لگایا وہاں ہم نے خوب ترقی کی۔ گویا اگر اِس قوم کو دْرست سمت میں اِستعمال کیا جائے، اِسے سہولیات دی جائیں، پیسہ بھی ملے تو یہ قوم معجزے دِکھانے کے قابل ہے۔ تھوڑے سے نم سے یہ مٹی اَپنی زرخیزی سب کو دِکھلا دیتی ہے۔ ہم نے دِفاع کے میدان میں نہایت سنجیدگی سے توجہ دی۔ اِ س حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کا حصول، سائنسی تحقیق، نئی نئی جہتوں کی دریافت کو اَپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ دِفاع کے لیے پیسے کی کمی نہیں آنے دی۔ نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ بھارت سمیت ساری دْنیا کو ایک شدید قسم کی حیرت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاک فضائیہ کی مہارت نے بھی یہ بات بتائی کہ صرف اَچھا جہاز لینا کافی نہیں ہوتا۔ اْس جہاز کو اْڑانے والا پائلٹ کتنا ماہر ہے، بھی بہت اَہم ہے۔ چنانچہ پاک فضائیہ کی اَپنے پائلٹوں کی دی جانے والی پیشہ ورانہ تربیت کا بھی کھل کر مظاہرہ ہوگیا۔ ہمارے وہ اِدارے جو میزائل ،ڈرون اَور دِیگر ہتھیار اَور اسلحہ بناتے ہیں، اْن کی شان دار کارکردگی بھی دْنیا نے دیکھ لی۔ جو فتح۔۱ میزائل پاکستان نے دْشمن پر مارے، وہ جس طرح ٹھیک اَپنے نشانے پر لگے، وہ یہ بتاتے ہیں کہ کہ اْن اِداروں میں کام کرنے والے سائنس دان اَور اِنجینئر اَپنے کام میں نہایت ماہر ہیں۔
مزید یہ کہ پاک فوج کی جنگی حکمت عملی، اْس کی منصوبہ سازی، دْشمن کی صلاحیت اَور اْس کے اڈوں کی دْرست معلومات، فوج کی لیڈر شپ کی گزشتہ تمام عرصے میں اَپنے کام سے لگن بھی کھل گئی ہے۔ یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ اگر دِفاع پر ملک کا پیسہ لگا ہے تو وہ صحیح جگہ اِستعمال بھی ہوا ہے۔ لوگوں نے جو پراپیگنڈا بھی کیا، اْس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں تھی۔ چنانچہ جس طرف ہماری حکومتوں نے توجہ دی، اْدھر پاکستان نے خوب ترقی کی۔ گویا ترقی کرنے کے لیے حکمرانوں کی توجہ، رضا مندی اَور مناسب فنڈز کی فراہمی لازمی ہیں۔ دْنیا میں ہر جگہ یہی ہوا ہے۔ حکومتوں کی توجہ اَور رضامندی کے بغیر کسی بھی شعبے میں ترقی محض افراد کے کرنے سے نہیں ہوتی۔
تیسری بات دْوسری بات کے برعکس ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن معاملات میں ہماری حکومتوں نے توجہ نہیں دی، اْدھر پیسہ نہیں لگایا، وہ کسمپرسی کا شکار ہیں۔ تعلیم، صحت، سائنس اَور ٹیکنالوجی کا عام فروغ، صنعت کا فروغ ، انجینئرنگ کی ترقی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے۔ چنانچہ ہم دْنیا کے بہترین میزائل بنارہے ہیں، سائبر سیکورٹی کے میدان میں کارنامے بھی سرانجام دے رہے ہیں لیکن ایک نو فراسٹ ریفری جریٹر ہم سے نہیں بنتا۔ ہم آٹو میٹک واشنگ مشین کی موٹراَور کنٹرول پینل نہیں بناپاتے، گاڑیوں کے اِنجن، اْن کے ADAS، یہاں تک کہ بے شمار کاروں کے آئل فلٹر تک ہم دْوسرے ملکوں سے درآمد کرتے ہیں۔ الیکٹرونکس کی مصنوعات ہم سے نہیں بن پاتیں۔ ہم CKDکے تحت کاروں کو اَپنے ملک میں صرف جوڑ رہے ہیں۔ ہم نے اَپنی کوئی کار نہیں بنائی۔ یا جو کاریں ہم بنارہے ہیں مثلاً سوزوکی، ٹویوٹا، ہنڈا وغیرہ ، اْن کے انجن یا الیکٹرونکس ہم باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا تعلیمی معیار روز بہ روز گرتا جارہا ہے۔ صحت کے شعبے میں اِستعمال ہونے والے آلات مثلاً سی ٹی اسکین کی مشین، آنکھ کے موتیے کا آپریشن کرنے کی مشین، بلڈ پریشر اَور دِل کی حرکت کو ناپنے کے آلات ہم نہیں بناتے۔ یہ تمام چیزیں ہم درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ملک میں میڈیکل کے آلات بنانے کے کتنے کارخانے ہیں؟ کون جانتا ہے؟ ہم صرف سرجیکل آلات بناتے ہیں لیکن وہ مشینیں جو صحت کے شعبے میں اِستعمال ہوتی ہیں، ہم شاید ایک بھی نہیں بناتے۔اِسی طرح زراعت کے شعبے میں دْنیا کہاں کی کہاں نکل گئی ہے، لیکن ہم آج بھی پرانے طریقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
دِلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری توجہ اِس جانب ہے بھی نہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اِ س ملک کا نظام تعلیم فرسودہ ہوچکا ہے، اِسے جدید خطوط پر اْستوار کیا جائے۔ ہماری صنعت غیر معیاری چیزیں بنارہی ہے جو ہمارے اَپنے ملک کے لوگ اِستعمال نہیں کرنا چاہتے۔ اْن چیزوں کوبہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔جو چیز بھی ہمارے ملک میں بنے وہ ایک نہایت سخت قسم کے کوالٹی کنٹرول سے گزر کر مارکیٹ میں آئے۔ پورے ملک میں، ہر فیکٹری میں بین الاقوامی کوالٹی کنٹرول کے مطابق چیزیں بنائی جائیں۔ انجینئرنگ کے شعبے میں ہم باقی تمام دْنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، اِسے کسی طرح آگے بڑھایا جائے۔ حکمرانوں نے تو کبھی یہ تکلیف بھی گوارا نہیں کی کہ یہ ہی جان لیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی اَور انجینئرنگ کے شعبوں میں کیا کمی ہے اَور اِسے پورا کرنے کیلئے کن اِقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی اَیسا ڈھکا چھپا معاملہ نہیں ہے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ باقی دْنیا نے کیا کیا تھا۔ ہمیں بھی وہی اِقدامات اْٹھانے ہوں گے۔ سائنس اَور ٹیکنالوجی کی وزارت کو ہر سال جتنے فنڈز ملتے ہیں، انجینئرنگ یونی ورسٹیوں کے فنڈز کے جو حالات ہیں، شعبہ تعلیم و صحت کو جتنے پیسے ملتے ہیں، اْسی کے مطابق نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔
لہٰذا ہم جدھر ترقی کرنا چاہتے ہیں، اْدھر توجہ بھی دیں۔ دِفاع سمیت ہر شعبے میں ترقی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوم زرخیز مٹی ہے، اگر اِسے صحیح طور پر اِستعمال کیا جائے۔ یہاں ہر شعبے میں معجزے اَور کرامات دِکھائی جاسکتی ہیں۔ اِس قوم کو ایک سمت دیں اَور اْس پر اِسے چلنے میں ہر ممکن مدد فراہم کریں۔ حیرت اَنگیز نتائج سامنے آئیں گے۔
زرخیز زمین
09:19 AM, 18 May, 2025