نا قابلِ یقین مناظرہیں

08:59 AM, 19 Mar, 2026

اسرائیل جس طرح گذشتہ ستر سال سے اہل فلسطین پر مظالم ڈھا رہا تھا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ اسرائیل کی تباہی کے بھی ایسے مناظر دیکھنے کو ملیں گے کہ جس سے اہل اسلام کے دلوں کو بھی سکون ملے گا ۔گذشتہ سال جون میں بھی کچھ نا قابلِ یقین مناظر دیکھنے کو ملے تھے لیکن وہ جلد ہی ختم ہو گئے تھے لیکن اس سے صرف ایک ماہ پہلے بھی یعنی مئی 2025میں بھی بڑے مختصر وقت میں ڈھیر سارے ایسے مناظر دیکھنے کو ملے تھے کہ جو در حقیقت دیکھنے اور سننے میں بھی اجنبی سے لگتے تھے ۔ ہندوستان کی فلموں میں دنیا کو یہی بتایا جاتا رہا کہ ہندوستان کی فوج کے سامنے پاکستانی فوج کی (میرے منہ میں خاک ) کوئی حیثیت نہیں ۔ اس طرح کا پاکستان دشمن پروپیگنڈا اس قدر زیادہ کیا گیا کہ لگتا تھا کہ شاید یہ درست ہی ہو گا لیکن پھر ہندوستان کی مودی سرکار نے پاکستان دشمنی میں وہی غلطی کی جو کہ ٹرمپ خان نے ابھی ایران پر حملہ کر کے کی ۔ جنگوں کی تاریخ میں قلیل ترین فقط چار گھنٹے کی مدت میں دنیا نے ہندوستان کی تباہی کے وہ مناظر دیکھے کہ جنھیں دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا تھا اور پاکستانی مودیوں کو تو ایک عرصہ تک یقین نہیں آیا تھا لیکن جب پوری دنیا اور ان کے محبوب لیڈر ٹرمپ خان نے گواہی دی کہ پاکستان نے ہندوستان کے کتنے جہاز مار گرائے توپھر لوگوں کو یقین آنا شروع ہوا کہ یہ انہونی ہو چکی ہے کہ افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی سربراہی میں اپنے سے آٹھ گنا بڑے مکار دشمن کو شکست نہیں بلکہ شکست فاش دے دی ہے ۔ اب خدائے بزرگ و برتر کو منظور ہوا تو ہندوستان کی پراکسیز فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو بھی عبرت ناک شکست ہو گی اور یہ مناظر بھی ہر حقیقی محب وطن پاکستانی اور پوری دنیا پہلی بار دیکھ رہی ہے کہ جن دہشت گردوں کو ایک عرصہ تک نا قابلِ شکست قرار دیا جاتا رہا تھا انھیں کس طرح پاکستان کی جانب سے کٹ پڑ رہی ہے اور ان کے پاس جائے پناہ نہیں ہے ۔
جون2025میں اس وقت بھی امریکہ مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ تھا اور ہر طرح سے مکمل مدد کر رہا تھا لیکن کھل کر سامنے نہیں آیا تھا تاہم جنگ کے آخر میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر فضائی حملے کئے کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں ایک دہشت کی علامت ہے تو ایران جس کی معیشت گذشتہ 47سال سے پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے وہ امریکی مدد کے ساتھ اسرائیل کے سامنے دو دن بھی نہیں ٹک پائے گا لیکن یا حیرت کہ ایرن نے تو اس کی ایسی تباہی مچائی کہ ٹرمپ خان کو جنگ بند کروانے کے لئے خود میدان میں آنا پڑا اور یہ کہہ کر جنگ بند کروائی کہ ایران نے جنگ کے آخری 48گھنٹوں میں اسرائیل میں بہت زیادہ تباہی پھیلائی تھی ۔ اس بار حالات کچھ مختلف تھے ۔ نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل میں کرپشن کے کیسز ہیں اور قوی امید ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں بری طرح شکست سے دو چار ہو گا لہٰذا اس نے بھی نریندر مودی کی طرح جنگ کو اپنے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اکیلا اسرائیل یہ کام نہیں کر سکتا تھا لہٰذااس نے ٹرمپ خان کو بھی ساتھ ملایا ۔ ٹرمپ خان کیا دنیا کا کوئی بھی بندہ اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اسرائیل جیسی علاقائی طاقت جو کہ جدید جنگی ٹیکنالوجی کی حامل ہے اس کے ساتھ اگر امریکہ جیسی وقت کی سپر پاور بھی ہو گی اور دونوں مل کر ایران پر اپنی پوری طاقت سے حملہ کریں گے تو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ ٹک پائے گا ۔ یہ کام اس لئے بھی آسان نظر آ رہا تھا کہ ایران پر جو میزائل فائر کرنے تھے وہ امریکی بحری بیڑوں اور اسرائیل سے زیادہ پڑوسی عرب ریاستوں سے کرنے کی منصوبہ بندی تھی اور یہ بات بھی مشکل نظر آ رہی تھی کہ ایران امریکہ کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں میں امریکی اڈوں پر بھی حملہ کر کے پوری دنیا کی مخالفت مول لے گا لیکن ایران نے جنگ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس پر جہاں سے حملہ ہوا وہ وہاں پر حملہ کرے گا اور اس نے جو کہا سچ کر دکھایا ۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران میں بھی بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اس لئے کہ جب اسرائیل اور امریکہ سمیت خطے کے کم و بیش تمام ممالک سے اس پر حملے ہو رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اتنی تباہی تو ہونی ہی تھی لیکن اندازہ تو کریں کہ وہ اسرائیل کہ جس کی دہشت کی علاقے میں دھاک بیٹھی ہوئی تھی اس پورے اسرائیل میں آج نا قابلِ یقین حد تک تباہی کے مناظر ہیں اور یہ اس قدر تباہی ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا کو اسرائیل سے کسی قسم کی وڈیو یا تصاویر بھیجنے پر مکمل پابندی ہے حتیٰ کہ سیٹلائٹ کمپنی پر بھی 14دن تک اسرائیل کےImagesدکھانے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اگر امریکہ کی بات کریں تو ماضی میں جس طرف اس کا بحری بیڑا جاتا تھا تو اس کے پہنچنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیئے جاتے تھے لیکن آج انہی بحری بیڑوں یو ایس ایس ابراہام لنکن پر فائر کر کے ایران نے غیر فعال کر دیا ہے جبکہ جیرالڈ فورڈ کو بھی لانڈری میں آگ لگنے سے شدید نقصان پہنچا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کل13ایئر ری فیولنگ طیارے تھے جن میں سے پانچ کو سعودی عرب کی پرنس سلطان ایئر بیس پر اور دو کو عراق کی اربیل ایئر بیس کے قریب تباہ کیا گیا ۔ یہ سب ناقابل تصور مناظر ہیں جو دنیا کو دیکھنے کو مل رہے ہیں کاش ان مناظر میں بیت المقدس کی آزادی کے مناظر بھی شامل ہو جائیں۔

مزیدخبریں