سفارتی مشنز کا متحرک ہونا ضروری!

08:58 AM, 19 Mar, 2026

2025ءپاکستان کی وزارت خارجہ اور خارجہ پالیسی کیلئے ایک شاندار سال رہا ہے۔ مئی 2025ءمیں بھارت کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو ہماری عسکری طاقت نے وہ ”پھٹکا“ لگایا اور بھارت کے میڈیا نے بے پر کی اڑا کر بھارت کو مزید نقصان پہنچایا۔ اس نے لاہور کی بندرگاہ پر قبضہ کی طرح بے شمار خبریں نشر کیں جس نے نہ صرف دنیا بلکہ بھارت کے کچھ عقل مندوں کو سوچنے پر مجبور کیا کہ بھارت جو اپنے آپ کو بڑی طاقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس نے خود ہی اپنی لٹیا ڈبو دی۔ اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ کو ہر جگہ سنا گیا اور پاکستان کی اس جغرافیائی نوعیت کو اور عسکری قیادت کی تدبیر، فراست اور بہادری کو مثبت انداز میں دیکھا گیا۔ صدر ٹرمپ، پاکستان کی اہم حیثیت کی وجہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا مثبت انداز میں نام لینے سے نہیں تھکتے، سعودی عرب جیسے پاکستان کے قریب ترین دوست جہاں عوام سے عوام اور حکومتوںکے درمیان ایک مضبوط تعلق پہلے سے موجود ہے، پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ ہوا اگر دفاعی معاہدہ نہ بھی ہوتا ہے تب بھی پاکستان کے پچیس کروڑ عوام کی جانیں سعودی عرب کی پاک سرزمین پر قربانیوں کیلئے ہمیشہ تیار ہیں۔ ماہ رمضان میں یہودی اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو نہ جانے کیا سہانے خواب دکھائے کہ وہ ایران پر چڑھ دوڑے، انہیں ایران کی طاقت اور عوام کی بہادری کا شاید اندازہ نہیں تھا۔ اندرونی کہانی کچھ یوں تھی جس سے اب دنیا واقف ہو چکی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد شنید تھی کہ دیگر خلیجی ممالک بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کی طرف جا رہے ہیں جو اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک کیلئے ایک ڈراو¿نا منظر تھا، اس سے قبل ہی اسرائیل اور امریکہ ایران پر چڑھ دوڑے اور خلیجی ممالک کو ایران سے لڑانے کی کوشش میں مصروف ہو گئے۔ پاکستان کی یہاں بھی بہت ہی مثبت اور اعلیٰ سفارتی کوششیں رہیں، پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور ساتھ ہی ایران کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ بھی خلیجی ممالک اور خاص طور سعودی عرب کی طرف اپنے حملوںکا رُخ نہ کرے، سعودی عرب کی قیادت ہمیشہ کی طرح کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا رہی یا بیان نہیں دے رہی جس سے فاصلوں میں اضافہ ہو۔ پاکستان ایک طرف ایران پر حملوںکی مذمت کر رہا ہے، دوسری طرف ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے عرب ممالک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ بظاہر بعض لوگوں کو یہ پالیسی متضاد محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک محتاط اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی ہے۔ جس کا مقصد مسلمان ممالک کو باہمی جنگ سے بچانا ہے۔ ترکی نے بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے عرب ممالک کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے اہم مسلم ممالک اس وقت بنیادی طور پر ایک ہی مقصد کو سامنے رکھے ہوئے ہیں کہ مسلم دنیا کو باہمی تصادم سے بچانا۔ کچھ بھگوڑے یوٹیوبرز سعودی عرب اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات پر زہر افشانی کر رہے ہیں۔ بیرون ملک ہمارے سفارت خانوں، قونصل خانوںکی کمزوری ہے کہ وہ ان بھگوڑوں پر ہاتھ نہیں ڈال پا رہے، پاکستان کی سعودی عرب سے امداد کے حوالے سے بھی یہ لوگ پاکستانی تارکین وطن کو ورغلا رہے ہیں، ترسیلات زر کو پاکستان کے لئے سعودی قرضوںکی ضمانت کے حوالے سے، ان بے وقوفوںکو کوئی بتائے کہ دنیا کی بدلتی ہوئی معاشی صورتحال میں ممالک کے درمیان مالی تعاون کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ روایتی قرضوں اور امداد کی جگہ اب ایسے ماڈلز سامنے آ رہے ہیں جن میں مستحکم آمدنی کے ذرائع کو بطور ضمانت پیش کیا جاتا پاکستان کی معیشت میں ترسیلاتِ ذر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر بیرونِ ملک پاکستانی، خاص طور پر سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہ رقوم زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں،روپے کی قدر کو مستحکم رکھتی ہے، درآمدات کی ادائیگی میں مدد دیتی ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو ترسیلات ایک مستقل اور نسبتاً مستحکم مالی بہا¶ہیں، جو کسی بھی قرض دہندہ کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ عام طور پر جب کوئی ملک قرض لیتا ہے تو قرض دینے والا ادارہ یا ملک اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ اس کی رقم واپس مل جائے گی۔ اس کے لیئے اثاثے گروی رکھے جاتے ہیںیا مستقبل کی آمدنی کو بنیاد بنایا جاتا ہے اس طرح یہاں ترسیلاتِ زر کو بطور “Future Cash Flow Guarantee”** استعمال کرنے کا تصور سامنے آتا ہے۔یعنی پاکستان کا یہ موقف کہ ہمارے پاس ہر سال اربوں ڈالر کی یقینی آمدنی (remittances) آتی ہے، جو قرض کی واپسی کو ممکن بناتی ہے۔پاکستان ایسے بانڈز جاری کر سکتا ہے جو ترسیلاتِ زر سے منسلک ہوں۔سعودی سرمایہ کار یا ادارے ان میں سرمایہ لگائیںواپسی کی remittance flows سے ensure ہو، بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ کو حکومت کی ایک مخصوص اکاﺅنٹ میں جمع کرے جس سے قرض کی ادائیگی ہو، حکومت کیلئے اب صورتحال کے لئے بہت اہم ہے کہ ترسیلات کے بہا¶ کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی پالیسیاں بنائی جائیں 
گی ،بینکنگ چینلز کو مضبوط کیا جائے گا، بنک اچھے ریٹ دے ، حکومت زرمبادلہ بھیجنے والوںکیلئے ”کاغذی “ نہیں بلکہ آسان انعامات کااعلان کرے ، سعودی عرب سے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والے زرمبادلہ کی مقدار الحمدللہ روز بروز بڑھ رہی ہے، زرمبادلہ ضمانت بنانے سے شرح سود میں کمی اور قرض کی ادائیگی کی مدت کم ہوسکتی ہے، زرمبادلہ کی ضمانت سے سمندر پار پاکستانی صرف رقم بھیجنے والے مشہور زمانہ ”ریڑھ کی ہڈی“ نہیں بلکہ معیشت کے سٹیک ہولڈرز بن جائینگے دنیا میں کئی ممالک نے اس طرح کے ماڈلز استعمال کیے ہیں۔ فلپائن، مصر، نائجیریا نے diaspora bonds جاری کیے اس پالیسی کی کامیابی میں سعودی عرب میںپاکستان کے سفارت خانے اور قونصل خانوںپر سب اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں پاکستانیوںکو آگاہ کریںکہ آپ کا زرمبادلہ آپکا ہی ہے، نیز سعودی عرب میں مزید تعلیم یافتہ ہنرمند لوگوں کیلئے مضبوط ملازمتوں کی کوششیں کی جائیں، اس بات کو اپنے ذہن میں رکھیںکہ خود سعودی عوام کیلئے ملازمتوں کو اولیت ہے اور یہ ہر ملک کا فرض ہے کہ اسکے عوام روزگار حاصل کریں اسکے باوجود بے شمار پیشے ایسے ہیں، جہاں پاکستانیوںکی کھپت ممکن ہے، جدہ میںموجود پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے جدہ میں اپنی تعیناتی کے اول روز سے ہی اپنے ماتحت افسران کی سرگرمیاںتیز کی ہیں اور خود بھی ممکنہ روزگار کے اداروںمیںدورے کررہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے ۔

مزیدخبریں