بلوچستان کی مٹی میں صرف معدنیات ہی نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی صلاحیت بھی دفن ہے، مگر اس مستقبل تک پہنچنے کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ کبھی بدامنی، کبھی سازشیں اور کبھی بیرونی مداخلت نے اس خطے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار ایک طاقت ایسی بھی رہی جس نے پاکستان کا ہاتھ تھاما اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھایا۔ یہ طاقت ہے پاکستان آرمی اور دوست ملک چین، جس نے وقتاً فوقتاً نہ صرف پاکستان پر اعتماد کیا بلکہ عملی طور پر سرمایہ کاری کر کے اس اعتماد کو ثابت بھی کیا۔ آج جب بلوچستان میں 2.6 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان سامنے آ رہا ہے تو یہ دراصل اسی طویل اور مضبوط دوستی کا تسلسل ہے۔
چین اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد 1963 میں اس وقت پڑی جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پایا۔ اس کے بعد 1978 میں قراقرم ہائی وے کی تکمیل نے دونوں ممالک کو زمینی طور پر جوڑ دیا، جو آج بھی دوستی کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے۔ 2002 سے 2006 کے درمیان گوادر بندرگاہ کا پہلا مرحلہ چین کے تعاون سے مکمل ہوا، جس نے بلوچستان کو عالمی تجارت کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا نے پہلی بار محسوس کیا کہ چین پاکستان کو محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
اصل معاشی انقلاب 2015 میں آیا جب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان ہوا، جس میں توانائی، سڑکوں، ریلویز اور صنعتی زونز کے منصوبے شامل تھے۔ 2017 میں ساہیوال کول پاور پلانٹ فعال ہوا، 2018 میں پورٹ قاسم پاور پلانٹ نے بجلی کی پیداوار شروع کی، جبکہ 2019 تک کئی موٹرویز اور سڑکیں مکمل ہو چکی تھیں۔ ان منصوبوں نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور معیشت کو نئی رفتار دی۔
2026 میں بلوچستان میں 2.6 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں معدنیات، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کریں گے بلکہ بلوچستان کو ایک معاشی حب میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر گوادر، تربت اور دیگر علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں تیز ہوں گی، جس سے پورے خطے میں خوشحالی کے اثرات مرتب ہوں گے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی پاکستان اور چین نے ترقی کی طرف قدم بڑھایا، کچھ دشمن عناصر نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ بھارت کی فنڈڈ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بارہا چینی مفادات کو نشانہ بنایا۔ نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا، جس کا مقصد واضح طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانا تھا۔ جون 2020 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ہوا، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملے میں چینی اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا، جو ایک انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ تھا۔ اسی طرح اگست 2021 میں گوادر میں چینی انجینئرز کے قافلے پر حملہ کیا گیا۔
ان تمام کارروائیوں کا مقصد ایک ہی تھا: پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کو کمزور کرنا اور سرمایہ کاری کے عمل کو سبوتاڑ کرنا۔ یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ متعدد مواقع پر بھارت پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایسے عناصر کی پشت پناہی کر کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ 2016 میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے ان خدشات کو مزید تقویت دی، جس نے یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دینے کے لیے بیرونی ہاتھ بھی سرگرم ہیں۔
لیکن ان تمام سازشوں اور حملوں کے باوجود چین اور پاکستان کے تعلقات میں کبھی دراڑ نہیں آئی۔ ہر حملے کے بعد دونوں ممالک نے مزید عزم کے ساتھ اپنے منصوبوں کو جاری رکھا اور یہ پیغام دیا کہ دہشت گردی ترقی کے سفر کو نہیں روک سکتی۔ چین نے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ وہ مشکل وقت میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اور یہی وہ اعتماد ہے جو اس شراکت داری کو دنیا کی منفرد ترین دوستی بناتا ہے۔
آج بلوچستان میں ہونے والی نئی سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ترقی کا عمل جاری ہے۔ یہ منصوبے نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ صوبے میں استحکام، روزگار اور خوشحالی کے نئے دروازے بھی کھولیں گے۔ چین اور پاکستان کی دوستی محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ تعلق ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری ایک نئی صبح کی نوید ہے۔ دشمن چاہے جتنی بھی کوشش کر لے، حقیقت یہی ہے کہ ترقی کا پہیہ رکنے والا نہیں۔ پاکستان اور چین کا رشتہ اعتماد، قربانی اور مشترکہ مفاد پر مبنی ہے، اور یہی رشتہ آنے والے وقت میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں سرمایہ کاری کا انقلاب اور دشمنوں کی ناکام چالیں
08:58 AM, 19 Mar, 2026