پاکستان جو پہلے ہی شرحِ خواندگی کے حوالے سے ایک طویل عرصے سے مسائل کا شکار رہا ہے، وہاں حالیہ حکومتی پالیسیوں اور غیر معمولی حالات نے شعبہ تعلیم کو مزید زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں تعلیم کو ترقی کی بنیاد ہونا چاہیے تھا، وہاں تعلیمی ادارے کبھی سکیورٹی خدشات، کبھی صحت کے بحران، اور اب جنگی صورتحال کے نام پر طویل تعطیلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس مسلسل تعطل نے نہ صرف تعلیمی نظام کو مفلوج کر دیا ہے بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو بھی ایک غیر یقینی دھند میں لپیٹ دیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے اب مستقل بنیادوں پر کھلے رہنے کے بجائے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ کبھی دہشت گردی کے خدشات، کبھی وبائی امراض اور کبھی علاقائی کشیدگی کے باعث اسکولوں اور کالجوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر وہ طالبعلم ہوتے ہیں جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ تعلیم کے تسلسل کا ٹوٹ جانا ان کے سیکھنے کے عمل کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، اور یہی خلا آگے چل کر پوری قوم کی فکری اور معاشی کمزوری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جب بھی تعلیمی اداروں کی بندش کا معاملہ سامنے آتا ہے تو ایک آسان حل کے طور پر آن لائن تعلیم کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک جدید اور قابلِ عمل حل نظر آتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ دیہی علاقوں میں تو انٹرنیٹ ایک خواب سے کم نہیں، جبکہ شہری علاقوں میں بھی اس کی رفتار اور تسلسل ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ کا عذاب الگ سے موجود ہے، جو آن لائن تعلیم کے تصور کو مزید غیر مو¿ثر بنا دیتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر بچے کو آن لائن تعلیم تک یکساں رسائی حاصل ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کے بچے جدید آلات اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، تو دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کے بچے بنیادی سہولتوں سے محروم رہ کر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یوں تعلیمی نظام میں ایک واضح طبقاتی تقسیم جنم لے رہی ہے، جو مستقبل میں مزید گہری خلیج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
حالیہ رپورٹس نے اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ گیلپ پاکستان کے قومی سروے پر مبنی تجزیے کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ ایک المیہ ہیں، جو اس قوم کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ثبت کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق 34 فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ لڑکوں کی یہ شرح 22 فیصد ہے۔یہ صنفی عدم مساوات ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بیٹیوں کو تعلیم سے محروم رکھا جائے، وہ کبھی ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ تعلیم صرف ایک فرد کا حق نہیں بلکہ پوری قوم کی ضرورت ہے، اور جب آدھی آبادی کو اس سے محروم رکھا جائے تو ترقی کا خواب ادھورا ہی رہتا ہے۔ جغرافیائی تفاوت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ دیہی علاقوں میں 34 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 18 فیصد ہے۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم کس طرح تعلیمی مواقع کو محدود کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں کی لڑکیاں اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جو صنفی اور علاقائی محرومی کے دوہرے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال محض ایک تعلیمی بحران نہیں بلکہ ایک قومی ایمرجنسی ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے سالوں میں ہمیں ایک ایسی نسل کا سامنا کرنا پڑے گا جو نہ صرف تعلیم سے محروم ہوگی بلکہ ہنر اور شعور سے بھی عاری ہوگی۔ یہ وہ خلا ہے جو نہ صرف معیشت بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرے گا۔ اگرچہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ مجموعی طور پر تعلیم تک رسائی میں کچھ بہتری آئی ہے اور 10 سال یا اس سے زائد عمر کے 67 فیصد افراد نے کسی نہ کسی وقت سکول میں تعلیم حاصل کی ہے، مگر یہ بہتری اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب لاکھوں بچے مکمل طور پر نظامِ تعلیم سے باہر ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور دیرپا تعلیمی پالیسی مرتب کرے۔ ایسی پالیسی جو صرف اعلانات تک محدود نہ ہو بلکہ عملی طور پر نافذ بھی کی جائے۔ سب سے پہلے تو تعلیمی اداروں کی غیر ضروری بندشوں کو کم سے کم کیا جائے اور اگر بندش ناگزیر ہو تو اس کے متبادل کے طور پر ایک مو¿ثر نظام پہلے سے موجود ہو۔
آن لائن تعلیم کو ایک حقیقت بنانے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر بنانا ہوگا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر آن لائن تعلیم کا خواب محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی بیسڈ تعلیمی مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں جہاں محدود وسائل کے باوجود بچوں کو تعلیم فراہم کی جا سکے۔ اساتذہ کی تربیت اور ان کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ ایک اچھا استاد ہی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ سماجی سائنسدانوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آخر میں سوال وہی ہے جو ہمیں بار بار جھنجھوڑتا ہے: کیا ہم واقعی اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی قوم بننا چاہتے ہیں جو جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی رہے، یا ہم علم کی روشنی سے اپنا راستہ روشن کرنا چاہتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج ہمیں کرنا ہوگا، کیونکہ اگر ہم نے آج کو نظر انداز کیا تو آنے والا کل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔
تعلیم کا بحران!!!
08:56 AM, 19 Mar, 2026