ہم بلاشبہ دنیا کی صفِ اوّل کی افواج میں شمار ہوتے ہیں۔ ہمارے سپاہی کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور قربانی کی روایت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کی طاقت صرف بندوق کی نالی سے پھوٹتی ہے؟ یا پھر فیکٹریوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں، بندرگاہوں کی گہماگہمی اور منڈیوں کی چہل پہل بھی طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے؟دنیا نے اس سوال کا جواب بہت پہلے دے دیا تھا۔چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی۔یہ وہ ممالک ہیں جو جنگوں، تباہیوں اور داخلی بحرانوں سے گزرے۔ مگر انہوں نے ایک فیصلہ کیا: ہم معیشت کو ہتھیار بنائیں گے۔“چنانچہ انہوں نے بندوق کے ساتھ ساتھ کارخانے کھڑے کیے، بندرگاہوں کو آباد کیا اور اپنی ریاستی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دیا۔ آج وہی ممالک عالمی معیشت کے ستون بنے کھڑے ہیں۔ہم کیوں معاشی طاقت نہیں بن سکتے؟ جواب تلخ ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم نے نظام بدلنے کے بجائے صرف بیانیے بدلے ہیں۔میں خود بھی ایک عرصے تک یہ سمجھتا رہا کہ افسر شاہی کے بارے میں گردش کرنے والی کہانیاں مبالغہ آرائی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک افسر ملک کے مفاد کے خلاف جائے یا وہ کام نہ کرے جو ریاست کے لیے ضروری ہو؟مگر پچھلے چند برسوں نے یہ خوش فہمی پوری طرح توڑ دی۔میں نے خود دروازے کھٹکھٹائے۔ اعلیٰ سطح تک رسائی حاصل کی۔ تجاویز پیش کیں۔ٹھوس، قابلِ عمل اور ملک کے لیے فائدہ مند تجاویز۔ انہیں سراہا بھی گیا، منظور بھی کیا گیا اور وعدے بھی کیے گئے کہ ”ہم اس پر عمل کریں گے۔“ مگر پھر؟۔۔وہی پرانی کہانی: فائل، خاموشی اور انتظار۔یہ خاموشی محض تاخیر نہیں، یہ ایک پورا نظام ہے۔ایسا نظام جہاں کچھ نہ کرنا سب سے محفوظ راستہ ہے، اور فیصلہ کرنا سب سے بڑا خطرہ۔ایک طرف ہم ایک ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے در پر دستک دیتے ہیں، دوسری طرف ہمارے اپنے لوگ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش لے کر کھڑے ہوتے ہیںاور ہم انہیں جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔
امانا مال کے عابد بٹ صاحب کے ساتھ ”پاکستان اکنامک موومنٹ“ کے پلیٹ فارم سے ہم نے بھرپور کوشش کی۔وہ صدر اور میں جنرل سیکرٹری ہوں۔ہم نے خطوط لکھے، یاد دہانیاں بھیجیں، فون کیے۔ وزیراعظم آفس سے لے کر وزیراعلیٰ پنجاب تک بات پہنچی۔مگر جواب؟ خاموشی۔ کچھ افسران ایسے بھی ملے جو مخلص تھے، سنجیدہ تھے اور واقعی کچھ کرنا چاہتے تھے۔ وہ ہماری بات سمجھتے، آگے پہنچاتے، مگر پھر ایک جملہ بار بار سننے کو ملا:”آگے جا کے میں فیل ہو جاتا ہوں، میں کیا کروں؟‘یہ جملہ کسی ایک فرد کی کمزوری نہیں، پورے نظام کی عکاسی کرتا ہے۔یہاں ناکامی کا خوف اتنا بڑا ہے کہ کامیابی کی کوشش بھی دم توڑ دیتی ہے۔پھر آپ ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو اس ملک کے اصل اثاثے ہیں۔کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے انور سعید،جو عالمی سطح پر گرین انرجی کے میدان میں پہچان رکھتے ہیں۔میرا کالم پڑھ کر مجھ سے رابطہ کیا۔کہتے ہیں:”مجھے پیسوں کی کمی نہیں، میں ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔“پروفیسر انور سعید، جو پچاسی برس کی عمر میں بھی امید کا چراغ جلائے کھڑے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بغیر سرمایہ لیے گرین انرجی کے شہر بنا سکتے ہیں۔ وہ اپنے سائنسی پس منظر کو ڈاکٹر عبدالسلام کی روایت سے جوڑتے ہیں، مگر ان کی آواز بھی اسی خاموشی میں گم ہو جاتی ہے جس نے اس نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
حال ہی میں پیرس سے آئے بزنس ٹائیکون شیخ مبشر نے ایک نہایت سادہ مگر مو¿ثر تجویز پیش کی کہ اگر موبائل کمپنیوں کا سافٹ ویئر تبدیل کر دیا جائے تو حکومت سالانہ 1.2 ارب ڈالر بچا سکتی ہے۔وہ پچیس دن سے اسلام آباد میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے رہے، اہم شخصیات سے ملے، مگر نتیجہ؟وہی خاموشی، وہی بے حسی۔کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ ”موبائل کمپنیوں سے بچ کر رہیں’“۔گویا مسئلہ حل کرنے کے بجائے اس سے دور بھاگنا ہی دانشمندی ہے۔اسی تناظر میں، جب میری فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی تو میں نے کراچی سے گوادر تک ایک ہزار تریسٹھ کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو ترقی دینے کی تجویز پیش کی۔یہ پٹی واقعی سونے کی چڑیا ہے۔اگر اسے سیاحت، شپنگ، فشریز اور صنعتی زونز کے لیے استعمال کیا جائے تو نہ صرف قرض اتارا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان قرض دینے والے ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔مجھے کہا گیا کہ ایکشن پلان بنا کر پیش کریں۔چنانچہ ماہرین کی ایک ٹیم بنائی گئی، جس میں اعلیٰ انتظامی افسران اور کاروباری ماہرین شامل تھے۔ دو سو بیس صفحات پر مشتمل ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا، جس میں ٹورازم، شپ مینوفیکچرنگ، فش ایکسپورٹ اور دیگر شعبوں کے لیے واضح لائحہ عمل موجود تھا۔یہ منصوبہ ڈی جی سپیشل انوسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل تک پہنچا دیا گیا۔مگر اس کا انجام؟ سرکار کی جانب سے نہ کوئی جواب، نہ ایک سادہ سا شکریہ کا خط۔یہ وہی حکومت ہے جو اسی نوعیت کی فزیبلٹی پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہے، مگر جب کوئی شہری اپنی جیب سے خرچ کر کے ملک کے لیے منصوبہ پیش کرتا ہے تو اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ رویہ صرف بے حسی نہیں، بلکہ ایک قومی نقصان ہے۔میں نے ایک اور دنیا بھی دیکھی ہے،جہاں ایک ہی میز پر عرب شہزادے کے نمائندے، اٹلی، چین اور جرمنی کے سرمایہ کار بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہیں سوال ہوتا ہے، وہیں جواب ملتا ہے اور وہیں فیصلہ ہو جاتا ہے۔کوئی تاخیر نہیں، کوئی خوف نہیں، کوئی بہانہ نہیں۔اور یہاں؟ یہاں ہم ایک سادہ سی”سٹڈی کونسل“ بھی نہیں بنا سکتے۔ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں آئیڈیاز کو سنا جائے، جانچا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک وسائل سے غریب نہیں، بلکہ ارادے اور عملدرآمد کی کمی کا شکار ہے۔جب تک افسر شاہی میں حقیقی جوابدہی نہیں آئے گی، جب تک فیصلہ میں تاخیر کے ذمہ داروں کا احتساب نہیں ہوگا،جب تک فائل روکنا جرم نہیں بنے گا، تب تک نہ سو ارب ڈالر آئیں گے، نہ گرین انرجی کے شہر بسیں گے، نہ یہ ملک معاشی طاقت بن سکے گا۔ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا ہم صرف ایک مضبوط فوج بنے رہنا چاہتے ہیں؟یا ایک مضبوط معیشت بھی تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ دنیا بدل چکی ہے۔ آج جنگیں میدانوں میں نہیں، منڈیوں میں جیتی جاتی ہیں۔اور اگر ہم نے اب بھی نہ سمجھا،تو تاریخ ہمیں ایک ایسے ملک کے طور پر یاد رکھے گی۔جس کے پاس سب کچھ تھا،سوائے فیصلے کی بروقت صلاحیت کے۔
ہمارا دفاع مضبوط ، مگر معیشت کیوں کمزور ہے؟
08:55 AM, 19 Mar, 2026