اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے بادلوں کے درمیان پاکستان نے اپنا فعال سفارتی کردار سنبھال لیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار آج سعودی عرب کے دو روزہ اہم دورے پر ریاض روانہ ہو ں گے، جہاں وہ علاقائی وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا موقف پیش کریں گے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار ریاض میں برادر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ دورے کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں۔ پاکستان برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعلان کرے گا۔ برادر ممالک کی سرزمین پر جاری بیرونی حملوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
خطے میں جاری مسلح تنازعات کے فوری اور پائیدار حل پر زور دیا جائے گا۔سعودی عرب روانگی سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترک وزیر خارجہ سے تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دونوں ممالک نے خطے کی بدلتی صورتحال اور بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان اور ترکی نے اتفاق کیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات میں پنہاں ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کا یہ دورہ پاکستان کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ اس دورے کے دوران ریاض میں اہم سائیڈ لائن ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
خطے میں امن کی سفارتکاری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار دو روزہ اہم دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے
01:49 PM, 18 Mar, 2026