افغانستان میں 'تاریکی اور جہالت' کے خلاف بغاوت: نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا قیام، نوجوانوں کا مسلح جدوجہد کا اعلان

12:56 PM, 18 Mar, 2026

کابل: افغانستان میں طالبان کی مبینہ انتہا پسندی اور جبری اقتدار کے خلاف ایک نئی اور طاقتور مزاحمتی لہر نے جنم لے لیا ہے۔افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے غیرت مند نوجوانوں نے 'نیشنل موبلائزیشن فرنٹ' کے قیام کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے موجودہ رجیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عہد کر لیا ہے۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں طالبان کے طرزِ حکمرانی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات بیان کیے گئے ہیں۔ طالبان افغان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ ایک غاصب گروہ ہیں جنہوں نے ملک کے مستقبل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، طالبان رجیم کسی سیاسی مکالمے یا جدید سمجھ بوجھ کی قائل نہیں، بلکہ یہ محض 'تاریکی اور جہالت' کا مجموعہ ہے۔ فرنٹ نے واضح کیا کہ افغان مٹی کے بیٹے اور بیٹیاں اپنے وطن کو اس گروہ کے چنگل سے آزاد کرانے کے لیے اب میدانِ عمل میں نکل آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کو افغانستان کے ان حساس علاقوں میں بھرپور پذیرائی مل رہی ہے جہاں ماضی میں بھی طالبان مخالف جذبات نمایاں رہے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اس فرنٹ کا حصہ بن رہی ہے، جس سے خطے میں ایک نئی داخلی جنگ کے سائے گہرے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی اس منظم مزاحمت سے طالبان کے لیے اپنی گرفت برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ طالبان کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

مزیدخبریں