برطانوی وزیراعظم نے ایران امریکہ جنگ میں حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے جنگ کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ مہنگائی کے خاتمے کا سیدھا اور فوری راستہ جنگ بندی ہے اس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کر کے آبنائے ہرمز کھولنے سمیت دیگر معاملات حل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یوکرائن جنگ کے بند کرنے کے حوالے سے بھی امیدافزا بات کی۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو بھی دھمکی لگا دی ہے کہ وہ اس جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔ جرمن چانسلر کے ترجمان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کا نیٹو اتحاد سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا پہلے ہی اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اٹلی و فرانس نے بھی انکار ہی کیا ہے۔ چین نے امریکی صدر کی پیشکش کا جواب ہی نہیں دیا ہے گویا وہ بھی اپنے جنگی جہاز ہرمز کھلوانے کے لئے بھجوانے سے انکاری ہے، اٹلی کے وزیر دفاع نے سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی صدر نے چین سے کہا ہے کہ وہ اس کی جنگی جہاز بھیجنے کی بات کا جلدی جواب دیں وگرنہ چین کا دورہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ کے یورپی اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں ویسے امریکی صدر نیٹو کے بارے میں جو ارشاد عالیہ فرما چکے ہیں اس کے بعد تو انہیں ان سے کسی قسم کی مدد کی امید نہیں کرنی چاہئے تھی چین تو اس جنگ کا سردست خوشہ چین لگ رہا ہے ایران کا چینی جہازوں کو یہاں سے گزرنے کی اجازت دینااور دیگر ایسے جہازوں کو بھی جو ڈالر کی بجائے یوآن میں لین دین کریں، اجازت دینا ایک ایسی پیشرفت ہے جس کا سراسر فائدہ چین کو حاصل ہو گا۔ اس جنگ سے پہلے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح نے بھی چینی حربی و ضربی برتری ثابت کی تھی اب اس جنگ میں فی الوقت امریکہ کی جو رسوائی ہو رہی ہے اس سے چین کی عالمی برتری کا گراف بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اس لئے چین تو چاہے گا کہ امریکہ جنگ میں گھستا ہی چلا جائے اسے مار پڑتی رہے ، یہی وجہ ہے کہ چین بڑے محتاط انداز سے ایران کی مدد کر رہا ہے چینی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران تاک تاک کر امریکی اہداف پر نشانے لگا رہا ہے جس سے امریکی طاقت و عظمت کے بت پر سنگ باری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ افغانستان میں عسکری شکست سے پہلے ہی امریکہ کی خاصی بے عزتی ہو چکی ہے اب ایران کے ہاتھوں پٹائی اس میں اضافہ کرتی نظر آ رہی ہے۔
جنگ بند کرنے کی کنجی دو پارٹیوں کے پاس ہے۔ ایک امریکہ کہ وہ یکطرفہ طور پر خود ہی اپنی فتح کا اعلان کر کے جنگ بند کرنے کا اعلان کر دے۔ امریکہ کہے کہ ہم نے مطلوبہ اہداف حاصل کر لئے ہیں اس لئے اب جنگ بند کر رہے ہیں ویسے امریکی صدر تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم نے ایران کی نیوی مکمل طور پر تباہ کر دی ہے، اسے ایٹمی صلاحیت سے بھی محروم کر دیا ہے، اس کی لڑنے مرنے کی صلاحیت بھی کمزور کر دی ہے، وہ ہرمز بند نہیں کر سکتا ہے لیکن دنیا نے دیکھا اور ماہرین نے سوال کئے کہ اگر ایرانی نیوی تباہ ہو چکی ہے تو پھر آبنائے ہرمز کس نے بند کی ہے جسے کھلوانے کے لئے امریکہ دیگر ممالک کے جنگی جہازوں کی مدد طلب کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے ایسے بیانات کو دنیا اب ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی ہے۔ ویسے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ امریکی صدر ایک بار پھر اس قسم کے بیانات دے کر اپنے طور پر جنگ بند کرنے کا اعلان کر دیتے ہیں تو کیا ایران امریکی اہداف پر حملے بند کر دے گا؟ ہرگز نہیں۔ ایران تو لڑنے مرنے اور مارنے پر تلا بیٹھا ہے۔ ایرانی سردست شکست تسلیم کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں وہ خاصا نقصان اٹھا چکے ہیں، اٹھا رہے ہیں اور مزید نقصان اٹھانے کے لئے تیار نظر آ رہے ہیں۔ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کرنے اور جنگ بند کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہے ہیں جبکہ امریکہ پر پیچھے ہٹنے اور جنگ بند کرنے کے لئے دباﺅ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی معیشت کی شہ رگ پر ہاتھ نہیں پاﺅں رکھ دیا ہے۔ یہ عالمی معیشت کا گلا دبانے/ سانس بند کرنے کے مترادف ہے۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں زلزلے کی کیفیت ہے، سٹاک مارکیٹوں میں شدید ہیجان برپا ہو چکا ہے۔ داخلی طور پر بھی امریکہ میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا پاگل پن امریکی معیشت کے لئے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ امریکہ نے جنوبی کوریا میں رکھا گیا اپنا کچھ عسکری سازوسامان بشمول تھاڈ میزائل وہاں سے کہیں اور منتقل کئے ہیں جس سے جنوبی کوریا میں خوف کا عنصر ابھرا ہے کہ اگر ایسے میں شمالی کوریا نے کچھ حرکت کر دی تو کیا ہو گا۔ شمالی کوریا نے ایسے میں 12/10 میزائل ٹیسٹ فائر کر کے اس خوف و ہراس میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے اس کے اتحادیوں کو نالاں کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تنہا ہوتے نظر آ رہے ہیں، عالمی معیشت حقیقی مسائل کا شکار ہو چلی ہے۔
اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی تاریخی ہے۔ اسرائیلی اس سے پہلے عربوں کے ساتھ نمٹتے رہے ہیں ان پر فتح یاب بھی ہوتے رہے ہیں، یہودی عربوں کو فکری طور پر ناکارہ بنا چکے ہیں۔ عربوں نے جس طرح عثمانیوں کے خلاف انگریزوں کے ساتھ مل کر سازش کی اور پھر وہ بادشاہتوں کے مالک بنے، عرب نیشنل ازم کے ذریعے عربوں میں اسلامی حمیت کا خاتمہ کیا گیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ 480 ملین عرب 90 ملین یہودیوں کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ آج اسرائیل ان کی زمینیں ہتھیا کر گریٹر اسرائیل تعمیر کرنے کا برملا اعلان کر رہا ہے اور عربوں میں ہمت نہیں کہ اس کی زبان پکڑ سکیں۔ وہ اپنی مقدس کتاب کا حوالہ بھی دیتے ہیں ریاست اسرائیل کو وعدہ خداوندی بھی قرار دیتے ہیں، عربوں کی زبانیں گنگ ہیں، وہ مال اور تعداد میں کثیر ہونے کے باوجود یہودی ریاست سے ڈرے سہمے ہیں۔ اب ان کا واسطہ ایک عجمی قوم سے پڑا ہے جس نے اسرائیلی طاقت و ہیبت کا بت پاش پاش کر دیا ہے۔ اسرائیل کے تمام دفاعی حصار ٹوٹ چکے ہیں، ایرانی میزائل قہر خداوندی بن کر اسرائیلی شہروں پر برس رہے ہیں۔ اسرائیلیوں کو عجمی طاقت کا اندازہ ہونے لگا ہے لیکن ایک بات اسرائیل کے حق میں جاتی ہے کہ اس نے بڑی مہارت اور ذہانت کے ساتھ امریکہ کو ایران کے مقابل لاکھڑا کیا ہے، ایران بڑی بہادری کے ساتھ امریکی اہداف پر تاک تاک کر نشانے لگا رہا ہے۔ امریکی قیادت عالمی تنہائی کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ٹرمپ کی احمقانہ قیادت نے امریکہ کو رسوا کر دیا ہے۔ ایک بات بہت خطرناک ہے اور وہ ہے ٹرمپ کی حماقتیں۔ چھوٹی چھوٹی حماقتیں بڑی تباہی کا سبب بن رہی ہیں ، ڈر ہے کہ کہیں یہ احمق اپنی چھوٹی چھوٹی حماقتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کوئی بڑی حماقت نہ کر ڈالے اور دنیا کسی بڑی مصیبت کا شکار ہو جائے۔
ٹرمپ کی حماقتیں اور عالمی معیشت کا انجام
09:06 AM, 18 Mar, 2026