آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی اثرات

09:06 AM, 18 Mar, 2026

خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی ابنائے ہرمز زمین کے سینے پر ایک ایسی شہ رگ ہے جس کی جنبش سے پوری دنیا کا معاشی نظام سانس لیتا ہے جغرافیائی لحاظ سے یہ تنگ سی پٹی ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز مانی جاتی ہے اگر کبھی یہ راستہ بند ہوا تو سعودی عرب اور کویت سمیت متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیٹرولیم مصنوعات قید ہو کر رہ جائیں گی اس بندش کا براہ راست اثر صرف ان ممالک پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ عراق کی معیشت بھی اس کی لپیٹ میں آئے گی کیونکہ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں کا رخ کرتا ہے جس کی منزلیں زیادہ تر چین اور جاپان کے ساتھ ساتھ بھارت اور جنوبی کوریا کی صنعتیں ہوتی ہیں جب اس گزرگاہ سے تیل کی سپلائی منقطع ہوگی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان کوئی فرق نہیں چھوڑے گا عالمی طاقتیں اس راستے کی حفاظت کو اپنی بقا سمجھتی ہیں کیونکہ یہاں پیدا ہونے والا معمولی سا تنازع بھی پورے کرہ ارض کو ایک شدید معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے آبنائے ہرمز کی بندش درحقیقت عالمی صنعتی پہیے کو جام کرنے کے مترادف ہے جس کے بعد دنیا بھر کے کارخانے اور ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا یہی وجہ ہے کہ اقوام عالم اس خطے میں ذرا سی بھی کشیدگی کو پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والے بارود کے بادل جب عالمی افق پر چھانے لگتے ہیں تو پاکستان کا کردار ایک ایسی ڈھال کی مانند ابھرتا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ عزائم کی راہ میں پاکستان کا سٹرٹیجک دفاعی حصار ایک ایسی رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا دشمن کے لیے محال دکھائی دیتا ہے پاکستان کی ایٹمی قوت اور اس کی ناقابل تسخیر فوجی صلاحیت نے درحقیقت ایران کے گرد ایک غیبی حصار قائم کر رکھا ہے جس کی موجودگی میں اسرائیل کو یہ جرا¿ت نہیں ہوتی کہ وہ تہران پر کسی ایٹمی حملے کا خواب بھی دیکھ سکے کیونکہ پاکستان کی فوجی قیادت اور عوامی جذبات ہمیشہ سے مظلوم اسلامی ریاستوں کے حق میں دھڑکتے رہے ہیں تہران اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتا ہوا سکیورٹی تعاون اور خفیہ دفاعی مشاورت عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر خطے میں کسی ایٹمی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کی لہریں صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پاکستان کا جدید ترین میزائل نظام اور فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے یہی وہ مضبوط وجہ ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کو کسی بڑے اقدام سے باز رکھتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کا ساتھ ایران کے لیے ایک ایسی فولادی دیوار ہے جسے گرانا ناممکن ہے تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ محبت اور خلوص کا رشتہ نبھایا ہے مگر تہران کا جھکاو¿ ہمیشہ سے دہلی کی جانب رہا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے نریندر مودی کے اسرائیل نواز بیانات اور ایران کو دہشت گرد قرار دینے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سٹریٹجک معاہدوں کا تسلسل اور آبنائے ہرمز میں بند ہندوستانی جہازوں کو راستہ دینا اس تضاد کو واضح کرتا ہے کہ ایران اپنی مصلحتوں کو اسلامی اخوت پر ترجیح دیتا ہے ماضی کی پاک بھارت جنگوں میں بھی جب پاکستان بقا کی جنگ لڑ رہا تھا تب ایران بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانے میں مصروف تھا لیکن اسلام آباد نے ان تلخ رویوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہوئے ہمسائیگی کا حق ادا کیا آج جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان میں موجود ایک مخصوص طبقہ جذباتی ہو کر اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے جو سراسر حماقت اور نادانی ہے اپنے گھر کو آگ لگا کر کسی دوسرے ملک سے ہمدردی جتانا نہ تو دانش مندی ہے اور نہ ہی حب الوطنی کا تقاضا ہے کیونکہ جب مشکل وقت آتا ہے تو تہران کی ترجیحات میں پاکستان نہیں بلکہ اپنے مفادات مقدم ہوتے ہیں عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی ہی سب سے مقدم ہے اور جذباتی وابستگیوں کی آڑ میں ملک دشمنی کے عناصر کو پنپنے کا موقع دینا اپنی ہی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان کی بے لوث حمایت اور سٹریٹیجک تعاون کے باوجود تہران کا منافقانہ رویہ اور سعودی عرب جیسے برادر ملک پر حملوں کی پشت پناہی ایک ایسی خلیج پیدا کر رہی ہے جسے پاٹنا مستقبل میں ناممکن دکھائی دیتا ہے اسلام آباد نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں مگر جواب میں طیاروں کی غیر قانونی بندش اور دفاعی شراکت داروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا سراسر احسان فراموشی کے مترادف ہے یہ تلخ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ دوستی کا سفر یکطرفہ جذبوں سے طے نہیں ہو سکتا اور اگر ایران نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو پاک ایران تعلقات کی بساط لپٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان کی ترجیحات میں اب اپنی قومی سلامتی اور مخلص اتحادیوں کا تحفظ سب سے مقدم ہو چکا ہے وقت کا تقاضا ہے کہ تہران اپنے طرز عمل سے ثابت کرے کہ وہ واقعی ایک خیر خواہ پڑوسی ہے ورنہ تاریخ کے اس موڑ پر بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کو اپنے مفادات کی خاطر سخت فیصلے کرنا ہوں گے جو شاید خطے کی جغرافیائی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیں اب یہ فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ محبت کا جواب محبت سے دیتا ہے یا پھر دشمنی کی آگ میں خود کو جھونک کر اس لازوال رشتے کی راکھ اڑانے کا باعث بنتا ہے۔

مزیدخبریں