پاکستان میں اگر آپ نے کوئی دکان نہیں کھولی، کوئی فیکٹری نہیں لگائی، یا کسی ایسے کاروبار سے وابستہ نہیں ہوئے جس کا براہِ راست واسطہ ریاستی مشینری سے نہ ہو اور آپ ایک سادہ سی ملازمت کر رہے ہیں، تو یقین مانیں آپ ایک پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے بھول کر بھی کاروبار کا راستہ اختیار کر لیا تو پھر ذہنی سکون کو خیرباد کہہ دیں، کیونکہ یہاں کاروبار صرف منافع کا نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان بن چکا ہے۔
پاکستان میں ایک کاروباری شخص اپنے اصل کام سے زیادہ وقت سرکاری اداروں کے تقاضے پورے کرنے میں صرف کرتا ہے۔ ٹیکسز کے پیچیدہ نظام، وفاقی و صوبائی اداروں کی بے جا مداخلت اور پالیسی اوور ریچ نے کاروبار کو ایک مشکل سفر بنا دیا ہے۔ ملک میں 110 سے زائد ایسے ادارے موجود ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں کاروبار کو ریگولیٹ کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات کی تقسیم نے جہاں کچھ مثبت اثرات مرتب کیے، وہیں وفاق اور صوبوں، دونوں سطح پر مداخلت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہر ادارہ اپنی عملداری بڑھانے میں مصروف ہے جبکہ کاروباری طبقہ اس کھینچا تانی میں پس رہا ہے۔ پاکستانی بیوروکریسی، جو برطانوی طرزِ حکمرانی کی وارث ہے۔ آج بھی خدمت کے بجائے حکمانہ انداز میں کام کرتی ہے اور بے پناہ اختیارات نے اس رویے کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان 2025 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 135ویں نمبر پر کھڑا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں اس کی درجہ بندی نچلے درجوں میں شمار ہوتی ہے۔ یعنی خطے میں بھی ہم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے۔ کمزور پالیسی عملدرآمد اور ناقص عوامی خدمات کا رویہ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات ہیں۔
حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت نے گورننس اور شہری سہولیات میں بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انفراسٹرکچر اپگریڈیشن، اینٹی انکروچمنٹ مہم، یکساں سائن بورڈز اور ''ستھرا پنجاب'' جیسے پروگرام بظاہر ایک ترقی یافتہ صوبے کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ تمام اقدامات نہ صرف ضروری ہیں بلکہ قابلِ تعریف بھی ہیں۔ لیکن مسئلہ ہمیشہ کی طرح عملدرآمد میں آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
ایک معروف جوتوں کے برانڈ کے مالک نے بتایا کہ رمضان میں رات گئے تک دکانیں کھلی رکھنے کی اجازت سے کاروبار میں بہتری آئی ہے مگر دوسری طرف ملتان، گوجرانوالہ، ساہیوال اور سرگودھا جیسے شہروں میں بیوٹیفیکیشن اور تعمیر نو کے منصوبے تین سے چھ ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً ان علاقوں میں کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے۔
اسی دوران یکساں سائن بورڈز کی مہم بھی شروع کر دی گئی، مگر اس کے لیے کوئی واضح صوبائی پالیسی موجود نہیں تھی۔ ہر شہر میں مقامی انتظامیہ نے اپنی پسند کے مطابق رنگوں کا انتخاب کیا، کہیں سرخ، کہیں نیلے اور کہیں سفید سائن بورڈ۔ برانڈز کو بڑی مشکل سے اپنے لوگو اور رنگ برقرار رکھنے کی اجازت ملی، مگر سائز کا تعین پھر بھی مقامی حکام کے ہاتھ میں رہا۔ نتیجتاً وہ عمارتیں جو پہلے سائن بورڈز کے پیچھے چھپی تھیں، اب اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ نمایاں ہو گئی ہیں۔ اسی طرح بلڈنگ قوانین میں بار بار تبدیلیوں اور دکانوں کو پیچھے ہٹانے کے عمل نے بھی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ متعلقہ علاقوں میں تعمیراتی کام غیر ضروری تاخیر کا شکار ہے۔
ستھرا پنجاب پروگرام بلاشبہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ صاف ستھرے شہر اور بہتر شہری ماحول ہر کسی کی خواہش ہے۔ مگر اس پروگرام کے تحت بھی پالیسی کی وضاحت نہ ہونے اور اوور بلنگ کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک معروف کپڑوں کے برانڈ کے مالک نے ساہیوال اور ملتان میں اپنی دکانوں کے بل شیئر کیے، جہاں مذکورہ دکان میں بنیادی سہولت یعنی باتھ روم تک موجود نہیں، مگر صفائی، پانی اور مینٹیننس کی مد میں سات سے دس ہزار روپے ماہانہ بل وصول کیے جا رہے ہیں۔ نہ کوئی واضح طریقہ کار، نہ کوئی شفاف حساب، یہ صورتحال کاروباری طبقے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان میں ڈومیسٹک کامرس پہلے ہی ٹیکسز اور کمپلائنسز کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں اس قسم کی اوور چارجنگ کاروباری طبقے کو مزید دبا¶ میں لا رہی ہے، اور خدشہ ہے کہ بہت سے کاروبار آہستہ آہستہ بند ہو جائیں گے۔
معاشی اشاریے بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ ملک کی ایکسپورٹس جمود کا شکار ہیں جبکہ درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ کر ابتدائی سات ماہ میں تقریباً 22 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، اور ایسے میں اندرونی تجارت پر مزید بوجھ ڈالنا کسی طور دانشمندی نہیں۔
پنجاب میں شہروں کو خوبصورت بنانے کے لیے رات کے وقت برقی چراغاں کی مہم بھی زوروں پر ہے۔ بلاشبہ روشن اور دلکش شہر ایک مثبت تاثر دیتے ہیں، مگر موجودہ توانائی بحران کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ ترجیح درست ہے؟ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس چراغاں کے اخراجات بھی کاروباری طبقے سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ کئی شہروں میں تاجروں سے لاکھوں روپے ''بیوٹیفیکیشن'' کے نام پر لیے جا رہے ہیں اور عدم تعاون کی صورت میں دکانیں سیل کرنے جیسے اقدامات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
یہ تمام صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے۔کیا پالیسی سازوں تک اصل تصویر پہنچ رہی ہے؟ بعید نہیں کہ اعلیٰ سطح پر بیوروکریسی کی جانب سے ''سب اچھا ہے'' کی رپورٹس پیش کی جا رہی ہوں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سب اچھا نہیں ہے۔ کاروباری طبقہ دبا¶ میں ہے، اعتماد کمزور ہو رہا ہے، اور پالیسی کے مثبت اثرات عملدرآمد کی نذر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت کے عوامی نمائندے خود نچلی سطح پر جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ محض فائلوں اور بریفنگز پر انحصار کرنے کے بجائے زمینی حقائق کو سمجھا جائے۔ مزید برآں، مقامی اور ملکی سطح کی نمائندہ تاجر تنظیموں کو اس مکمل اپ گریڈیشن پلان کا حصہ بنایا جائے، تاکہ پالیسی سازی اور عملدرآمد کے درمیان خلا کو کم کیا جا سکے۔خوف اور دبا¶ کے بجائے اگر تعاون اور اعتماد کا ماحول پیدا کیا جائے تو یہی اقدامات حقیقی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں مسئلہ پالیسی کا نہیں بلکہ عملدرآمد اور رویے کا ہے۔ جب تک یہ نہیں بدلتا، کاروبار ایک موقع نہیں بلکہ سزا ہی بنا رہے گا۔
کاروبار یا سزا؟
09:04 AM, 18 Mar, 2026