قومی سلامتی کمیٹی اجلاس:سیاسی و عسکری قیادت کا دہشت گردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم

06:08 PM, 18 Mar, 2025

اسلام آباد: ملکی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جو 6 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

 اجلاس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔


کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری کو سراہا۔ کمیٹی نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف اسٹریٹجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیا اور دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر تاکید کی۔


اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ، لاجسٹک سپورٹ کی روک تھام اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام حکمت عملی پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

 کمیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈے، بھرتیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس کے سدباب کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔


اجلاس میں دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت میں شامل کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو ملکی استحکام خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


اجلاس میں مسلح افواج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سراہا گیا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔


اجلاس میں حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر سیاسی مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔


قومی اسمبلی کے اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، اہم وفاقی وزراء اور فوج و انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دعا بھی کروائی۔

اجلاس میں قومی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔

مزیدخبریں