ڈیجیٹل پرائز بانڈز کی تفصیلات جاری، عوام سے آراء اور تجاویز طلب

05:30 PM, 18 Mar, 2025

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈز کے اجراء کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے وزارت خزانہ نے ڈیجیٹل پرائز بانڈز کے رجسٹرڈ رولز کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ اس مسودے کے بارے میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور عوام الناس سے آراء و تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈیجیٹل پرائز بانڈز کے لین دین کے لیے موبائل ایپ استعمال کی جائے گی۔ ان بانڈز پر انعامی رقم پر ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ زکوٰة لاگو نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل بانڈز میں سرمایہ کاری کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر نہیں کی گئی ہے، اور ہر پاکستانی بالغ شہری اس میں سرمایہ کاری کے لیے اہل ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بانڈز کی ملکیت منتقل کرنے یا انہیں گروی رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کسی سرمایہ کار کی وفات ہو جائے تو قانونی ورثا کو جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق رقم ادا کی جائے گی۔

حکام کے مطابق، مینوئل پرائز بانڈز پر انعام نکلنے کی صورت میں انعامی رقم پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 156 کے تحت ٹیکس کٹوتی کی جاتی ہے۔ فی الحال، ٹیکس کٹوتی کی شرح فائلرز کے لیے 15 فیصد ہے، جبکہ فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کے لیے یہ شرح 30 فیصد ہے۔

حکومت کا یہ اقدام ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کو فروغ دینے اور عوام کو جدید ذرائع سے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز کے ذریعے نہ صرف عام شہریوں کو انعامات جیتنے کا موقع ملے گا بلکہ یہ ملک کی معیشت کو بھی مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے آراء و تجاویز موصول ہونے کے بعد حتمی رولز جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد ڈیجیٹل پرائز بانڈز کی فروخت کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
 
 
 

مزیدخبریں