ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

09:48 AM, 18 Mar, 2025

عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لے کر وہ شہرِ اقتدار کی جانب چل پڑی، میڈیا نے اسے بھرپور کوریج دی، اسے انسانی حقوق کی علمبردار کہا گیا، کچھ جذباتی عوام نے سوشل میڈیا پر یہاں تک کہہ چھوڑا کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ ایک دلگرفتہ بہن اپنے لاپتہ بھائی کی تصویر اٹھائے کھڑی تھی جس پہ لکھا تھا ’’میرا بھائی یونیورسٹی گیا تھا‘‘ وہ خاموش تصویر چیخ چیخ کر ریاست اور ریاستی اداروں سے لاپتہ افراد بابت سوال کر رہی تھی۔ دہشت گردی کا لقب ملنے پہ ریاست کا حق تو یہ بنتا تھا کہ اس ناشکری عوام کو اس کے حال پہ چھوڑ دیتی، لیکن ریاست کی مثال اس ماں جیسی ہے جس کا ضدی بچہ دہکتے کوئلے سے کھیلنے کو مچل رہا ہے، وہ اسے رونے دے گی، تڑپنے دے گی، ضرورت پڑنے پہ شاید دو تھپڑ بھی جڑ دے گی لیکن کبھی کھیلنے کو دہکتا کوئلہ نہیں دے گی۔ وقت کی خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ واقعات اور انسانوں کے چہرے سے پردہ نوچ پھینکتا ہے، اور وہی ہوا، جس سوشل میڈیا پر کبھی اس مظلوم بہن کے لاپتہ بھائی کی تصاویر گردش کر رہی تھیں آج انہیں تصویروں کے ساتھ ، اسی شخص کی لمبے بالوں میں ہاتھ میں بندوق تھامے بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گرد کی صورت میں تصویر لگائی جا رہی ہے۔ آج لاپتہ افراد سے شروع کر کے جعفر ایکسپریس تلک بات کریں گے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کردار پہ روشنی ڈالیں گے۔ بلوچستان کے لاپتہ افراد کی کچھ اقسام ہیں، پہلے وہ جو اپنی مرضی سے دہشت گرد تنظیموں کا حصہ بنے، اب ظاہر ہے گھر بتا کر تو نہیں جائیں گے کہ BLA, BLF,وغیرہ میں نوکری ملی ہے مٹھائی بانٹیں، دوسرے وہ جو شام اور عراق کی فاطمیون، زینبون کا حصہ بنے، ایسے نوجوان صرف بلوچستان سے نہیں بلکہ جنوبی پنجاب سے بھی بھرتی ہوئے، تیسرے وہ ہیں جو ان گروہوں کی آپس کی جھڑپوں میں مارے گئے ، چوتھے اور آخری وہ ہیں جنہیں ریاست نے کسی انٹیلی جنس رپورٹ کے باعث اٹھایا، اس میں کوئی شک نہیں کہ رول آف لا ہونا چاہیے، انہیں عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے، لیکن ہر غائب شخص کا الزام ریاست کے سر تھوپنا سراسر زیادتی ہے، ہم کرمنل جسٹس سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے قانون سازی کر سکتے ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نیشنل ایکشن پلان 2014ء اور پھر اس کی دوسری قسط 2021ء میں کرمنل جسٹس سسٹم کی بہتری کی بات کر کے بھول گئے، اس پہ عملی اقدام ندارد۔۔۔ بی ایل اے کی حالیہ دہشتگردی کی اگر بات کریں تو جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور جانے والی ریل کو مسافروں سمیت یرغمال بنایا گیا، غیر ملکی اسلحہ سے لیس دہشت گرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں رہے، پھر بھارتی مین سٹریم میڈیا پہ ایک بھرپور پراپیگنڈہ شروع کیاگیا اس حوالے سے ہمیں جنرل بکرم سنگھ کے الفاظ نہیں بھولنے چاہئیں کہ ’’جب ہم سیپرٹسٹ موومنٹس کے اندر تیل پھینکتے ہیں انہیں بڑھاوا دیتے ہیں تو یقینا پاکستانی فوج اندرونی حالات کو قابو کرنے میں ناکام ہو گی‘‘۔
لیکن اپنوں نے بھی نشیمن پہ بجلیاں گرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، سوشل میڈیا پہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ہینڈلز نے اس واقعے پہ خوشیاں منائیں، پھر وہ خون پینے والی ڈائن جو بلوچ حقوق کی علمبردار بن کر شہرِ اقتدار پہ چڑھائی کرنے پہنچ جاتی تھی اسے سانپ سونگھ گیا، نہتے عوام پر دہشتگرد اسلحہ لے کر حملہ آور ہو گئے۔ اور یہ چپ سادھ کر بیٹھی رہی، عوام کو گھروں سے نکال کر سڑک پہ لانے کا مشکل بیڑا یہ اٹھاتی ہے اور اسے سڑک سے پہاڑوں میں لے جانے والا آخری کیل کالعدم تنظیمیں ٹھونکتی ہیں، ایسٹن آلمنڈ کے political socialisation اور political recruitment کے نظریات کی عملی تصویر اگر دیکھنا ہو تو وہ ہمیں ماہ رنگ کی صورت میں نظر آئے گی، کہ ایک طرف تو نوبل انعام کی فہرست میں شامل ہونے کی تگ و دو میں ملوث ہے تو دوسری جانب بہت خاموشی سے غیر محسوس طریقے سے دہشت گرد بھرتی کرا رہی ہے۔ ففتھ جنریشن کی جنگ ویسے ہی گرے ایریا میں کھیلی جاتی ہے۔ پھر ریاست پہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سے آزادیِ اظہارِ رائے چھین لیا تو پاکستان نہ تو امریکہ ہے جہاں ایک کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی امریکی شہری، جس کی بیوی بھی امریکن ہے اسے صرف اس بات پہ نکال دیا گیا کہ وہ فلسطین کے حق میں بولتا ہے، اور پاکستان نہ بھارت ہے کہ جو دنیا بھر میں مقیم بھارتی پنجابی سکھوں کے سوشل میڈیا کے کمنٹس تک پہ نظر رکھے کہ جو خالصتان کے حق میں آواز اٹھائے یا اس کا پاسپورٹ کینسل کر دے یا بھارت آنے پہ ائیر پورٹ سے ہی اٹھا لیا جائے اور نہ ہی پاکستان ایران ہے جو بلوش علیحدگی پسندوں کی کھال تک ادھیڑ دیتا ہے۔ ہاں ریاست کی اختلافی آوازوں کے ساتھ زیادتیاں اپنی جگہ موجود ہیں لیکن پھر بھی ہاتھ ہولا رکھا ہوا ہے۔ بی ایل اے ملکی سالمیت کے لیے خطرہ تو ہے ہی ہے یہ بلوچستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ بد امنی ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ SSG کی ضرار نے جس خوبصورت حکمتِ عملی سے چھتیس گھنٹوں میں پْر افتاد جگہ پر  تمام دہشت گردوں کو فی النار کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہاں کیپٹن رضوان کی بروقت حکمتِ عملی اور دلیری بھی داد کی حق دار ہے کہ جنہوں نے ریل کے اندر سے وردی کا حق ادا کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔
بلوچ محرومیوں کی عذر خواہی ہر گز ہر گز دہشت گردی کو ہلہ شیری دینے کے لیے استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ بلوچستان کی بدامنی کا واحد حل ترقیاتی منصوبے ہیں ، ریاست کو بلوچ عوام کو ان کے حقوق فراہم کرنے چاہئیں اور اس راہ میں حائل ہر دہشت گرد کا وہی حال کرنا چاہیے جو ضرار نے ان ریل والوں کا کیا ہے، اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا پہ اس واقعے کی خوشیاں منانے والوں کی طبیعت درست کرنی چاہیے، اور ہمارے بزدل ہمسائے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ فلموں میں گھر میں گھس کر مارنے والی بڑھک آسان ہوتی ہے یرغمال ریل میں کامیاب آپریشن کرنے کے لیے جرأت اور حکمتِ عملی چاہیے ہوتی ہے۔

مزیدخبریں