بلوچستان ، احساس محرومی کیوں؟

09:47 AM, 18 Mar, 2025

کیا بلوچستان واقعی محرومیوں کا شکار ہے۔ کیا بلوچستان کے بنیادی حقوق غصب کر لئے گئے ہیں۔ کیا بلوچستان کو مجرمانہ طور پر ہر لحاظ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ واقعیاتی شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔1945ء سے 2024ء تک کی تاریخ کو کنگھالا جائے تو بلوچستان دوسرے تین صوبوں کے مقابلے میں لاڈلے سلوک کا مستحق نظر آئے گا۔ اسی طرح جہاں تک عوامی سطح پر بے چینی، بے یقینی اور اضطراب کا تعلق ہے اس کا ہلکا سا نشان بھی صوبے کے کسی علاقے میں نہیںملے گا۔ اس لئے بلا خوف و تردید موجودہ صورتحال چندسو گمراہ افراد کی پیدا کردہ ہے بھارت امریکہ اور اسرائیل جن کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان گمراہ افراد کے تار ہلانے والے حربیار مری، براہمداغ بگٹی اور دیگر تو خود بھارت ، برطانیہ اور امریکہ میں عیاشی کر رہے ہیں۔ چند سو افراد کو دہشت گردی کی بھٹی میں جھونکا ہوا ہے۔ 
بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والے بلوچستان کے لگوں کے کتنے خیر خواہ ہیں اس کا اندازہ ان کے آئے روز بلوچ عوام کی ہلاکتوں اور دہشت گردی کا نشانہ بننے کے تسلسل سے لگایا جا سکتا ہے اور یہ جو جعفر ایکسپریس کو اغوا کر کے سینکڑوں افراد کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچائی گئی کیا یہ سب پاک فوج کے جوان اور ان کے اہل خانہ تھے۔ کیا یہ سب پنجابی ، سندھی یا پشتون تھے۔ ان میں اکثریت تو بلوچوں کی ہے۔ انسانی تاریخ میں کسی ایسے واقعہ کے حوالے سے ایک سطر نہیں ملے گی کہ دہشت گردی کے ذریعہ حقوق حاصل کئے گئے ہوں۔ حالیہ تاریخ میں ایسے واقعات ضرور ہیں کہ پینتیس سال تامل ناڈو کے دہشت گردوں نے سری لنکا میں دہشت گردی کی آگ بھڑکائے رکھی۔ کیا حاصل کیا ، ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلت۔ کردوں نے عراق، شام اور ترکیہ میں برسوں دہشت گردی کا طوفان اٹھائے رکھا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ آزاد کردستان کے خواب کی بے ثمر تعبیر، یہ بی ایل اے کے چند گمراہ ریاستی طاقت کا کب تک مقابلہ کریں گے۔ 
بلوچستان میں 1972ء میں پہلی صوبائی اسمبلی وجود میں آئی تب سے 2024ء تک ترقیاتی فنڈ، سڑکوں وغیرہ کی تعمیر کے لئے ایک ہزار پانچ سو ارب روپے سے زائد رقم دی گئی جبکہ آبادی صرف ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس طرح این ایف سی ایوارڈ کے کھاتے میں بلوچستان پانچ سو ارب سے زائد وصول کرتا ہے۔ تقریباً تیرہ کروڑ آبادی والے پنجاب اسمبلی کے ممبر کو سالانہ ترقیاتی فنڈ دو سے پانچ کروڑ روپے اور اڑھائی کروڑ آبادی والے بلوچستان اسمبلی کے ممبر کو سالانہ ترقیاتی فنڈ پچیس کروڑ رپے ملتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر کو ملنے والے کروڑوں کے فنڈز، اس کے علاوہ ہیں۔ بلوچستان کے ڈیڑھ کروڑ عوام کیلئے فنی تعلیمی اداروں کی تعداد321، پنجاب کے تیرہ کروڑ عوام کیلئے ایسے اداروں کی تعداد 384، سندھ کی چھ کروڑ آبادی کیلئے 213 فنی تعلیمی ادارے اور خیبر پختونخواہ کی پانچ کروڑڑ آبادی کیلئے 107 فنی تعلیمی ادارے ہیں۔ افراد کے حساب سے دیکھا جائے تو پنجاب کے تین لاکھ چونسٹھ ہزار طلبا کیلئے ایک ٹیکنیکل تعلیمی ادارہ جبکہ بلوچستان کے چوالیس ہزار طلباء کیلئے ایک ادارہ ہے۔ جس پنجاب کو گالی دی جاتی ہے ، شناختی کارڈ دیکھ کر جن پنجابیوں کو شہید کیا جاتا ہے ان کے ٹیکسوں کے پیسے سے پنجاب کے کالجوں،یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے طلباء کو مفت تعلیم، مفت ہوسٹل کی سہولت کے ساتھ مالی وظیفے بھی دیئے جاتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی اعلیٰ ملازمتوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے خصوصی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کا نوجوان سی ایس ایس کا امتحان صرف پاس کر کے کوالیفائی ہو جاتا ہے جبکہ پنجاب کا نوجوان نوے فیصد نمبر لے کر بھی کوالیفائی نہیں کرتا۔
قیام پاکستان کے بعد سے بلوچستان کے سرداروں، نوابوں کو رائلٹی کی مد میں 29 ارب روپے سے زائد دیئے جا چکے ہیں۔ بلوچستان کے سابق ہوم سیکرٹری جناب آصف فصیح الدین وردگ بفضل تعالیٰ بقید حیات ہیں ان کی موجودگی میں نواب اکبر بگتی سے میں نے سوال کیا بلوچستان کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ جواب دیا، چونی دے دو، عرض کیا دونی، آنہ ، ٹکا میں سے کچھ تو دستیاب ہے۔ جواب ملا ، ہا ں ٹکا کہہ سکتے ہیں۔عرض کیا یہ جو آپ کو ٹکا حاصل ہے اس سے ڈیرہ بگتی میں کتنے سکول بنائے، کتنے ہسپتال بنائے اور روزگار کے کتنے ذرائع پیدا کیے۔ نواب اکبر بگتی نے زیر لب مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ میں کیوں بتاؤں، میں تو سردار ہوں۔ عرض کیا یہ تو زیادتی ہے۔ نواب صاحب نے کھیلنے والے انداز میں کہا، آپ دانشور ہو، آپ ڈیرہ بگتی جاؤ، وہاں کے لوگوں کا شعور بیدار کرو، ان کوبتاؤ تمہارا سردار تمہارے حقوق غصب کر رہا ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا ، میں چلا تو جاؤں گا، یہ بات بھی کر دوں گا، مگر واپس کیسے آؤں گا۔ نواب اکبر بگتی نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ دیکھو بھائی بڑی کاز کیلئے قربانی تو دینا پڑتی ہے۔ یہ گفتگو ہفت روزہ تکبیر کی ایک رپورٹ میں شامل کردی۔ اس کے دوسرے روز نواب صاحب کا فون آیا۔ میرے بھائی یہ گپ شپ کو رپورٹ کردیا۔ عرض کیا محسوس ہوا ہے تو میں یہ لکھ سکتا ہوں کہ یہ محض تصوراتی گفتگو تھی۔ اس پر انہوں نے کمال مہربانی سے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔ اس تحریر کے آخر میں یہ لکھ کر کہ نواب صاحب نے یہ سب ازراہ تفنن کہا، اس تحریر کو لائق اعتراض نہیں رہنے دیا ہے۔ ظاہر ہے میں ایک معمولی صحافی نواب اکبر بگتی کی ناراضگی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم اس سے بلوچستان کے سرداروں کے مجموعی رویوں کی جھلک نظر آجائے کسی کو تو یہ اس کی ذہانت ہے۔ 
پیپلزپارٹی کا کمال ہے کہ وہ پلے سے ایک پیسہ خرچ نہیںکرتی عوام کے پیسوں سے عوام پر احسان کرتی ہے۔ بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگتی نے تعلیمی شعبے میں بلوچ نوجوانوں کو پی ایچ ڈی کرنے کی سہولت کیلئے بینظیر کے نام سے پروگرام بنانے کا ذکر اپنی حکومتی کارکردگی کے طور پر کیا ہے۔ اسے لائق تحسین سمجھاجانا چاہیے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچ نوجوان پی ایچ ڈی تب کرے گا جب وہ پرائمری کلاس پاس کر لے گا۔ محکمہ تعلیم بلوچستان کی ایک رپورٹ کے مطابق موجود ہ حکومت میںمزید 542 سکول بند ہو چکے ہیں۔ لہٰذا سکولوں کو بحال کرنے کیلئے 16 ہزار اساتذہ کی ضرورت ہے۔ گزشتہ مئی تک بند سکولوں کی تعداد 3152 تھی۔ 2 ستمبر تک یہ تعداد بڑھ کر 3694 ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بند سکولوں کی تعداد ضلع پشین میں 254 اور سب سے کم ڈیرہ بگتی میں 13 سکول غیر فعال ہیں۔ 
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس کی کامیابی کیلئے عمران نیازی کو شریک کرنے کا مطالبہ، اپنے لیڈر کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش ضرور ہے مگر بلوچستان کے حوالے سے ان کے لیڈر کے کردار اور سوچ سے سردار اختر مینگل نے پردہ اٹھا دیا ہے کہ برطانیہ کی عدالت نے حربیار مری کو عمران کے اس بیان کے بعد رہا کر دیا تھا، جو کچھ ان (حربیار میری و دیگر) کے ساتھ ہو رہا ہے، میرے ساتھ ہوتا تو میں بھی یہی کرتا جو یہ کررہے ہیں۔ کیا عمران کو بی ایل اے کی وکالت کیلئے اے پی سی میں شریک کیا جائے۔

مزیدخبریں