نیب لاہور: ہائوسنگ سوسائٹیز متاثرین کے دکھوں کا درماں

09:45 AM, 18 Mar, 2025

ہمارے ملک عزیز میں کرپشن اور حرام خوری کا ناسور تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور جس کا زہر معاشرے میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ لوگ راتوں رات امیر ہونے کے چکروں میں کسی بھی قسم کی تمیز کو بھول گئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اداروں بلکہ یہ ناسور معاشرے کے فرد تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے ۔ اور کرپشن اور حرام خوری کی زد میں آنے والے معصوم اور بے گناہ لوگ پوری زندگی اسی آس میں گذار دیتے ہیں کہ شاید کوئی مسیحا آسمان سے اترے اور ہمارے دکھوں کا مداوا کرے۔ کرپشن کا عالم یہ ہے کہ بڑے بڑے جاگیردار اور زمینداروں نے ہائوسنگ سوسائٹیاں بنا اور غریب لوگوں کو سنہرے خواب دکھا کر دونوں ہاتھوں سے خوب لوٹا اور کھربوں روپے غریب لوگوں کے ڈکار کر بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کر کے معزز و محترم بنے بیٹھے ہیں۔ 
قارئین کرام ! ایسے دسیوں لوگوں کو میں بخوبی جانتا ہوں جنہوں نے ہائوسنگ سوسایٹی میں صرف اس لئے قسطوں پر پلاٹ لئے تاکہ اقساط پوری ہوتے ہوئے بیٹی جوان ہو جائے گی اور پھر پلاٹ فرخت کر کے بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیں گے۔ لیکن ہائوسنگ سوسائٹی مالکان کے روپ میں یہ مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ انہوں نے اس غریب باپ کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا اور پھر سیاسی وصحافتی اثروروسوخ رکھنے کے ساتھ وہ مزیدبڑا فرعون بن گیا اور یوں غریب آدمی ذلیل ہوتا چلا گیا اوربیٹیوں کی ہاتھ پیلے کرنے کے خواب ڈپریشن میں تبدیل ہوگئے ۔
بھلا ہو نیب کے ڈائیریکٹر جنرل کا جنہوں نے اس مافیا کو شہ رگ سے پکڑا اور پھر ایسا ڈنڈا چلا کہ 
بڑے بڑے نام جن کی گردن میں بھاری بھر سریا تھا ، منت سماجت پر آگئے اور لوگوں کو ان کا حق ادا کر نے پر رضامند ہوئے ۔ نیب حکام کی جانب سے ان کی زبان پر پھر بھی یقین نہ کیا گیا اور یہ عام آدمی کو اس کا حق دلانے کے لئے براہ راست ان تمام انتظامات کو اپنی نگرانی میں سر انجام دے رہے ہیں ۔میں نے ذاتی طور پر اس بات کا مشاہدہ کیاکہ لاہور میں اتوار کے روز بھی ایڈن متاثرین میں چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری رہا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور محمد احترام ڈار اور اہلیہ نے چیک وصولی کیلئے آنے والے متاثرین کو چیئرمین نیب کیطرف سے گلدستے پیش کئے اور تقسیم کے تمام مراحل کی ازخود نگرانی کی اور عوام کی سہولیات کے پیش نظر موقع پر ہدایات بھی جاری کیں۔ 
چیئرمین نیب کی ہدایات پر ایڈن سکینڈل میں متاثرہ خواتین کی سہولت کیلئے نیب کی خواتین آفیسرز بھی اتوار کو ڈیوٹی پر موجود رہیں۔ ڈی جی نیب لاہور اور اہلیہ نے نیب کی خواتین افسران کو چھٹی کے روز خدمات سرانجام دینے پر سراہا اور تعریف کی۔ اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور نے کہا کہ نیب نے تین ایام میں ایڈن سکینڈل کے سیکڑوں متاثرین کو کروڑوں روپے مالیت کے چیک حوالہ کئے ہیں جبکہ تمام متاثرین کی سہولت کیلئے انہیں شٹل سروس کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم ایڈن سکینڈل کے تمام متاثرین کی آسانی کے پیش نظر نیب لاہور نے سٹامپ پیپر کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ڈی جی نیب لاہور نے عید الفطر سے قبل ایک اور میگا سکینڈل میں اہم ریکوری اور متاثرین میں ڈوبی رقوم کی عید سے قبل ہی تقسیم کی خوشخبری بھی دی۔
قارئین محترم !نیب لاہور میں چیک وصول کرنے والے ایڈن سکینڈل کے متاثرین کا کہنا تھا کہ نیب لاہور کی جانب سے اعلیٰ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس پر چیئرمین اور ڈی جی نیب لاہور کے شکر گزار ہیں۔کئی متاثرہ شہریوں نے عیدالفطر سے قبل ڈوبی رقم کی برآمدگی پر نیب لاہور اور تمام انتظامیہ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ چھٹی کے روز چیک کی تقسیم سے متاثرین کے اپنے دفاتر اور کاروباری امور متاثر نہیں ہوتے یہ اہم سہولت دی گئی ہے۔دیگر متاثرین نے نیب لاہور کی موجودہ انتظامیہ کے اقدامات سے نیب لاہور کی سروس ڈیلیوری میں بہتری محسوس کرتے ہوئے نیب کے اقدامات کو سراہا۔ ڈی جی نیب لاہور نے متاثرین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایڈن سکینڈل کے تمام 11,000 متاثرین کو 1 ارب 16 کروڑ کی مکمل ادائیگی تک نیب لاہور اپنے اقدامات جاری رکھے گا اور مزید بہتری کیلئے کوشاں رہیں گے۔
قارئین کرام ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ عام آدمی کو بغیر سفارش، پورے پروٹوکول اور عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے اربوں روپے کی رقم واپس کی گئی ہے اور اس کے لئے نیب حکام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ دیگر احتسابی اداروں کو بھی نیب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عام عوام کو حقیقی معنوں میں آسانیاں فراہم کر نے کی ضرورت ہے کیونکہ نیب کے ملازمین بھی تو اسی زمین پر رہتے ہیں، یہ بھی تو ہمارے جیسے دکھتے ہیں لیکن ہاں ! ان میں احساس اور فرض کی ادائیگی کی سپرٹ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بڑے برے فرعون عوام کے سامنے آگرتے ہیں۔ شاید کہ باقی ادارے بھی اسی سپرٹ سے کام کر سکیں!!!شاید۔

مزیدخبریں