جدہ ائیر پورٹ… فلائٹ کا انتظار!

09:45 AM, 18 Mar, 2025

(گزشتہ سے پیوستہ)
کنگ عبدالعزیز انٹر نیشنل ائیر پورٹ جدہ جس کا شمار غالباً دنیا کے مصروف ترین ائیر پورٹس میں ہوتا ہے کے انٹرنیشنل ڈیپارچر ز کے کائونٹرز پر حسبِ معمول بڑا رَش تھا لیکن کسی طرح کی افرا تفری یا بھگدڑنہیں تھی۔ مختلف کائونٹرز پر ایک ہی وقت میںکئی انٹر نیشنل فلائٹس کے مسافر سامان جمع کرانے اور بورڈنگ کارڈز لینے کے لیے قطاریں بنائے کھڑے تھے۔ ہمارا لوڈر عمر میں ذرا بڑا ہونے کے باوجود بڑا مستعد تھا۔ اس کی مدد سے ہمیں اپنا سامان جو چار پیک (Packs) پر مشتمل تھا جمع کرانے اور بورڈنگ کارڈ لینے میں کچھ دقت پیش نہ آئی۔ میں نے لوڈر کو بیس ریال دئیے اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ اب اگلا مرحلہ ہمارے دستی سامان سمیت الیکٹرانک سکریننگ ڈورز میں سے گزرنے کا تھا۔ وہاں مردوں اور خواتین کی الگ الگ قطاریں بنی ہوئی تھیں۔میری باری آئی تو میں نے وہاں سرچر کو اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پیس میکر لگا ہوا ہے۔ اس نے مجھے سکریننگ ڈور میں سے گزارنے کی بجائے باہر سے ہی گزرنے کی اجازت دے دی اور مینوئل میری تلاشی لے لی۔ میں مطمئن تھا کہ ہمارے دستی سامان کے بیگ جنہیں ہم نے اپنے ساتھ جہاز کے اندر لے کر جاناتھاوہ سکریننگ بیلٹ سے باہر آئیں تو انہیں لے کر ہم آگے لائونج کی طرف چلیں۔
یہاں بڑا دلچسپ معاملہ پیش آیا ۔ جیسے میں نے لکھا تھا کہ مکہ مکرمہ سے جدہ روانگی کے لیے سامان کے بیگز کو پلاسٹک شیٹس میں لپیٹنے(wrap) کرنے کے لیے میں نے پلاسٹک شیٹ کا رول چپکانے والی ٹیپ اور ایک قینچی خریدی تھی۔ ہوٹل کے کمرے میں کوشش بسیار کے باوجود جب میں اپنے بیگز پر پلاسٹک شیٹ لپیٹنے میں کامیاب نہ ہوا تو میں نے پلاسٹک شیٹ والا رول اور قینچی اپنے دستی سامان والے بیگ میں رکھ لی۔ اب بیگ میں ڈالی گئی قینچی نے یہاں اپنا کمال دکھایا ۔ ہوا یُوں کہ دستی سامان والے دونوں بیگ جب سکریننگ ڈور سے باہر آئے تو وہاں کھڑی خاتون نے مجھے ایک اٹھانے کی اجازت دے دی اور دوسرے بیگ کے بارے میں کہا کہ اسے دوبارہ سکریننگ کے لیے بیلٹ پر رکھوں۔ میں نے 
ایسے ہی کیا ۔ بیگ دوبارہ سامنے آیا تو ڈیوٹی پر کھڑی خاتون نے مجھے اس میں سے ساری چیزیں باہر نکالنے کو کہا۔ میں نے اس میں کپڑے اور واش روم وغیرہ کا سامان تھا باہرنکال کر رکھ دیا اور ساتھ ہی قینچی اور پلاسٹک شیٹ کا رول بھی نکال کر رکھے ۔ خاتون نے قینچی کو اٹھا کر کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیا اور مجھے سامان بیگ میں ڈالنے اور آگے جانے کا اشارہ کر دیا۔ پانچ ریال میں خریدی گئی قینچی کے ا س طرح بے آبرو ہو کر کچرے میں پھینکے جانے کا مجھے افسوس تھا ہی لیکن ساتھ ہی اس پر کچھ غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس کی وجہ سے ہمارے دستی سامان کا بیگ مشکوک حالت میں سامنے آیا۔ 
ان مراحل سے فارغ ہوئے تو رات کوئی گیارہ بجے کا وقت تھا، گویا ابھی ہماری فلائٹ کی روانگی میں ساڑھے تین چار گھنٹے باقی تھے۔ ہمیں یہ وقت اپنی فلائٹ کے لیے مخصوص لائونج میں گزارنا تھا جس کا راستہ گیٹ نمبر ۲۷سے ہو کر گزرتا تھا۔ وہاں دائیں بائیں اور سامنے مختلف Gates کے نمبر دکھائی دے رہے تھے۔ ۲۷ نمبر گیٹ کا بورڈ دائیں طرف آگے کونے میں نظر آ رہا تھا۔ ہم اپنے دستی سامان کے بیگ جو میں نے اٹھا رکھے تھے کے ساتھ اس کی طرف ہو لیے۔ اندر داخل ہوئے تو وسیع لائونج میں کچھ ہی مسافر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم بھی کرسیاں سنبھال کر بیٹھ گئے۔ سامنے واش رومز، وضو کرنے کی جگہ ، نماز ادا کرنے کا احاطہ اور اس کے دوسری طرف چائے ، کافی ، ڈرنکس اور برگرز وغیرہ کے کائونٹرز نظر آ رہے تھے۔ ہمیں کچھ کھانے پینے کی ایسی طلب نہیں تھی اور ویسے بھی اندازہ تھا کہ یہاں اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی کچھ زیادہ ہوں گی۔ اس لیے کوئی چیز لینے سے اجتناب کیا۔ وہاں کوئی ڈیوٹی فری شاپ تھی یا نہیںاس کا مجھے کچھ اندازہ نہیں البتہ قریب کہیں نظر آتی تو میں ضرور کوئی چیز بطورِ یادگار خرید لیتا۔
خیر ہم کرسیوں پر جو زیادہ آرام دہ نہیں تھیں کسی حد تک نیم دراز وقت کے گزرنے کا انتظار کر رہے تھے۔ میں ابھی تک حیران ہوں اور سوچتا ہوں کہ اس میں کوئی خاص مصلحت ہے یا کوئی اور بات ہے کہ الملک عبدالعزیز انٹر نیشنل ائیر پورٹ جدہ کے بین الاقوامی روانگی کے اس لائونج کی کرسیاں زیادہ نرم اور سافٹ ہونے کی بجائے کسی حد تک سخت کیوں بنی ہوئی ہیں۔ مجھے اس کا کچھ زیادہ اندازہ نہیں ہے کہ آیا تمام ہی ائیر پورٹس کے لائونجز میں کرسیاں وغیرہ ایسی ہی ذرا سخت سیٹوں والی ہوتی ہیںتاکہ مسافر سو نہ سکیں اور ہوشیار ہو کر بیٹھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ لائونج میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا اور ہمارے آس پاس کی کرسیاں وغیرہ ہی نہ صرف بھر گئیں بلکہ دستی سامان کے بیگز بھی جگہ گھیرنے لگے۔ اہلیہ محترمہ وضوکر کے نوافل ادا کرنے کے لے اٹھیں تو میں اپنی کرسی پر ہی بیٹھا رہا تا کہ سامان کے پاس موجود رہوں۔ ذرا سخت سیٹ والی کرسی پر بیٹھے میں لائونج کی چھت کا جائزہ لینے لگا۔ اونچی چھت بلا شبہ جدید فنِ تعمیر کا نمونہ سمجھی جا سکتی ہے کہ یہ بغیر ستونوں کے بنائی گئی ہے۔ مجھے یاد آ رہا تھا کہ ۱۹۸۳ء میں ہم حج پر آئے تھے تو جدہ کا انٹر نیشنل حج ٹرمینل اسی سال مکمل ہوا تھا۔ وہ ٹرمینل اب زیرِ استعمال ہے یا نہیںیا کن ائیر لائنز کے لے استعمال ہوتا ہے یا صرف حج کے موقع پر استعمال ہوتا ہے، اس بارے میں مجھے کچھ صحیح علم نہیں ہے لیکن میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ ٹرمینل مکمل ہوا اورزیرِ استعمال لایا گیا تھا تو اسے فنِ تعمیر کا ایک شاہکار گردانا گیا۔ ایک وسیع و عریض ٹرمینل جس میں مختلف ممالک کی کتنی ہی ائیر لائنز کے کائونٹر زجہاں بنائے گئے تھے وہاں عازمینِ حج کے لیے اپنے ملکوں کے لیے واپسی کی فلائٹس کے انتظار میں چوبیس گھنٹوں بلکہ بعض صورتوں میں چھتیس یا اڑتالیس گھنٹوں تک ٹھہرنے کے انتظامات بھی موجود تھے۔ 
جدہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے حج ٹرمینل کی بات بیچ میں آ گئی، اپنی واپسی کی فلائٹ کی طرف آتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہاں مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ اب وہاں شاید بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔ سعودی ائیر لائنز کے بوئنگ 777/300 میں سوار ہونے یعنی چیک ان کا مرحلہ آ گیا۔ چونکہ مسافروں کی تعداد زیادہ تھی اس لیے ائیر لائنز کے نمائندوں نے بورڈنگ کارڈ کے مطابق مسافروں کو جہاز میں سوار ہونے کے لیے رہنمائی کی۔ ہماری یعنی میری اور اہلیہ محترمہ کی سیٹیں جہاز کے پچھلے زون میں تھیں لہٰذا ہمیں اپنے زون کے مطابق جہاز میں پہلے سوار ہونے کا موقع دیا گیا۔ جہاز میں ہم داخل ہوئے تو ابھی اگلی سیٹیں خالی تھیں۔ ہم چلتے ہوئے جہاز کی پچھلی سمت میں گئے اور اپنی سیٹوں 64D اور64E پر بیٹھنے سے قبل میں نے اپنے دستی بیگ اوپر ریک (Rack) میں رکھے اور اطمینان کا سانس لیا۔ (جاری ہے)۔

مزیدخبریں