دہشت گردوں نے جیسے ہی جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنایا عین اسی وقت بھارتی میڈیا نے پراپیگنڈا شروع کر دیا جو ابھی تک جاری ہے۔ بھارتی چینلز نے عجیب و غریب دعوے کئے۔ ساتھ ہی جعلی ویڈیوز بھی چلا دیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بلوچستان میں حالات شدید خراب ہو چکے ہیں۔ کالعدم بی ایل اے نے گویا پورا بلوچستان ٹیک اوور کر لیا ہے۔ خود ساختہ بھارتی اینکرز نے اس ایشو پر تجزیوں کی بھرمار کردی۔ ایسے حالات میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ بھارتی حکومت کی بلوچستان میں دلچسپی کیا ہے ؟ بھارتی میڈیا بلوچستان میں بی ایل اے کی کسی بھی کارروائی پر خوشی کے شادیانے کیوں بجاتا ہے ؟ پاکستان کے داخلی معاملات میں تخریب کاری کے عنصر کو لیتے ہوئے حالات خراب کرنے کی سازش کرنا بھارت سرکار کا پرانا خواب ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی کبھی طالبان کی مالی مدد کر کے پاکستان کے حالات خراب کرانا چاہتی ہے تو کبھی کالعدم بی ایل اے کی سرپرستی کی جاتی ہے تاکہ بلوچستان میں خانہ جنگی کا ماحول ظاہر کر کے شور مچایا جائے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی کا کردار پہلے بھی بے نقاب ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ ایسے حالات میں پاکستانی حکومت کی پالیسی بھی دو ٹوک ہے۔بھارت ماضی میں بھی حالات خراب کرنے کا ذمہ دار رہا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو بھی ایسی ہی سرگرمیوں میں ملوث تھا جو ہمیشہ کے لئے بھارتی سیاہ کارناموں کی تصدیق ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے پاس اسلحے اور گولہ بارود کہاں سے آرہا ہے ؟ ان کی فنڈنگ کون کر رہا ہے ؟ ظاہر سی بات ہے بغیر فنڈنگ کے یہ ممکن ہی نہیں۔ بھارتی ہاتھ اور پشت پناہی کی وجہ سے کالعدم بی ایل اے کی شر انگیزیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے 26 افراد میں سے 18 کا تعلق آرمی اور ایف سی سے ہے۔انہوں نے بتایاکہ فورسز کے آپریشن میں مجموعی طور پر 33 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ دہشت گردوں نے فائرنگ سے 26 افراد کو شہید کیا، فورسز نے 354 یرغمالی بازیاب کرائے، ان میں 37 زخمی ہیں، فورسز کے آپریشن کے دوران ایک بھی مغوی نہیں مارا گیا۔ یرغمال بنائے گئے مسافر اسی علاقے میں موجود تھے، یرغمال مسافر تین بڑے حصوں میں تھے، ایک گروپ کو11 مارچ کی رات کوانہوں نے چھوڑا تھا، دوسرا 12 مارچ کی صبح فوج اور ایف سی نے کارروائی کی تو ان کوبھاگنے کا موقع ملا، تیسرا گروپ 12 مارچ کی شام کوکلیئرنس آپریشن میں چھڑایاگیا۔جب دہشت گردوں نے مسافروں کوٹرین سے نکالا تو دہشت گردوں کے ایک چھوٹے گروپ کو وہاں چھوڑا اوربڑا گروپ چلا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردی کے لئے انتہائی دشوار گزار علاقے کا انتخاب کیا گیا، جعفر ایکسپریس کو دہشتگردوں نے آئی ای ڈی دھماکے کے ذریعے روکا، دہشت گرد کئی گروپوں میں تھے، ایک گروپ نے بچوں اور عورتوں کو ٹرین کے اندر رکھا، باقی مسافروں کو دہشت گردوں نے ٹرین سے باہر لاکر زمین پر بٹھا دیا تھا۔ ان دہشت گردوں کی سپورٹ میں ایک وارفیئر چلناشروع ہو گئیں جس کو بھارتی میڈیا لیڈ کر رہا تھا، ٹرین واقعے سے پہلے دہشت گردوں نے ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیاتھا۔سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کا سہارا لیتے ہوئے جعلی ویڈیوز بنائی گئیں۔ بھارتی میڈیا جعلی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کرتا رہا۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے معاملے کو بھارتی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتارہا۔ بھارتی میڈیا نے سوشل میڈیا سے اٹھاکرپرانی ویڈیوزبھی چلائیں، دہشت گرد گروپس کی دی گئی پرانی ویڈیو ایک منظم سازش کے تحت دوبارہ وائرل کرائی گئیں۔ خود ساختہ بھارتی تجزیہ کار اے آئی تصاوہر اور دہشت گرد گروپ کی دی گئی ویڈیوز دکھا کر ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ دہشت گرد افغانستان میں اپنے ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھے، کچھ یرغمالیوں کو موقع ملا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلے، دہشت گرد بھاگنے والے یرغمالیوں پر فائر بھی کرتے رہے۔پاکستان آرمی نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے دہشت گردوں کو انگیج کیا، دہشت گردوں کی کمیونیکیشن سے پاک فوج کو پتہ چلا کہ ان کے درمیان خودکش بمبار بھی ہیں، یرغمالیوں کی رہائی کیلیے خصوصی انداز میں کارروائی کی گئی، خودکش بمباروں کی وجہ سے محتاط انداز میں آپریشن کیا گیا، فورسز نیآپریشن شروع کیا ، ضرار کمپنی کے کمانڈوز انجن سے ٹرین میں داخل ہوئے اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جعفر ایکسرپس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کہا کہ پاک فوج نے جس طرح یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی وہ قابل تعریف ہے، سکیورٹی فورسز کو کامیاب کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ چند دہشت گردوں نے بلوچوں کی روایات کوپامال کردیا ہے، یہ دہشت گرد ہیں جو پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں، یہ خالصتاً دہشت گرد ہیں جو پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں۔ فائنل کلیئرنس آپریشن میں دہشت گرد کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے، دہشت گرد شہریوں کو شہید کرتے رہے تاکہ خوف پھیلا رہے، دہشت گرد جو ٹرین کی سائیڈ پر موجود تھے ان کو ہلاک کیاگیا، پہاڑ سے فائر کرنے والے دہشت گرد کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، پورے آپریشن کے دوران کسی مسافرکو نقصان نہیں پہنچا، دہشت گردوں کے پاس غیر ملکی اسلحہ موجود تھا۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے قومی پالیسی بنانے کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو مزید مربوط بنانے کا فیصلہ کرلیا یے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پارلیمانی جماعتوں ، صوبائی حکومتوں اور عسکری قیادت کی مشاورت سے اہم پالیسی اور مربوط اقدامات کیے جائیں گے جبکہ ریاست کے خلاف متحرک گروپس اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف مذید سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔ قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرااجلاس آئندہ دنوں میں بلوایا جائے گا جس میں اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ حتمی پالیسی طے کرنے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔
سانحہ جعفر ایکسپریس پر بھارتی پراپیگنڈا
09:44 AM, 18 Mar, 2025