بعض اوقات انسان کسی شہر کو نہیں بلکہ ایک پورے زمانے کو یاد کرتا ہے۔ وہ وقت، دن، مہینے جو کیلنڈر کے صفحات سے تو گزر جاتے ہیں مگر دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ میری زندگی میں ایسا ہی زمانہ، وقت، دن، مہینے گرمیوںکے چھٹیوں کے تھے۔ ان چھٹیوں میں سب سے خوبصورت جگہ سرگودھا 12 بلاک نانا نانی/ ماموں ممانی کا گھر تھا۔ آج بھی جب جون کی تپتی دھوپ میں آموں کی خوشبو یا بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو دل/ ذہن بے اختیار برسوں پیچھے چلا جاتا ہے۔ اس دور میں جب خوشیاں سادہ تھیں یا رشتے مضبوط اور زندگی میں مصنوعی پن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
جون مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے لئے دنیا بدل جایا کرتی تھی۔ سکول کی آخری گھنٹی آزادی کا اعلان ہوتی تھیں۔ سکول کا کام یا گرمیوں کی چھٹیوں کا کام مکمل کر کے بستہ ایک کونے میں رکھ دیا جاتا اور سوال کہ سرگودھا کب جائیں گے۔ نانا نانی ماموں ممانی کا گھر ہمارے لئے کسی تفریحی مقام سے کم نہ تھا۔ وہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے زندگی کے سارے رنگ ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔ نانی اماں کی شفقت بھری مسکراہٹ، نانا جان کی محبت، ماموں کے ساتھ شرارتیں اور ممانی کے ہاتھ کا کھانا سب مل کر ایک ایسی دنیا تخلیق کرتے تھے جس کی یادیں آج بھی دل کو سکون پہنچاتی ہیں۔
صبح کا آغاز بھی آج کی صبح سے مختلف ہوتا تھا۔ آنکھ کھلتے ہی موبائل فون سوشل میڈیا نہیں بلکہ ایک آواز آتی کہ بیٹا ناشتے کے لئے چنے لے آﺅ۔ ہم خوشی خوشی برتن اٹھا کر دکان کی طرف چل پڑتے۔ راستے میں ہر شخص جان پہچان کا ہوتا، ہر بزرگ دعا دیتا اور ہر دکاندار اپنے پن کا احساس دلاتا، واپسی پر گرم گرم چنوں کی خوشبو اور گھر میں پراٹھے ماحول بنا دیتے تھے۔ سب ایک دسترخوان پر جمع ہوتے باتیں کرتے، ہنستے ہوئے محسوس ہوتا کہ خاندان صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ ناشتے کے بعد گلیاں ہماری سلطنت بن جاتی تھیں۔ پٹھو گول گرم، سٹاپو، بنٹے، کرکٹ، اونچ نیچ، کونا کونا، بیڈمنٹن، لڈو، کیرم بورڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ کھیل صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ دوستی برداشت، قیادت، مقابلے اور تعلقات کا پہلا سبق بھی تھے۔ پٹھو گول گرم میں پانچ پتھروں کو گرا کر دوبارہ لگانے کی سنسنی جو آج کسی ویڈیو گیم میں نہیں ملتی۔ بنٹوں سے جیبوں کا بھرنا، گلی کرکٹ میں ایک اینٹ وکٹ بن جاتی تھی۔ بیڈمنٹن کھیلنا اور اگر بال محلے میں کسی کے گھر چلی جاتی تو پوری ٹیم واپسی کے لئے سرگرم ہو جاتی۔ یہ سب معمولی واقعات لگتے ہیں لیکن یہی سب سے خوبصورت یادیں ہیں۔گرمی کی شدت بڑھتی تو کھیل گلیوں سے گھر منتقل ہو جاتے۔ لڈو اور کیرم بورڈ کی محفلیں سمجھتیں۔ ہار جیت پر ایک دوسرے کو چڑانا، چھیڑنا اور پھر کچھ منٹ بعد دوبارہ کھیل شروع ہو جاتا۔ دوپہر کے انہی لمحات میں ویڈیو گیم کی دکان کا رخ بھی کیا جاتا۔ جہاں ایک روپے کا ٹوکن لے کر اس گیم کو اختتام تک کھیلنا۔ ماریو، سنو بروس، پیک مین، پینگ، سٹریٹ فائٹر کھیلنے کا موقع ملتا۔ آج بچوں کے پاس بے شمار گیم گھر ہی موجود ہیں مگر شاید وہ انتظار، بے تابی اور وہ مشترکہ خوشی نہیں جو ہمیں ویڈیو گیم سے حاصل ہوتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں کا ذکر آموں کے بغیر مکمل نہیں۔ فریزر میں آم رکھنا اور برف ڈال کر بالٹی میں ٹھنڈے رکھنا، پورا خاندان اکٹھا بیٹھ کر آم کھاتا، آم کا جوس ہاتھوں اور کہنیوں سے بہتا اور اس پر بڑوں کی محبت بھری ڈانٹ ، نانی کا کہنا چھوڑو بچے ہیں اور اس پر نانا کی مسکراہٹ ، شام ہوتے ہی برف کے گولے ہماری چھوٹی سی دنیا کی بڑی خوشی تھے۔ اسی طرح گلی کے کونے میں ملنے والا انڈہ شامی برگر بھی کسی شاہانہ دعوت سے کم نہیں تھا۔ اس کا ذائقہ آج بھی زبان اور یادوں میں باقی ہے۔
وقت بے وقت بجلی کا جانا بھی ایک نعمت محسوس ہوتی۔ شام کے وقت لوڈشیڈنگ کے بعد چھت اور صحن میں چارپائیاں بچھ جانا، پانی کا چھڑکاﺅ کرنا اور اپنے بزرگوں سے قصے کہانیاں سننا اور ان باتوں میں کھو جانا۔ آج بچوں کے پاس تیز انٹرنیٹ ہے مگر شاید ان کے پاس وہ راتیں نہیں جب سب بغیر کسی موبائل کے ساتھ بیٹھتے، ایک دوسرے کو سنتے، گپیں لگاتے اور خوش ہوتے۔
وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ نانا نانی، ماموں ممانی دنیا سے چلے گئے۔ اس وقت احساس ہوا کہ گھر اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جو اس میں بستے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد گھر تو وہی رہتا ہے، گلیاں بھی وہی ہوتی ہیں مگر ان کی روح کہیں کھو جاتی ہے۔ شاید اسی لئے نانا نانی یا ماموں ممانی کے گھر ان کے زندہ ہوتے ہی جایا جاتا ہے، ان کے بعد راستے تو وہی رہتے ہیں مگر سفر کم ہو جاتا ہے۔ دروازے وہی رہتے ہیں دستکیں کم ہو جاتی ہیں، محلے وہی رہتے ہیں مگر رونقیں کہیں کھو جاتی ہیں۔
جب ہم اپنا اور آج کے بچوں کے ساتھ موازنہ کرتا ہوں تو فرق صرف ٹیکنالوجی کا نہیں لگتا، فرق طرز زندگی کا لگتا ہے۔
٭ ہمارے پاس وسائل کم تھے مگر رشتے زیادہ تھے۔
٭ آج وسائل زیادہ ہیں اور وقت کم ہے۔
٭ ہمارے پاس گلیاں تھیں ان کے پاس سکرینیں ہیں۔
٭ ہمارے پاس کزنز تھے ان کے فالوورز ہیں۔
٭ ہمارے پاس محفلیں تھیں ان کے پاس گروپ چیٹ ہیں۔
آج جب میں سرگودھا 12 بلاک کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صرف ایک گھر نہیں پورا زمانہ یاد آتا ہے۔ سارے نقش ایک ساتھ ذہن میں ابھر آتے ہیں اور پھر احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل دولت یہ خوبصورت یادیں ہیں۔ اصل سرمایہ رشتے ہوتے ہیں اور کچھ پتے ایسے ہوتے ہیں جو ڈاک کے لئے نہیں یادوں کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ اور سرگودھا کا 12 بلاک میرے لئے ایسا ہی پتا ہے۔
گرمیوں کی چھٹیاں....نانا نانی، ماموں ممانی
09:10 AM, 18 Jun, 2026