بجٹ کی روح معیشت اور عوام کی خوشحالی ہوتی ہے، مگر ؟؟؟

09:09 AM, 18 Jun, 2026


بجٹ 2026-27 کا شور شرابا ختم ہوا، ایم کیو ایم نے بجٹ سے قبل شرائط رکھیں کہ ہمارا سندھ کا گورنر واپس نہیں لایا گیا تو ہم بجٹ کی منظوری کیلئے ووٹ نہیں دینگے، پی پی پی NFC ایوارڈ پر مذاکرات کرتی رہی، گلگت بلتستان میں بقول بلاول انکا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسلئے انہوں نے اپنی جماعت کو بجٹ اجلاس میں شرکت سے منع کر دیا، ایم کیو ایم کو تو ہر حال میں سابقہ تنخواہ پر کام کرنا ہوتا ہے، ہاں مگر پی پی پی کے نخرے برداشت کرنا ضروری ہوتے ہیں کہ وہ ایک بڑی اتحادی ہے، نائب وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما آخر وقت تک روٹھوں کو منانے کی کوشش کرتے رہے، مگر کامیاب نہ ہونے کی وجہ سے سرگرم اور ہر مرض کی دوا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کمان سنبھالی، جب وہ ایران کو معاہدے کی طرف راضی کرسکتے ہیں تو پی پی پی تو گھر کا مسئلہ ہے، ملاقات کے چند منٹوں بعد بلاول اپنے تمام اراکین کے ہمراہ اسمبلی میں موجود تھے جو ایک مستحسن اقدام تھا۔ حزب اختلاف جو بھی ہو اس کا شور مچانا ضروری ہے بحیثیت ممبر اسمبلی انہیں بھی فی ممبر 7 لاکھ 30 ہزار ماہانہ ملتا ہے بشمول مراعات، یہ رقم سرکاری اور واضح ہے باقی ترقیاتی فنڈز، اس طرح 336 ممبران اسمبلی پر عوام کا تقریباً 23 کروڑ ماہانہ خرچ ہوتا ہے۔ بجٹ اعداد و شمار کھیل جو عوام کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے انہیں تو بجٹ کا تب معلوم ہوتا ہے جب وہ بازار جاتے ہیں اور قیمتیں دیکھ کر انکی چیخیں نکل جاتی ہیں اور حزب اختلاف جو بھی ہو وہ بغلیں بجاتی ہے۔ مجھے یاد ہے میاں نواز شریف 2013ءمیں بطور وزیر اعظم جدہ آئے تو انکی رہائش گاہ پر ملاقات میں، میں نے دریافت کیا تھا کہ میاں صاحب معیشت کے حوالے سے کیا پالیسی ہو گی، میاں صاحب نے بتایا کہ ہماری بھر پور کوشش ہے کہ معیشت کو بہتری کی طرف لے جائیں، انہوں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو تفصیلات بتانے کیلئے کہا، انہوں نے اعداد و شمارکے طویل حوالے دئیے، میں نے معذرت کے ساتھ میاں صاحب کو کہا کہ بہت مختصر سوال تھا جسکا آپ نے جواب دے دیا کہ معاملات بہتری کی طرف جائینگے، باقی یہ اعداد و شمار مجھے سمجھ نہیں آئے تو عوام کو کیا سمجھ آئینگے۔ حالیہ بجٹ 2026-27 میں بھی اعداد و شمار کی جادوگری کے ذریعے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر وزرا عوام کو جو طفل تسلیاں دے رہے ہیں ان کا کوئی خاص اثر اس لیے نہیں ہو گا کہ عوام اس بات سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں کہ موجود نظام سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی، لہٰذا وہ حکومتی عہدیداروں کی باتوں کو سنتے تو ہیں لیکن ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ عوام کے سیاسی قیادت سے بیزار ہونے کی ایک بڑی اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سیاست دان اپنے ذاتی اور گروہی مفادات پر زد نہیں پڑنے دیتے اور ہر موقع پر عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال آئی ایم ایف اور اندرونی قرض کی ہے جسے واپس کرنے کیلئے ہمیں مزید قرض لینا پٹرتا ہے۔ سخت معاشی پالیسیاں نہ اپنائی گئیں تو ہم صرف قرض لینے والا ملک بن جائینگے۔ وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت معاملات میں سدھار کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک کا گروتھ ریٹ 8 فیصد سے زائد رہا ہے مگر بے روزگاری وہاں بھی موجود ہے۔ ہم نہ جانے کیوں عوام کو مطمئن کرنے کیلئے ”پڑوس“ کا حوالہ دیتے ہیں، مگر انکی آبادی جو ہم سے کئی گنا زیادہ ہے اسے مدنظر نہیں رکھتے۔ ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی آبادی سے زیادہ بڑا مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کا حد درجہ بے حس ہونا ہے، یعنی ایک طرف ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ پانے والے سرکاری افسروں کو مکان، گاڑی، پٹرول، بجلی اور ہر قسم کی سہولت مفت مہیا کی جا رہی ہے اور دوسری جانب دو دو نوکریاں کر کے چالیس پچاس ہزار ماہانہ کمانے والوں کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ وزیر خزانہ کی تقریر کا مقصد یہ تھا کہ حکومت کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ عوام کی کیا درگت بن رہی ہے اس لیے وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ سب جوں کا توں چلتا رہے گا۔ حکومت معیشت کی جس بہتری کے دعوے کرتی ہے اس کا کوئی اثر عام آدمی کی زندگی میں تو نظر نہیں آ رہا البتہ اشرافیہ کے حالات میں یقینا بہتری آئی ہے اور اس کو پیمانہ بنایا جائے تو ملک واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ عام آدمی کے حالات میں بہتری لانے کے لیے حکمران طبقے میں اس بات کا احساس پیدا ہونا چاہیے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور قابلِ قیاس مستقبل میں اس بات کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ حکمران طبقے میں ایسا کوئی احساس پیدا ہو گا۔ معاشی ترقی کا پہلا ستون ٹیکس نظام کی بہتری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور تمام شعبوں کو مساوی بنیادوں پر قومی خزانے میں حصہ ڈالنے کا پابند بنایا جائے۔ جب ٹیکس کا بوجھ منصفانہ ہوگا تو حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوں گے۔ دوسرا اہم شعبہ برآمدات کا فروغ ہے۔ دنیا کے وہ ممالک تیزی سے ترقی کرتے ہیں جو عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان کو ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات اور زرعی شعبے میں برآمدات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ نوجوان آئی ٹی 
ماہرین اور فری لانسرز ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت ضروری ہے۔ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار صرف اسی وقت سرمایہ لگاتے ہیں جب انہیں قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کے استحکام اور کاروباری سہولتوں کا یقین ہو۔ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی پارکس کو فعال بنا کر بڑی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جدید بیج، آبپاشی کے بہتر نظام، زرعی تحقیق اور کسانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی سے پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبہ ترقی کرے تو نہ صرف غذائی تحفظ مضبوط ہو گا بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اہم پہلو جو معیشت کیلئے زہر ہے کرپشن، سمگلنگ اور سرکاری وسائل کے ضیاع کے خلاف سخت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ قومی وسائل کی شفاف اور م¶ثر نگرانی سے ترقیاتی منصوبوں کے نتائج بہتر ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہو گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت اگر ان کے لیے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ براہِ راست سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ بجٹ وہ ہوتا ہے جو عوام کو سہولیت دے۔

مزیدخبریں