افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، مگر افسوس کہ اس بار بھی وجہ ترقی، استحکام یا امن نہیں بلکہ دہشت گردی، انسانی بحران اور بڑھتی ہوئی علاقائی بے یقینی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2822 نے دنیا کو یہ یاد دلایا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ صرف ایک ملک کا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ پورے خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ دو دہائیاں قبل دنیا افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحرک ہوئی تھی۔ آج، 2026 میں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنی قربانیوں اور عالمی کوششوں کے باوجود افغانستان دوبارہ دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں بار بار اٹھایا گیا۔ بہرحال اس ساری صورتحال میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے ۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے فورم پر واضح الفاظ میں کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش خراسان، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے عناصر افغانستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں۔ یہ صرف ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ متعدد بار یقین دہانیوں نے با وجود افغانستان کی سر زمین پاکستان کیلئے دہشتگردی کے طور پر استعمال کی گئی۔
امریکی جریدے''دی واشنگٹن ٹائمز'' نے رپورٹ کیا ہے کہ افغانستان کے دوبارہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے پاکستان پر دہشت گردی کا دبا بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی بڑے دہشت گرد منصوبے کا آغاز دوبارہ افغانستان سے ہو سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2822 میں نہ صرف دہشت گردی بلکہ چھوٹے ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت، ان کے پھیلاو¿ اور انسانی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
افغانستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال بھی عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف بین الاقوامی ادارے بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی میں شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم ہیں بلکہ افغانستان کی معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
امریکی مندوب جینیفر لوکیٹا نے بھی واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے تعلقات کا مستقبل طالبان کے رویوں میں عملی تبدیلی سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام ناگزیر ہے۔
پاکستان مسلسل یہ مو¿قف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کا استحکام پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ تاہم استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ اگر ایک ملک کی سرزمین سے دوسرے ممالک میں حملے کیے جائیں تو یہ صرف دوطرفہ مسئلہ نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا معاملہ بن جاتا ہے۔
آج افغانستان ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون، دہشت گردی کے خاتمے اور انسانی حقوق کے احترام کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ تنہائی، بداعتمادی اور مسلسل عدم استحکام کی طرف۔ بدقسمتی سے حالیہ رپورٹس اور عالمی خدشات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابھی تک مثبت پیش رفت مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو رہی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ریاست نے انتہاپسندی اور مسلح گروہوں کو نظر انداز کیا، اس کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے۔ افغانستان کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ امن صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے قائم ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا تحریر کی روشنی میں چند اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھتے ہیں جس سے اندازہ ہو جائے گا پاکستان نے کتنا نقصان اٹھایا ہے۔
آٹھ جون 2026ءکو حسن خیل پوسٹ پر حملے ہوا جس میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے 6 اہلکار شہید ، 8 زخمی جبکہ 7کو اغوا کر لیا گیا۔ اس سے ایک ماہ قبل بنوں میں پولیس چوکی پر خودکش حملے میں 15پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اپریل 2026ءمیں بنوں پولیس سٹیشن پر ایک اور خودکش حملے میں 5 شہری جان کی بازی ہار گئے
صرف 2026ءکے دوران خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے نتیجے میں 86 شہری شہید اور 260سے زائد زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد دراصل ایک انتباہ ہے۔ دنیا افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی، لیکن دنیا یہ بھی چاہتی ہے کہ افغانستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اب فیصلہ کابل کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔
کابل سے اٹھتے خطرات، خطے کی بڑھتی تشویش
09:07 AM, 18 Jun, 2026