ایران،اسرائیل کشیدگی: بھارت کی خاموشی اور مبینہ خفیہ سرگرمیوں نے تعلقات میں دراڑ ڈال دی

06:04 PM, 18 Jun, 2025

تہران/نئی دہلی:ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کے محتاط رویے، سفارتی خاموشی، اور بعض غیر مصدقہ خفیہ سرگرمیوں نے تہران،نئی دہلی تعلقات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران میں بھارتی شہریوں کی گرفتاری اور ان پر جاسوسی کے الزامات نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
سٹریٹجک شراکت داری یا تزویراتی مفاد؟
بھارت اور ایران کے درمیان گزشتہ دہائی میں چابہار بندرگاہ، توانائی تعاون، اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ تاہم، اسرائیل،ایران تنازع کے حالیہ مرحلے میں بھارت کی خاموشی اور کسی واضح مؤقف سے گریز نے ایرانی حلقوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اپنے تزویراتی مفادات کے تناظر میں دیکھا، بالخصوص افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی، اور پاکستان کو محدود کرنے کے زاویے سے۔
جاسوسی الزامات اور گرفتاریاں:
ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں 70 سے زائد بھارتی شہریوں کو مختلف شہروں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد" کے ساتھ روابط میں تھے اور ایران کے سکیورٹی انفراسٹرکچر، میزائل پروگرام، اور حساس عسکری تنصیبات سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔ اگرچہ بھارت نے سرکاری طور پر ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا، مگر تہران میں بھارتی سفارت خانے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
بھارت کی غیر موجودگی اور خاموشی:
گزشتہ ہفتے G7 اور دیگر بین الاقوامی اجلاسوں میں ایران-اسرائیل تناؤ پر شدید بحث ہوئی، مگر بھارت نے کسی بھی سطح پر شرکت نہیں کی اور نہ ہی کوئی سرکاری بیان جاری کیا۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اس رویے کو بھارت کی "توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی" سے تعبیر کرتے ہیں، تاہم ایران کے نزدیک یہ ایک "موقع پرستی" اور "دوغلے پن" کی علامت ہے۔
ایرانی ردعمل: تعلقات پر نظرثانی؟
ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ بعض معاہدوں اور تعاون پر از سرِ نو غور کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی سیاست کے مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کا اسرائیل کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور ایران کے خلاف مبینہ خفیہ سرگرمیوں میں کردار نئی دہلی کو مسلم دنیا میں سفارتی تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ایران اور بھارت کے درمیان موجودہ تناؤ نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں تعلقات اب روایتی مفادات سے ہٹ کر نئی صف بندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ بھارت کو بدستور اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، یا ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتا ہے جو صرف اپنے مفاد کے وقت قریب آتا ہے؟۔

مزیدخبریں