آیت اللہ خامنہ ای نے جنگ کے اختیارات پاسداران انقلاب کے حوالے کر دیے

09:50 AM, 18 Jun, 2025

تہران: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں بڑی شدت آ گئی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جنگ سے متعلق تمام اختیارات پاسداران انقلاب گارڈز کی شوریٰ کو سونپ دیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب جنگی حکمت عملی، حملوں کا وقت اور شدت جیسے اہم فیصلے پاسداران خود کرے گی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب نے اسرائیل پر مزید طاقتور اور فیصلہ کن حملے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ذریعے تل ابیب، ہرزلیہ اور یروشلم کو نشانہ بنایا۔ ہرزلیہ میں میزائل گرنے سے متعدد بسوں میں آگ لگ گئی جبکہ کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجتے رہے۔

حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد اور فوجی انٹیلیجنس کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا۔ تل ابیب اور دیگر شہروں میں لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا۔ ایران کے حملوں سے حیفہ کی آئل ریفائنری کی پیداوار مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے تین ملازمین ہلاک ہوئے اور ملک بھر میں تیل کا نظام معطل ہو گیا۔

ایرانی سائبر فورسز نے اسرائیل کے موبائل اور کمیونیکیشن نیٹ ورک پر بھی حملے کیے، جس سے سینکڑوں ڈیوائسز ہیک ہو گئیں۔ اسرائیلی حکومت نے تمام ایئرپورٹس بند کر دیے اور فضائی حدود مکمل سیل کر دی ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنے جدید ترین ہتھیار استعمال ہی نہیں کیے، اگر جنگ مزید بڑھی تو ایران مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں ہو گا۔

مزیدخبریں