سینئر ہدایت کار نذر الاسلام نے نیلی کو اپنی فلم ’’میڈم باوری‘‘ میں ایک ایسا کردار سونپا جو اس کی بڑی پہچان بن گیا۔ یاد رہے یہ سپرہٹ فلم 1989ء میں ریلیز ہوئی، جاوید شیخ ، پہلی بار اس فلم میں نیلی کے مدمقابل ہیرو آئے اور اس فلم سے نیلی جاوید شیخ کی جوڑی باکس آفس پر مقبول ہوگئی اور دونوں نے بطور ہیرو ہیروئن 31فلموں میں اکٹھے کام کیا۔ ان میں رنگیلے جاسوس، امیر خان، انٹرنیشنل گوریلے، کالے چور، خطروں کے کھلاڑی، تین یکے تین چھکے، درندگی، محبت کے سوداگر، عابدہ، زمانہ، آخری مجرا، مشکل، چیف صاحب اور جو ڈر گیا وہ مر گیا کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس جوڑی کی مقبولیت بڑی سکرین سے چھوٹی سکرین تک بھی پہنچی، جاوید شیخ نے پی ٹی وی کے لیے ایک بہت خْوب صورت میوزیکل سیریل پروڈیوس کی، جس میں نیلی اس کی ہیروئن بنیں۔ 5اقساط پر مبنی یہ میوزیکل سیریل ’’خوبصورت جہاں‘‘ کے نام سے 1994ء میں پیش کی گئی، جس کی عکس بندی اسکاٹ لینڈ لندن کی خوب صورت لوکیشن پر ہوئی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنی ہم عصر اداکارائوں میں وہ اس وقت کی مصروف ترین اداکارہ بن گئی۔ انہی دنوں سینئر اداکارہ و ہدایت کارہ شمیم آرا نے نے بھی اس کو اپنی فلم ’’آخری مجرا‘‘ میں اس کو ایک بار پھر ’’ینگ ٹو اولڈ‘‘ کردار میں کاسٹ کیا۔ یہ ایک طوائف کا کردار تھا جس میں وہ فن کی ان بلندیوں پر نظر آئی، جہاں کبھی صبیحہ خانم فلم ’’شکوہ‘‘ اور رانی فلم ’’انجمن‘‘ میں نظر آئی تھیں۔
1995ء میں جاوید شیخ کی ذاتی پروڈکشن ’’مشکل‘‘ ایک لاجواب منفرد اور اصلاحی فلم بنائی، جس میں نیلی اور جاوید شیخ نے اپنی عمدہ اور فطری اداکاری سے عوام کے دل جیت لئے۔ معصوم بچوں کے اغوا کے موضوع پر بننے والی اس فلم کے بارے میں بین الاقوامی شہرت کے حامل سماجی رہنما عبدالستار ایدھی مرحوم نے جاوید شیخ کی بے حد تعریف کی تھی۔ اس کے بعد ہدایتکار اقبال کشمیری کی فلم ’’جو ڈر گیا وہ مر گیا‘‘ میں نیلی نے عورت کا منفی کردار کر کے سب کو چونکا دیا۔ اس فلم میں عتیقہ اوڈھو، ندیم اور جاوید شیخ بھی اہم کرداروں میں دیکھے گئے۔ اسی سال کی تیسری اہم فلم ’’جیوا‘‘ تھی، جس میں نیلی نے ایک سکھنی کا شوخ و چنچل لڑکی کا کردار ادا کر کے فلم بینوں سے خوب داد وصول کی۔ معروف ہدایت کار سید نور نے فلم میں نیلی کے مقابل غلام محی الدین کو کاسٹ کیا۔ ہدایت کار الطاف حسین نے اداکارہ نیلی سے اپنی فلم ’’مرد جینے نہیں دیتے‘‘ میں بہت اعلیٰ کردار نگاری کرائی، اس فلم کاشمار ان کی یادگار فلموں میں ہوتاہے۔ نیلی نے جن دیگر فلموں میں اپنی عمدہ اور فطری کردار نگاری کا مظاہرہ کیا، ان میں چیف صاحب ،انسان ہوتو ایسا، بختاور، چوہدری دی رانی، تحفہ، حسینہ 420، انسانیت کے دشمن،کالے چور، عابدہ، خواہش،سخی بادشاہ ، ہر جائی، محبت کے سوداگر، دلہن بنتی ہیں نصیبوں والیاں کے نام شامل ہیں۔
جس زمانے میں نیلی فلموں میں مصروف تھیں، تو انہیں ٹی وی پر ڈراموں اور کمرشل کی بہت آفرز ہوئیں، مگر فلمی مصروفیات کی وجہ سے وہ کام نہ کر پائیں۔ اپنی فلموں کی سنچری مکمل کرنے والی اداکارہ نے 29اردو، 34پنجابی، 36ڈبل ورژن فلموں کے علاوہ ایک پشتو فلم ’’دمر نو بادشاہ‘‘ جو ان کی اردو فلم معصوم گواہ کا ڈبنگ پشتو ورژن تھی۔ 1988، انہیں حسینہ 420اور 1991میں فلم ’’بختاور‘‘ میں بہترین اداکارہ کے نیشنل ایوارڈ بھی ملے۔ نیلی نے انپے دور کے مقبول ہیروز کے مقابل ہیروئن کے کردار کیے، جن میں سلطان راہی ،یوسف خان ،ندیم، جاوید شیخ، غلام محی الدین، اسماعیل شاہ، اظہار قاضی، شان اور فیصل کے نام شامل ہیں، جب کہ ہدایت کار اقبال کاشمیری،الطاف حسین، نذر الاسلام ، رضا میر، جان محمد، محمد جاوید فاضل، دائود بٹ ،ایس سلیمان اور وحید ڈار جیسے سنیئر کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملا۔ اداکارہ نیلی24جون 1966میں ملتان میں پیدا ہوئی، ان کی فیملی حیدرآباد شفٹ ہوگئی۔ سکول اور کالج تک تعلیم انہوں نے حیدر آباد میں حاصل کی۔ فلمی دنیا میں عروج پا گئیں۔ ان کی زندگی میں 1996 میں کراچی کے ایک تاجر سرفراز مرچنٹ کا نام جب ایک سیکنڈل کی صورت میں آیا، تو فنی زندگی اس قدر متاثر ہوئی کہ وہ اپنے عروج کے دور میں فلمی زندگی سے علیحدہ ہو کر گمنام ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ معروف ہدایت کار اقبال یوسف کی بیگم نے نیلی کو سرفراز مرچنٹ سے پہلی بار متعارف کرایا تھا۔ اس سکینڈل نے نیلی کی پرسکون زندگی کو بہت متاثر کیا۔ میری اطلاعات کے مطابق وہ لاہور میں اپنی خالہ کے ساتھ ایک اچھی اور پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔ نیلی نے بذات خود اپنے آپ کو شوبز کی دنیا سے دور کر دیا اور وہ ہمیشہ کے لئے گمنامی میں چلی گئی۔
اور آخری بات…
اداکارہ نیلی نے اپنے پورے فلمی کیریئر میں جہاں خود کو منوایا وہاں اداکاری کو بھی بام عروج پر پہنچایا۔ اس کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر پریشر کے کام کرتی اور دل نہ ہوتا تو فلم پر ہاتھ نہیں ڈالتی تھی۔ اس نے کئی فلمیں اس لئے سائن نہیں کیں کہ اس کی مرضی کے کردار نہیں ہوتے تھے۔ من موجی خوش دل اداکارہ نیلی کی فلمی خدمات فلم انڈسٹری کا ناقابل فراموش حصہ ہیں۔
اداکارہ نیلی… شہرت سے گمنامی تک…! (آخری حصہ)
09:38 AM, 18 Jun, 2025