چوپال میں چاچا چیئرمین(فرضی نام) دھوم دھڑکے سے آئے اور باآواز بلند سب کی خیر خبر دریافت کرکے چپ سائیں کا انتظار کرنے لگے۔ چاچاچیئرمین نے یوں تو ایک دو بارہی الیکشن لڑا لیکن سیاسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی عوامی اور معقول و مقبول لیڈر تھے،اسی وجہ سے سب ان کی بہت عزت کرتے اور اپنے مسائل کے حل کیلئے ان کے پاس جاتے۔ سب چاچا چیئرمین سے ملکی حالات اور مقامی سیاست کے حوالے سے سوالات کررہے تھے اور ان کو بڑے انہماک سے سن رہے تھے، اسی اثنا میں چپ سائیں کی چوپال میں آمد ہوئی۔ وہ مخصوص انداز میں چوپال داخل ہوئے اور سب کا حال احوال پوچھا۔۔ سانس بحال کرنے کے بعد چپ سائیں نے چاچاچیئرمین کی طرف دیکھا۔ ان کو سائیں جی بھی الفت ومحبت سے ’’چاچا‘‘ہی کہتے تھے۔چپ سائیں نے کہاکہ سناؤ ’’چاچا جی‘‘ کیاحال ہے اور کیا نئی تازی ہے۔؟۔۔۔ چاچا چیئرمین نے کہاکہ کچھ نہیں سائیں جی بس حلقے میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے اور پرانے سنگی مجھے ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں کیونکہ میری وجہ سے نئی قیادت کی بھی کچھ ’’واہ واہ‘‘ ہوجاتی ہے۔۔خیر ہر طرف کھدائی۔۔۔ ایک ساتھ ہی سارے کام شروع اس لیے کیے تاکہ جلداز جلد ان کاموں کو مکمل کیاجاسکے۔۔ ہماری موجودہ صوبائی قیادت اور وفاقی حکومت کی نظریں سیاست کے لیے سب سے اہم پنجاب کے قلعہ پر ہیں اور لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے ہماری ہماری وزیر اعلی پنجاب ناصرف خود پیش پیش ہیں بلکہ ساری سرکاری مشینری کو بھی متحرک کیا ہوا ہے۔اس پر چپ سائیں بولے’’چاچاچیئرمین‘‘ کہتے تو آپ درست ہیں پر یہ ملک ہی مسائلستان ہے اور یہاں پر معقول اور مقبول لیڈر کا کسی کو علم نہیں ہے اور اگر کوئی معقول ومقبول لیڈر میسر آجائے تو اس بے چارہ لیڈر کو’’سیاست‘‘ لے بیٹھتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے’’آگ کے دریا‘‘ کے مترادف طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔۔ چپ سائیں بات کرتے کرتے چپ کرگئے۔۔۔۔
نتھو اور پھتوبیک زبان بولے۔۔۔سائیں جی۔۔ ہمارے نزدیک تو سارے لیڈر ہی ہوتے
ہیں،یہ معقول اور مقبول لیڈر کون ہوتا ہے۔۔ اس پر چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور بولے۔۔صاحبو! اس بارے میں بھی بتاتا ہوں۔،ذرا صبر تو کرو۔۔۔کیوں چاچا چیئرمین؟۔۔
چپ سائیں نے کہا ملک کے حالات کچھ ایسے ہو چکے ہیں کہ اب قیادت کے تصور پر خود قیادت کو بھی شک ہونے لگا ہے۔انہوں نے چاچا چیئرمین کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ دیکھو بچو چاچا چیئرمین عوامی لیڈر ہے اور ہر کسی کی پہنچ میں ہے۔ وہ ہر مسئلے پر بولتا ہے، ہر تقریب میں نظر آتا ہے، اور ہر لیڈر کا پہلا مداح اور آخری ناقد بھی ہوتا ہے۔ اب میں بات کرتا ہوں مقبول اورمعقول کی تو مقبول لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کے درد سے زیادہ قوم کے ووٹ گننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کا سب کچھ ''عوامی موڈ'' کے تابع ہوتا ہے۔ اس کی سیاست جذبات سے شروع ہوتی ہے اور جلسوں کی تالیاں سن کر ختم ہوتی ہے۔ وہ وعدے کرتا ہے، جوش دلاتا ہے، کبھی کبھی شعر بھی پڑھ لیتا ہے۔
لیکن جب بجٹ آئے، معیشت لڑکھڑائے تو وہ''سیلفی'' لینے میں مصروف ہوجاتا ہے۔اس کی دنیا سوشل میڈیا کی سکرین سے باہر کم ہی نکلتی ہے۔ ٹرینڈ بن گیا، تو کامیابی۔ وائرل نہ ہوا، تو ناکامی۔۔۔ خیر۔۔ چلو دوسری طرف معقول لیڈر ہے۔ یہ وہ ہے جو جذباتی فیصلے نہیں کرتا، بلکہ وہ جو ''ضروری'' ہو، وہ کرتا ہے، چاہے عوام ناراض ہو جائے، وہ نہ نعرہ لگاتا ہے، نہ تالیاں مانگتا ہے۔ اسے کراؤڈ پلر نہیں بلکہ سسٹم بلڈر کہتے ہیں۔
ایسا لیڈر اکثر تنہا رہتا ہے۔۔۔ کیوں؟ کیونکہ وہ وہی کہتا ہے جو عوام کو نہیں سننا ہوتا۔مگر یاد رکھیں یہی لیڈر تاریخ میں عزت پاتا ہے۔چپ سائیں نے کہاکہ اب میں بات کروں گا اپنے چاچا چیئرمین کی۔ چاچا چیئرمین سیاست میں نہیں ہوتے، مگر ہر سیاسی فیصلے پر رائے ضرور دیتے ہیں۔ ان کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، اور ہر حکومت کی ناکامی کی وجہ بھی۔ وہ روز چائے کے ساتھ تجزیہ پیش کرتے ہیں، اور ہر دفعہ کہتے ہیں میں ہوتا تو یہ ملک کب کا سنور چکا ہوتا۔چاچا چیئرمین نہ الیکشن لڑتے ہیں، نہ ریلی نکالتے ہیں، مگر جب بھی کوئی لیڈر ناکام ہوتا ہے، سب سے پہلے وہی کہتے ہیں میں نے تو پہلے دن کہا تھا کہ کچھ نہیں بنے گا!۔چاچا چیئرمین دراصل وہ عکس ہیں جو ہم سب اپنے اندر چھپائے پھرتے ہیں بے اختیار، مگر بے پناہ دعوؤں والے۔ صاحبو!مقبول لیڈر ہمیں خوش رکھتا ہے۔معقول لیڈر ہمیں درست کرتا ہے اور چاچا چیئرمین ہمیں ہنساتا بھی ہے، رلاتا بھی ہے، اور سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔دوستواصل بات یہ ہے کہ ہم شور کے دیوانے ہیں، دلیل سے گھبراتے ہیں، اور اکثر ہنسی میں سب کچھ اڑا دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہم ہمیشہ تالیاں بجانے میں مصروف رہتے ہیں اور کوئی معقول لیڈر خاموشی سے منظر سے ہٹ جاتا ہے۔
کڑوا سچ یہ ہے کہ قوموں کو وہی قیادت ملتی ہے جو وہ چاہتے ہیں، لیکن وہی مستقبل نصیب ہوتا ہے جو وہ برداشت کر سکتے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں لیڈرشپ نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک کامیاب قوم یا ادارے کی تعمیر میں لیڈر کی شخصیت، بصیرت اور فیصلے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔معقول لیڈر کی کامیابی کا اندازہ وقت کے ساتھ ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ ناپسندیدہ بھی ہو جاتا ہے، لیکن بعد میں اس کی دانشمندی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں ایسے کئی لیڈر گزرے ہیں جو یا تو مقبول تھے یا معقول۔ مثلاً، کچھ حکمران عوام کے دلوں میں گھر کر گئے، لیکن ان کی پالیسیوں کو اپوزیشن کا سامنا رہا۔ دوسری جانب، کچھ لیڈر ابتدا میں غیر مقبول رہے، لیکن ان کی دوراندیشی نے مقبولیت پائی۔
اگر مقبولیت اور معقولیت کو یکجا کیا جائے تو ایک متوازن اور موثر قیادت جنم لیتی ہے۔
صاحبو! مثالی لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے بھی درست اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مقبول لیڈر وقتی طور پر دلوں پر راج کر سکتا ہے، لیکن معقول لیڈر تاریخ میں عزت پاتا ہے۔ ایک کامیاب قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ قیادت کا انتخاب کرتے وقت صرف نعروں اور وعدوں پر نہ جائے، بلکہ اس شخص کو چنے جو معقولیت، تدبر اور قومی مفاد کو اولین حیثیت دے۔ دوستو!۔۔۔ہمیں اپنی قسمت سدھارنے اور مسائل کے حل کے لیے ’’چاچا چیئرمین‘‘ جیسا ہی لیڈر چاہیے۔۔ کیوں بھئی دوستو کیا خیال ہے؟۔۔۔ سب مسکرا دیئے۔۔۔ چپ سائیں نے ہمیشہ کی طرح اختتامی جملہ۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔۔۔بول کر محفل برخاست کردی۔
مقبول ومعقول لیڈر۔۔اور چاچا چیئرمین
09:36 AM, 18 Jun, 2025