پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 78برس ہونے کو ہیں‘ اوّل روز سے ہی دشمن اس کی آزادی کے درپے رہا مگر تائید ایزدی سے یہ ملک آگے بڑھتا رہا۔ 78برسوں کے اس سفر کا جائزہ لیں تو سب سے اہم واقعہ اس مملکت کا ایٹمی طاقت بننا ہے کیونکہ اس کی بدولت اس کی بقا کو لاحق خطرات ہمیشہ کیلئے ختم اور دشمنوں کے لئے اسے زیر کرنا ناممکن ہوگیا۔ دراصل کسی قوم کے وجود کی تمام رونقیں اس کی مملکت کی بقا سے منسلک ہوتی ہیں اور دیگرتمام معاملات کی اہمیت اس کے بعد متعین ہوتی ہے۔ الحمدللہ! 28مئی 1998ء کو وہ یادگار لمحہ آیا جب وطن عزیز کی بقا کے حوالے سے تمام تفکرات ختم ہوگئے۔ اس تاریخ ساز واقعہ پر جہاں ہمارا ازلی دشمن بھارت زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگا‘ وہاں عالمی سطح پر ہمارے دوست نما دشمنوں کی بھی نیندیں اڑ گئیں۔ ایک اسلامی مملکت کا جوہری طاقت بننا ان کیلئے یکسر ناقابل قبول تھا۔ چنانچہ پاکستان کے خلاف ایک غیر اعلانیہ اتحاد وجود میں آگیا‘ یہ اتحاد پاکستان کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آگیا تھا تاہم اب اس نے حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔اب یہ دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر ہمیں اندر سے کمزور کرنے کے درپے ہے۔ اِن دنوں بھارت میں برسراقتدار شخص نریندرا مودی ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ (RSS) کا اہم کل پرزہ رہ چکا ہے جس پر اُسے کسی قسم کی کوئی ندامت نہیں ۔ بھارت پر ’ہندوتوا‘‘ کا علم بردار ایک ایسا مسلمان دشمن اور توسیع پسند جنونی ٹولہ برسر اقتدار ہے جسے پاکستان اور مسلمانوں کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا‘ جس کے دل و دماغ میں مہا بھارت کا خنّاث سمایا ہوا ہے اور جو دہشت گردی اور شورش کو ہوا دے کر ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی روش پر گامزن ہے۔
اکتوبر 1947ء میں بھارت نے تقسیم ہند کے طے شدہ فارمولے اور تمام تاریخی‘ جغرافیائی اور مذہبی حقائق کے برخلاف وادیٔ کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ دسمبر 1971ء میں ننگی
جارحیت کے ذریعے پاکستان کو دو لخت کر دیا۔ ماضیٔ قریب میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شورش برپا کرنے میں بھی بھارت ہی ملوث تھا اور آج کل بلوچستان میں مٹھی بھر علیحدگی پسند عناصر کی سرپرستی بھی وہی کر رہا ہے۔ -5 اگست 2019ء کو اس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے۔ بھارت کی فسطائی قیادت کی شہ پرگئو رکھشا کے نام پر انتہا پسند ہندو ئوں کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے قتل کے واقعات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوتوا کے فلسفے پر یقین نہ رکھنے والوں کیلئے بھارت میں زندہ رہنا محال ہو گیا ہے۔ اس فلسفے کی سب سے بڑی پرچارک دہشت گرد ہندو تنظیم ’’راشٹریہ سوایم سیوک سنگھ‘‘ ہے ‘ اس تنظیم کے اکابرین نازی جرمنی کے آمر مطلق ایڈولف ہٹلر کے نسلی برتری کے نظریے کے پیروکار ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور اس کے دست ہائے راست وزیر داخلہ امیت انیل چندراشا اپنے انتہا پسند اور مسلمانوں کے تئیں شدید تعصب پر مبنی نظریات کو چھپانے کا کبھی تکلف نہیں کیا۔ یہ ٹولہ خود کو جنوب مشرقی ایشیا کا تھانے دار تصور کرتا ہے اور بزعم خویش یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اس خطے میں وہ جو چاہیں‘ کر سکتے ہیں اور کوئی ان سے جواب طلب نہیں کر سکتا۔ اسی سوچ کے تحت اس نے گزشتہ ماہ وطن عزیز پر حملہ کیا لیکن اسے منہ کی کھانا پڑی۔ ہماری بہادر افواج نے ایسا جواب دیا جو وہ برسوں یاد رکھے گا۔
ذرا سوچئے! اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو عالمی سطح پر موجود یہ ناپاک اتحاد اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی خاطر تمام حدود پھلانگ جاتا۔ بیرونی سازشوں سے بچائو کیلئے ہمیںتحریک پاکستان کے دوران اپنے بزرگوں کے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ پاکستان کا مطلب لا الٰہ الا اللہ ہوگا۔ یہ محض ایک مقبول عام نعرہ ہی نہیں تھا بلکہ اس کے اندر ایک جہانِ معنی پنہاں تھا۔ برصغیر کے عام مسلمان اس نعرے کے طفیل ہی جدوجہد آزادی میں متحرک ہوئے تھے۔ ہمیں کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے کہ بحیثیت قوم ہم ابھی تک اس عہد کو پورا نہیں کرسکے اور آج ہمیں جن گمبھیر مسائل کا سامنا ہے‘ ان میں سے بہت سوں کی جڑیں اس عہد شکنی میں پیوست ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف اس عہد کی تجدیدکریں بلکہ اس کی پاسداری کا بھی تہیہ کریں۔ آزادی کے 78سالہ سفر میں ہمیں جہاں اپنی کامیابیوں پر ناز کرنا چاہیے‘ وہاں کوتاہیوں پر اپنا محاسبہ بھی کرنا چاہیے۔ خود احتسابی کی روش اپنا کر ہم ان لغزشوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں گے جن کے باعث ہماری ترقی و خوش حالی کا سفر سست روی کا شکار ہوا۔ سیاست کی عالمی بساط پر رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بہت زیادہ فکر مند نہیںہونا چاہیے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ہمیں یہ مملکت اسلام کے نام پر عطا فرمائی ہے اور انشاء اللہ یہ تاقیامت قائم و دائم رہے گی۔ ہمارے پاس ایک انتہائی طاقتور نظریہ ہے جس کے بل بوتے ہم نے انگریزوں اور ہندوئوں سے پنجہ آزمائی کرکے انہیں شکست فاش دی تھی۔ جدید روایتی اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایک ایسی بہادر فوج موجود ہے جو گزشتہ کئی برس سے وطن دشمنوں اور ان کے پروردہ دہشت گردوں کے خلاف حالتِ جنگ میں ہونے کے سبب انتہائی سخت جان ہوچکی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی دشمن پاکستان کو زیر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہمیں دشمن کی گیدڑ بھبکیوں سے خوفزدہ یا ان کی سازشوں سے پریشان ہونے کی چنداںضرورت نہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں اہم قومی معاملات پر باہمی اتفاق و اتحاد پیدا کریں‘ تمام ملکی ادارے آئین اور قانون کی بالادستی کو ہر حال میں مقدم رکھیں‘ ملک کو بیرونی قرضوں کے چنگل سے رہائی دلانے کی سبیل کریںاور عوام کے تمام طبقات بدعنوانی اور دیگر معاشرتی برائیوں کے خلاف یک آواز ہوجائیں۔ اس کی بدولت ہم اندرونی طور پر بھی مضبوط ہوجائیں گے اور دنیا کا کوئی بھی ملک پاکستان کو ڈکٹیشن دینے کی جرأت نہیں کرے گا۔
پاکستان ہے تو ہم ہیں!
09:36 AM, 18 Jun, 2025