ایرانی مزاحمت اور ایشیا کا نیا جنم

09:35 AM, 18 Jun, 2025

1979کا سال دنیا کی سیاسی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس سال ایرانی عوام نے محمد رضا پہلوی جیسے امریکہ نواز بادشاہ کو اقتدار سے نکال کر ایک انقلابی اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ یہ محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ پوری مسلم دنیا میں سامراجی قوتوں کے خلاف بیداری کا آغاز تھا۔ ''مرگ بر امریکہ'' کا نعرہ کسی وقتی جذباتیت کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک طویل غلامی کے خلاف مزاحمت کی آواز تھی۔ اس دن سے آج تک امریکہ نے ایران کی انقلابی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ اپنایا۔ سفارتی محاذ سے لے کر معاشی پابندیوں تک، خفیہ کارروائیوں سے لے کر سائبر حملوں تک، اور پراکسی وارز سے لے کر براہِ راست عسکری اشتعال انگیزی تک، ہر حربہ آزمایا گیا۔
حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے دوران اسرائیل نے مبینہ امریکی پشت پناہی سے 13 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، جس میں کئی اہم سائنسدان اوراعلیٰ عسکری افسران شہید ہوئے۔ یہ حملہ اس بات کا ثبوت تھا کہ امریکہ کی مذاکراتی پالیسی محض وقت حاصل کرنے کی چال ہے، جس کے پردے میں اسرائیل کو ایرانی مفادات پر ضرب لگانے کی اجازت دی گئی۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ امریکہ نے ماضی میں بھی ایران کو اور یہاں تک کہ پاکستان کو کئی مواقع پر دھوکہ دیا۔ افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے، جہاں پہلے امریکہ نے مجاہدین کو روس کے خلاف استعمال کیا، اور پھر انہی کو دہشتگرد قرار دے کر بیس سالہ جنگ مسلط کی۔ اس جنگ میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، معاشرہ تباہ ہوا اور بالآخر امریکہ شکست کھا کر راتوں رات وہاں سے فرار ہو گیا۔ امریکہ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب دنیا کی قیادت کا اہل نہیں رہا۔ چین اب عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کا نیا مرکز بن چکا ہے۔ اس کی قیادت میں ایشیا اب مغرب کے مقابلے میں کھڑا ہو رہا ہے۔ ''بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو''، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق اور عسکری برتری کے میدان میں چین کی پیش رفت نے امریکہ اور یورپ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب امریکہ میدانِ جنگ، اقتصادی پابندیاں اور سازشوں کے ذریعے دنیا میں اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ وہ تجارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ حالیہ پاک-بھارت جنگ میں بھی دنیا نے یہ دیکھا کہ طاقت کے توازن میں زبردست تبدیلی آچکی ہے۔ امریکہ نے بھارت کی حمایت کی، لیکن میدان میں شکست بھارت کا مقدر بنی۔ پاکستان نے چینی ٹیکنالوجی، جدید ترین جے۔10 سی، جے ایف۔17 طیاروں اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کے ذریعے نہ صرف بھارتی رافیل طیاروں کو تباہ کیا بلکہ بھارتی ڈیفنس سسٹم کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا۔ یہ صرف ایک عسکری فتح نہیں، بلکہ ایک ٹیکنالوجیکل اور نظریاتی برتری کا اعلان تھا۔ چین اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ اب دفاعی ٹیکنالوجی کا نیا مرکز ایشیا ہے اور مغرب کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے۔اسی طرح، ایران نے اسرائیل کے حملے کا جس بہادری اور ٹیکنیکل مہارت سے جواب دیا، وہ دنیا کے لیے حیران کن تھا۔ اسرائیل کے تین سطحی دفاعی نظام، جنہیں ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا ایران کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے سامنے ناکام ہو گئے۔ آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو سسٹم جیسے دفاعی شیلڈز ناکارہ ہو گئے۔ چینی تعاون سے ایک بار پھر ایرانی میزائیلوں کے ذریعے امریکی ایف۔35 طیاروں کو گرایا جانا ایشین غلبے اور برتری کی ایک نئی داستان کا آغاز ہے۔ اسرائیلی شہریوں کو پہلی بار خوف اور غیر یقینی کی حالت میں زندگی گزارنے کا تجربہ ہورہا ہے۔ سکیورٹی سٹیٹ کا نظریہ اور دہری شہریت رکھنے والے اسرائیلی عوام کا ایرانی میزائلوں سے بچنے کے لئے بنکروں میں چھپ کر راتیں گزارنا کس قدرخوفناک ہے یہ صرف ایک اسرائیلی ہی بتا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایران نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ اگر نظریہ، قربانی اور مزاحمت کا جذبہ موجود ہو تو جدید ٹیکنالوجی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ جوابی حملہ محض دفاع نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ اب مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین پراب یکطرفہ جنگیں نہیں لڑی جا سکتیں۔ ایران نے نہ صرف عسکری برتری دکھائی بلکہ نظریاتی استقلال، قومی اتحاد اور مزاحمتی حکمت عملی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ یہ ایک ایسی قوم اور قیادت کی مثال ہے جو چالیس سال سے پابندیوں، دھمکیوں، اور حملوں کے باوجود آج بھی سر اٹھا کر کھڑی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ خطے کی دیگر اقوام پاکستان، ترکی، خلیجی ریاستیں، اور وسطیٰ ایشیائی ممالک کھل کر اعلان کریں کہ مغربی طاقتوں کی مسلط کردہ جنگیں، سازشیں اور پراکسی ایجنڈے اب ہماری سرزمین پر قابلِ قبول نہیں۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی تو کل یہی جنگیں ہمارے شہروں، بازاروں، اور عبادت گاہوں تک آ پہنچیں گی۔ ہمیں ایک نیا اتحاد، نئی خارجہ پالیسی، اور خودمختار عسکری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب چین اور روس جیسے ممالک کو اپنی عالمی ذمہ داری کا ادراک کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ براہِ راست ایران پر حملہ کرتا ہے اور خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جاتا ہے تو چین، روس اور دیگر علاقائی قوتوں کو خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی کردار ادا کرنا ہو گا۔ ایران کو تنہا چھوڑنے کا مطلب پورے خطے کو امریکی جنگی فیکٹری کے سپرد کرنا ہے۔ جہاں قومیں صرف ایندھن بنتی ہیں اور فیصلے نیٹو ہیڈکوارٹرز میں ہوتے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کا توازن مشرق کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ اب تاریخ کے فیصلے لندن، نیویارک یا واشنگٹن میں نہیں ہوں گے، بلکہ بیجنگ، تہران، انقرہ اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ہوں گے۔ یہ ہماری سرزمین ہے، ہماری تہذیب ہے، اور اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم غلام رہیں گے یا آزاد قوموں کی صف میں شامل ہوں گے۔ ہمیں کسی ایسی جنگ کا حصہ بننے سے انکار کرنا ہو گا جو صرف امریکہ، اسرائیل یا مغربی اسلحہ سازوں کے فائدے کے لیے لڑی جا رہی ہو۔ مشرق کا سورج طلوع ہو چکا ہے، آج اگر ہم نے درست قومی فیصلے کئے توآنے والی تاریخ ہماری ہے۔

مزیدخبریں