بھارت میں اس وقت سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ ریاست ہندو مسلمان آبادی کا ایک بہت بڑا خزانہ ہے۔ اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات فروری مارچ 2027 میں ہوں گے جس میں اسمبلی کے 403 اراکین کو منتخب کیا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوگی آدتیہ ناتھ اس وقت اتر پردیش کے دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ ہیں۔ ہر ملک اور ریاست میں سیاسی جماعتیں انتخابی عمل سے قبل ہی ایکٹو ہو جاتی ہیں جو کہ اچھی روایت ہے۔ مگر یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ آجکل اترپردیش کے شہر آگرا میں مغل دور سلطنت کا شاہکار تاج محل خبروں کی زینت بنا ہوا یے۔ ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی کی سوچ رکھنے والے ہندوتوا کے ٹھیکیدار سیاست دانوں اور لوکل نمائندوں نے اعلان کیا ہے کہ تاج محل کے نیچے ایک قدیمی مندر ہے جس کے لئے وہ تاج محل کو مسمار کروا کر ہی چین سے بیٹھیں گے۔ چند روز قبل ہندوتوا تنظیموں نے تاج محل کے احاطے میں پوجا پاٹ بھی کر ڈالی ہے۔ کند ذہن یہ بھی سوچنے سے قاصر ہیں کہ تاج محل کا شمار دنیا کے سات شاہکاروں میں ہوتا ہے اور اسے دیکھنے کےلئے دنیا بھر سے لوگ بھارت آتے ہیں۔ سیاسی بیان بازی ہو اور وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نہ ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ یوگی کا تعلق ہندو مذیب کے گرو سنت مذہبی طبقے سے ہے۔ اور اگر اتنے بڑے ہندو مذہب کے رکھوالے کے ہوتے ہوئے ایودھیا کے رام مندو میں اربوں روپے کی چوری چکاری گھپلے ہو جائیں تو یوگی کا سیاسی مستقبل داو پر تو لگے گا۔ ہندووں کے بڑے بڑے گرووں نے رام مندر چوری معاملے میں وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کو چور ٹھہرایا ہے۔ انکا کہنا ہے مندر کے اندر سے اربوں روپے کے چندے اور سونا چاندی کے زیورات غائب ہونے کی تحقیقات کے ساتھ وزیر اعلیٰ کا استعفے بھی آنا چاہیے۔ اترپردیش کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ساتھ ہی ایٹاوا شہر کے مولانا جرجس انصاری پر تنقید ہو رہی ہے۔ مولانا جرجس یوگی راج کے مخالف ہیں اور اس وقت جیل میں ہیں مگر ان کے خلاف ایک سو کے قریب شکایات تھانوں میں درج ہو چکی ہیں۔ ایک ہندو گرو نے تو مولانا جرجس کی جان کی قیمت بھی لگا دی ہے۔ دراصل مولانا جرجس کو بہترین تقاریر اور بڑے بڑے اجتماعات کروانے کا شرف حاصل ہے۔ انہوں نے ایک تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوﺅں کے بھگوان شری کرشن مسلمان تھے اور وہ پانچ وقت کی نماز بھی ادا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ مولانا جرجس نے ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا کا حوالہ بھی دیا تھا۔ مولانا کی شہرت کسے راس آنی تھی۔ چھریاں اور چاقو لے کر ہندو گرو ویڈیوز پر ویڈیوز بنا رہے ہیں اور اپنے ووٹرز کی مذیب کے نام پر تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں۔ اب یہاں مسئلہ مذہب کا ہے، ووٹ بنک کا ہے، انتخابات کا ہے یا سیاست چمکانے کا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ رام مندر گھوٹالہ اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ جس جماعت نے مذہبی سیاست کو فروغ دیا۔ ہندو مسلمان کے نعرے اور تقسیم سے عوامی حمایت حاصل کی وہی رام مندر میں چور نکلی ہے۔ جب مندر کے رکھوالے ہی ایسے ہوں گے تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو مذہب کے نعرے تلے کھڑی بھارتی عوام کی کشمکش کا کیا عالم ہو گا۔ ڈیڑھ سال قبل رام مندر کا افتتاح کرتے ہوئے بی جے پی، وزیراعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ یوگی ناتھ کے اعتماد کا عالم ساتویں آسمان پر تھا اور آج وہ احتساب سے ڈرے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ یہاں مندر مسجد سے آگے کا مسئلہ ہے۔ اہم ترین مسئلہ ریاستی انتخابات میں بھاری مینڈیٹ لینے کا مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر حکومت بنے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ ادارے آر ایس ایس نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں۔ پریس ریلیز اور ویڈیو بیان جاری کر کے خود کو رام مندر کی انتظامیہ سے الگ کر کے حکومت سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ پر اپنی ریاست میں مسلمانوں کی توانا آواز پر آگرا شہر کے سابق ممبر اسمبلی عقیق احمد اور اس کے بھائی اشرف احمد کے پولیس کسٹڈی میں قتل کروانے کا بھی سنگین الزام لگایا جاتا ہے جن کے پاس مسلمانوں کا بہت بڑا ووٹ بنک تھا۔ اترپردیش کے شہر رام پور شہر مسلمان ممبر اسمبلی اعظم خان کا حال تو پورے بھارت نے دیکھ لیا ہے۔ اعظم خان کے خلاف جھوٹے مقدمات کروا کر انہیں کئی سال سے اہل خانہ سمیت پابند سلاسل رکھا ہوا۔ انکی محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بھی یوگی راج میں غیرقانونی قرار دے کر گرایا جا رہا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ اقتدار میں ہونے والی سیاسی جماعت انتخابات کے وقت بڑے پیمانے پر دھاندلی کرواتی ہے جسے پاک و ہند میں انتخابی عمل کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس دور حکومت میں بھارت کی مختلف ریاستوں میں نتیجے کا اندازہ انتخابات سے قبل ہو جاتا ہے۔ مگر یہ یوپی ہے یہاں قتل و غارت ، مذہبی تقسیم، بی جے پی پر تنقید کا الگ ہی عالم ہے۔ سونے پہ سہاگا رام مندر گھوٹالہ جس نے مودی اور یوگی کی سیاست کا امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔
بھارت میں ہندو مسلمان کی کھچڑی
09:51 AM, 19 Jul, 2026