پی آئی اے کی بحالی اور دو اچھی خبریں 

10:15 AM, 18 Jul, 2025

پانچ سال کے بعد یورپ میں PIAکا فلائٹ آپریشن بحال ہونے جا رہا ہے ۔2019میں تحریک انصاف حکومت کے اس وقت کے وزیر غلام سرور خان کے قومی اسمبلی میں ایک خود کش بیان نے پوری دنیا خاص طور پر پورپ میں پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن کو شدید متاثر کیا تھا ۔ وہ بیان کیا تھا پاکستانی اکانومی پر خود کش حملہ ہی تھا کہ پاکستانی پائلٹس کی ڈگریاں ہی جعلی ہیں اور860میں سے262کی ڈگریاں جعلی ہیں تو کون ہو گا کہ جو اپنے عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر انھیں مرنے کے لئے ان لوگوں کے حوالے کرے جو سرے سے پائلٹ ہی نہیں تھے اور جن کی ڈگریاں ان کے اپنے وزیر ہوا بازی کہہ رہے ہیں کہ جعلی ہیں یعنی یہ تو وہی بات ہوئی کہ بھونپو لے کرپوری دنیا میں اعلان کرتے پھریں کہ 
جاگتے رہنا 
ساڈے تے نہ رہنا 
خدا معاف کرے کار بس یا کسی بھی گاڑی کا اگر روڈ ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو ایک نہیں ایک سو ایک بچت کے راستے ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر بحری جہاز کا بھی حادثہ ہو جائے تو اس میں بھی بچت کے سو راستے نکل آتے ہیں ۔ کوئی ٹوٹا ہوا تختہ ہاتھ لگ جاتا ہے ساحل نزدیک ہو تو کسی کو تیراکی آتی ہو تو وہ تیر کر پہنچ جاتا ہے لیکن جہاں تک ہوائی جہاز کی بات ہے تو اس میں تو خدا نخواستہ اگر جہاز حادثہ کا شکار ہو جائے تو پھر فرشتے ہی بتاتے ہیں کہ بھائی جی آپ عالم بالا میں پہنچ چکے ہیں اور یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود بھی بہت سے لوگ فضائی سفر سے ڈرتے ہیں اور خاص طور پر اگر راستے میں ایئر پاکٹس کی وجہ سے جہاز کو تھوڑے زیادہ جھٹکے لگنا شروع ہو جائیں تو عام کیا ہر مسافر کی چیخیں نکل جاتی ہیں تو ایسے میں کون پاگل ہو گا کہ جو ایسی ایئر لائن کو اپنے ملک میں فضائی آپریشن کی اجازت دے کر اپنے شہریوں کی زندگیاںخطرے میں ڈالے لیکن اب موجودہ حکومت کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد برطانیہ نے پی آئی اے کو ایئر سیفٹی لسٹ سے نکالنے کا اعلان کیا ہے ۔ 
اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں وہ جو مزید دو اچھی خبریں ہیں وہ بھی آپ کے گوش گذار کر دیں ۔ ایک کا ذکر تو میڈیا کے ذریعے آپ کو ہو ہی گیا ہو گا کہ سٹاک ایکسچینج تاریخ کی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور اس کا ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ38کی بلند سطح کو کراس کر گیا ہے ۔ حکومت کے مخالفین جو چاہے کہیں لیکن یہ بہرحال معیشت میں بہتری کے اشارے ہیں اور پاکستان کے زر مبادلہ کے زخائر 20ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ دوسری خبر کم از کم ابھی میری نظر سے نہیں گذری لیکن شنیدہے کہ ایران نے گیس پائپ لائن کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت میںپاکستان کے خلاف جو کیس کر رکھا تھا اسے واپس لے لیا ہے یا لینے جا رہا ہے ۔ یہ وہی گیس پائپ لائن ہے جو2008سے2013کے پاکستان پیپلز پارٹی دور حکومت میں ایران سے انتہائی سستی گیس کا معاہدہ ہوا تھا ۔ ایران نے تو اس معاہدے کے مطابق پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھا دی تھی لیکن ایران پر لگی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان ایسا نہیں کر سکا جس کے بعد ایران نے عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کے خلاف ہرجانے کا کیس کر رکھا تھا اور اس کیس کی واپسی معمولی بات نہیں کیونکہ اگر یہ کیس ایران جیت جاتاتو پاکستان کو اربوں ڈالر ایران کو دینا پڑ جاتے لیکن حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران جس طرح پاکستان نے ایران کا کھل کر ساتھ دیا ہے تو ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے بھی لگے اور اب پاکستان کے اسی بہترین سفارتی رویے اور کوشش کی وجہ سے ایران اس کیس کو عالمی ثالثی عدالت سے واپس لے رہا ہے ۔
واپس پی آئی اے کی طرف آتے ہیں ۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران اس بندش کی وجہ سے پی آئی اے کو215ارب کا نقصان ہوا لیکن اب اگلے کچھ عرصہ میں پی آئی اے کا برطانیہ میں فلائٹ آپریشن بحال ہونے جا رہا ہے ۔برطانیہ نے صرف پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن ہی بحال نہیں کیا بلکہ پاکستان کی دیگر جتنی بھی نجی ایئر لائنز ہیں ان سب کو بھی ایئر سیفٹی کنٹرول لسٹ سے نکال دیا ہے ۔ اس موقع پر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میرئیٹ نے جلد ہی پی آئی اے کے ذریعے برطانیہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ پابندی ہٹنا بھی یقینا ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن اس کے بعد برطانوی ہائی کمشنر کا اس طرح کا بیان سفارتی تعلقات میں بہتری کی علامت ہے ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس پابندی کو ہٹوانا کوئی آسان کام تھا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے اس لئے کہ 2019 میں غلام سرور خان جو اس وقت کے وزیر تھے انھوں نے جس طرح کا بیان دیا تھا اس کے بعد یہی کچھ ہونا تھا اور حیرت اس بات پر ہے کہ اول تو یہ بات ہی سرے سے غلط تھی کہ اتنے پائلٹوں کی ڈگریاں جعلی ہیں لیکن بالفرض محال اگر یہ حقیقت بھی ہو تو دنیا کے سامنے اس کے ڈھول تو نہیں پیٹے جاتے بلکہ خاموشی کے ساتھ معاملات کو درست کر لیا جاتا ہے اور کانوں کان کسی کو خبر بھی نہیں ہونے دی جاتی لیکن یہاں تو لگ ایسے رہا ہے کہ کسی نے پاکستان یا پی آئی اے سے کسی بات کا بدلہ لیا تھا لیکن بہر حال اس سے ایک تو پاکستانی اکانومی یقینا بہتر ہو گی اور دوسرا حکومت غلط یا صحیح پی آئی اے کی جو نجکاری کر رہی ہے اس میں بہتر قیمت ملنے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں ۔

مزیدخبریں