ہماری قومی معیشت ڈیفالٹ ہونے سے بچا لی گئی ہے کچھ ماہرین کے مطابق معاشی ابتری کی رفتار پر قابو پا لیا گیا ہے یعنی معیشت جس تیزی سے گر رہی تھی اس پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن بہتری کے سفر کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔ عمرانی دور حکمرانی ایک بھیانک خواب کے طور پر گزر چکا ہے اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے کافی تگ ودو کے ساتھ بگڑتے ہوئے معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں ان کاوشوں کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں سب سے بڑا نتیجہ منفی تاثر کی تبدیلی ہے پہلے تاثر یہ تھا کہ معیشت کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے وہ آٹو پر چل رہی ہے عالمی ساہو کاروں کی ناراضی کے بعد معاملات دگرگوں ہوئے بلکہ اس سے پہلے ہی معاملات میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا تاثر یہاں تک بگڑ گیا تھا کہ ڈالر کی قیمت 500 روپے تک پہنچے کی باتیں شروع ہوگئی تھیں۔ شہباز شریف و اتحادیوں کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے معاملات کو اس حد تک جانے سے روک دیا ہے ڈالر کی اڑان قابو میں آ چکی ہے ویسے ڈالر اب بھی بلند سطح پر کھڑا ہے لیکن اب اس کی بلندی مستحکم ہے کہیں بے قابو نظر نہیں آ رہی ہے عالمی ساہوکار پاکستان سے خوش ہیں کیو نکہ حکمران انکی ہدایات کے عین مطابق معاملات چلا رہے ہیں وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم مان لیتے ہیں اور وہ جیسے کہتے ہیں ہم ویسے ہی کرتے ہیں عالمی زری و مالیاتی ادارے ہماری معیشت بارے اچھی خبریں دے رہے ہیں، آنے والے دنوں میں بہتری اور بڑھوتی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن دوسری طرف عوامی معیشت ہے جو مشکلات میں گھری ہوئی نظر آ رہی ہے عوام میں کسی سطح پر بھی نہیں کسی طبقے میں بھی نہیں، اطمینان نہیں پایا جاتا ہے قوی معیشت کی بہتری اپنی جگہ ہوگی۔ اعداد وشمار کچھ بھی بولتے ہوں لیکن جو کچھ مارکیٹوں میں نظر آ رہا ہے اور یہی زمینی حقائق ہیں، وہ خوفناک نہیں پریشان کن ہیں۔ اطمینان بخش نہیں ہیں۔
ہم نے کہا کہ حکومت نے عمرانی دور کا منفی تاثر بدلا یہ ایک بڑی کامیابی ہے اب شہباز شریف اور اتحادی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں تاثر تبدیل ہو رہا ہے مثبت سے منفی کی طرف جا رہا ہے عام آدمی کو اپنے مستقبل کے بارے میں امید ہونا تو دور کی بات ہے وہ اپنے حال سے ہی مایوس ہوتا جا رہا ہے اس کے روز مرہ کے مسائل اس کے قابو سے باہر ہوتے نظر آ رہے ہیں اشیاءخورونوش تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے، مہنگائی کا طوفان بڑھ رہا ہے ویسے مہنگائی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی ہے جس قدر وہ محسوس ہو رہی ہے۔
اصل وجہ خرید کی قوت میں کمی ہے حکومت نے ٹیکسوں کی اس قدر بھرمار کر دی ہے کہ عام آدمی کی آمدنی ، کثیر حصہ ان ٹیکسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ ماچس سے لے کر صابن، صرف اور تیل و دال کی خریداری پر ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے عام صارف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کر دیتا ہے اسطرح اس کے پاس اپنی ضروریات کے لئے دستیاب مالی وسائل گھٹ جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ وصولیاں بجلی اور گیس کے بلوں پر ہوتی ہیں بجلی کے بلوں میں صارف 13 کے قریب مختلف ٹیکس ادا کرتا ہے استعمال شدہ بجلی کی قیمت کے برابر بھی اسے ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی ماہ پہلے استعمال شدہ بجلی، جس کی قیمت وہ پہلے ہی ادا کر چکا ہوتا ہے، کے بل کی مد میں بھی اسے اضافی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔ ہمارا نظام سوفیصد ظلم و استحصال پر مبنی ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال بجلی کے میٹر کا کرایہ ہے، صارف اس میٹر کی قیمت پہلے ہی ادا کر چکا ہوتا ہے لیکن اسے ہر ماہ اپنے ہی خریدکردہ میٹر کا کرایہ بھی اداکرنا پڑتا ہے پھر 200 یونٹ تک بجلی کی قیمت اور 201 سے نئے سلیب کا نفاذ کس قدر احمقانہ اور ظالمانہ اپروچ ہے عوام بلبلا رہے ہیں، چیخ و پکار مچا رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں عالمی منڈی میں قیمتیں گر رہی ہیں ان میں کمی آ رہی ہے لیکن ہمارے ہاں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں، پٹرول کی قیمت ایک ایسا جادوئی آلہ ہے جو پورے نظام معیشت میں حرکت پیدا کر دیتا ہے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے اشیاءصرف بشمول اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس پر مستزاد ٹیکسوں کی بھر مار ہے۔
بجٹ 26-2025 صرف اور صرف ٹیکس وصولیوں کا نام ہے قومی معیشت پر قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے ایک عرصے سے ہم قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلئے بھی قرضہ لینے کی پالیسی پر گامزن ہو چکے ہیں اس لئے قرضوں کا بوجھ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ہم نے مئی میں ایک عظیم الشان کامیابی حاصل کی ہے بھارت کو شرمناک شکست سے ہمکنا ر کیا ہے جنگ کے اخراجات بھی تو کہیں سے پورے کرنا ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ہم بھارت کے ساتھ ابھی تک حالت جنگ میں ہیں بھارت اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے نئی جنگ کی تیاری کر رہا ہے اسلحہ دھڑا دھڑ خرید رہا ہے اپنی شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کر رہا ہے ہمیں بھی اپنے دفاع کی مقابلتاً تیاری کرنا ہے اس کے لئے بھی پیسے چاہئیں۔ دفاع سب سے زیادہ اہم ہے ملک ہو گا توسب کچھ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہم فتنہ الخوارج کے ساتھ بھی مسلسل حالت جنگ میں ہیں ہر روز معرکہ آرائی ہوتی ہے ہمارے افسران وجوان قربانیوں کی لازوال داستان رقم کر رہے ہیں فوج کی موبلائزیشن بھی ایک مہنگا کام ہے اس پر روپیہ خرچ ہوتا ہے قومی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات ہمارے وسائل کا بہت بڑا حصہ لے جاتے ہیں یہ اخراجات ایسے ہیں کہ ان میں کمی ممکن نہیں ہے اس کے بعد سرکاری مشینری کو چلانے اور چلتا رکھنے کے لئے جو اخراجات ہوتے ہیں ان میں کمی ہو سکتی ہے لیکن ہمارے فیصلہ ساز ان میں کمی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ کس طرح اپنے اخراجات پر قومی مفادات کے لئے کٹ لگائیں گے، ہاں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا خاتمہ انہیں اچھا لگتا ہے اس پر فوری عمل درآمد بھی کر دیا گیا ہے ایسا کرنے سے بزرگ ملازمین کے مسائل میں اضافہ تو ہو گا لیکن قومی بجٹ میں بہتری ہرگز نہیں ہو گی۔ سولر توانائی کے حصول کے لئے عامتہ الناس نے کاوشیں کیں ایک مارکیٹ معرض وجود میں آئی کچھ لوگوں کو ریلیف ملنا شروع ہوا لیکن حکومت نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے سولر سیکٹر کا بھی بیڑا غرق کرنا شروع کر دیا ہے عوام نے خود ہی جو ریلیف لینے کی کوشش کی تھی حکومت اسے بھی زحمت بنانے پر تلی بیٹھی ہے اور مجھے یقین واثق ہے کہ حکومت اپنی دیگر کاوشوں میں کامیاب ہو یا نہ ہو، اس میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جو پالیسی عوام کی تکالیف میں اضافہ کرتی ہے وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔
عوام کے مسائل اور حکمران
10:15 AM, 19 Jul, 2025