بنام!وزیر اعظم و فیلڈ مارشل.... سمگلنگ کیخلاف جنگ

10:04 AM, 19 Jul, 2025

پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں معاشی بقا، ریاستی رٹ، اور قانون کی حکمرانی کا قیام اہم ترین قومی اہداف بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے سمگلنگ کے خاتمے کیلئے کیے گئے اقدامات کی نہ صرف ستائش کی گئی بلکہ ملک کے اندر اور باہر ان کو ایک سنگ میل سمجھا گیا۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی ان سنجیدہ کوششوں کو خود ریاست کے ہی ایک جزو کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل کے بعض ممبران کے ذریعے زائل کیا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاو¿ن، بارڈر کنٹرول سخت، قانونی درآمدات کی حوصلہ افزائی اور سمگل شدہ اشیا کی ضبطی جیسے اقدامات کے ذریعے ریاست نے پیغام دیا کہ اب مزید برداشت نہیں۔ ان کارروائیوں میں کسٹمز، ایف آئی اے، رینجرز اور پاک فوج نے قابل ذکر کردار ادا کیا۔ ان آپریشنز سے نہ صرف غیر قانونی سمگل شدہ اشیا کا سیلاب رکا بلکہ مقامی صنعت کو بھی سانس لینے کا موقع ملا۔ قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں اربوں روپے کی بچت ہوئی۔ گویا ریاست نے اپنی معاشی اور قانونی خودمختاری کا دفاع شروع کیا۔ مگر جو ایک ٹریلین شارٹ فال ہے اس کی وجہ نا تجربہ کار اور منفی سوچ رکھنے والوں کو اہم اسامیوں پر تعینات کرتا ہے۔ روز بروز یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سمگل شدہ مال، جیسا کہ کپڑا، غیر قانونی گاڑیاں، ٹائرز، الیکٹرانکس اور یہاں تک کہ اسلحہ بھی، اپریزمنٹ اور ایئرپورٹس پر کسٹمز عملہ کی جانب سے ضبط کیے جانے کے باوجود ٹربیونل کی سطح پر بعض ممبر نے چھوڑ دیا۔ یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ممکنہ بدنیتی ہے۔ یہ فیصلے بظاہر کسٹمز ایکٹ 1969 اور SRO 499(I) 2009 جیسے واضح قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹربیونل کے بعض ممبران خصوصاً جوڈیشل ممبران قانون کی غلط تشریح کر رہے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز؟ یہ صرف قانونی نکتہ نہیں بلکہ ریاستی سالمیت کا سوال بن چکا ہے۔ جبکہ چیئرمین ٹربیونل عمدہ اور دیانتداری کی شہرت کے حامل ہیں، مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ البتہ جیسا کہ فنانس ایکٹ 2024 میں دفعہ 194C کی ذیلی شق 3A کو ختم کر دیا گیا ہے، جس سے سنگل ممبر فیصلوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود 99 فیصد مقدمات ان غیر قانونی سنگل ممبر بنچز کے ذریعے خارج ہو چکے ہیں۔
2001 تا 2023 سیکشن 194C(3A) کو ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس 2001 نمبر XIII کے ذریعے کسٹمز ایکٹ، 1969 میں شامل کیا گیا تھا۔ اس شق کے تحت چیئرمین اپیلیٹ ٹربیونل کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ وفاقی حکومت کی تحریری ہدایت پر مخصوص مقدمات یا مخصوص نوعیت کے مقدمات کی سماعت کیلئے ایک رکنی بنچز تشکیل دے سکے۔ اس کے برعکس جو ذیلی دفعات (2) اور (3) میں درج ہے، چیئرمین کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ایسے مقدمات یا مقدمات کی اقسام کی سماعت کے لیے، جن کی وفاقی حکومت تحریری حکم کے ذریعے نشاندہی کرے، جتنے چاہے ایک رکنی بنچ تشکیل دے سکے۔ یہ شق 2001 سے جون 2024 تک قانون کا حصہ رہی۔ فنانس ایکٹ 2024 کے ذریعے سیکشن 194C(3A) کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کے نتیجے میں اب چیئرمین کے پاس یہ قانونی اختیار موجود نہیں رہا کہ وہ وفاقی حکومت کی اجازت سے ایک رکنی بنچز تشکیل دے۔
بنچز کی تشکیل اب صرف ذیلی دفعات (2) اور (3) کے تحت ممکن ہو گی، جو عمومی طور پر دو رکنی بنچ کی اجازت دیتی ہیں۔ جون 2024 کے بعد اگر کسی مقدمہ کی سماعت ایک رکنی بنچ نے کی ہے، تو اس کی قانونی حیثیت چیلنج کی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم کے باعث مستقبل میں عدالتی چارہ جوئی یا اپیلوں میں یہ مو¿قف اپنایا جا سکتا ہے کہ ایک رکنی بنچ کی تشکیل کا اختیار ختم ہو چکا ہے۔ اب صرف دو رکنی یا قانونی تقاضے کے مطابق تشکیل کردہ بنچز ہی مجاز ہوں گے۔
گزشتہ تین سال میں سمگل شدہ ٹیمپرڈ گاڑیوں، غیر قانونی درآمدات اور ڈیوٹی سے بچنے والے سامان کو ٹربیونل کے ذریعے چھوڑ دیئے جانے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو سکتی تھی، مگر بدقسمتی سے ممکنہ کرپٹ عناصر کی جیبوں میں چلی گئی۔ دوسری طرف فیلڈ افسران کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ 
کیا ضروری نہیں کہ کسٹمز اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلوں اور ممبران کی غیر جانبدار انکوائری کی جائے، خاص طور پر وہ کیسز جن میں سمگل شدہ اشیا چھوڑی گئیں۔ اگر غیر قانونی پریکٹسز میں ملوث ممبران کے خلاف کارروائی ہو اور پرفارمنس ریویو کمیٹی قائم کی جائے جو زیرِ دفعہ 194(5) کام کرے اور نئی تعیناتیاں شفاف، میرٹ پر مبنی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر کی جائیں۔ سالہا سال سے ایک ہی جگہ تعینات دیگر محکموں کی طرح ہر 2 یا 3 سال میں تبدیل کیا جائے۔ موجودہ نظام جو بدعنوانی کا گڑھ بن چکا، میں بہتری آ جائے گی۔ محکمہ کے وکیل کی موجودگی کے باوجود کلکٹر کسٹم کو طلب کرنے کا عمل بند کیا جائے۔ کیا کبھی کسی پرائیویٹ اپیل کنندہ کو اسی طرح طلب کیا گیا؟ کیا کبھی امپورٹر کا لائسنس معطل کیا گیا؟
Implementation should not be executed till attaining the finality.
ایک سال میں ایک ٹریلین سے زائد شارٹ فال اس بات کی گواہی ہے کہ فیس لیس نظام سے بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔
روس کے زوال کی ایک وجہ غیر موزوں افراد کی تعیناتی تھی، جبکہ سنگاپور نے میرٹ، ملٹی کلچرل ازم اور موٹیویشن سے خود کو دنیا کی ٹاپ کاروباری طاقتوں میں شامل کر لیا۔
ریاست کیلئے یہ وقت خاموشی نہیں بلکہ غور کا ہے۔ یہ معاملہ صرف کچھ افراد کی کرپشن یا نااہلی کا نہیں، بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، قانون کی عمل داری اور عوام کے اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہ کی تو انسداد سمگلنگ مہم صرف ایک نعرہ رہ جائے گا اور سمگلر آزاد ہوں گے۔ سمگلنگ ایک قومی ناسور ہے۔ اگر محکمے کے افراد خود محافظ بن جائیں تو ریاست کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

مزیدخبریں