اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں حضرت عمرؓ کے عادلانہ انداز اور صدیق اکبرؓ کی سچائی کو اپنے اصولوں کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اب راولپنڈی اور اسلام آباد کی نگرانی فرخ کھوکھر کے ذمے دی گئی ہے۔ مولانا مفتی محمود کی جانب سے شروع کی گئی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، اور فرخ کھوکھر کی شمولیت خطے میں نمایاں تبدیلی کا باعث ہوگی۔
یہ بات مولانا فضل الرحمان نے فرخ کھوکھر کی جے یو آئی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ فرخ کھوکھر کی پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ چاہے اسلامی نظام کی بات ہو، آئین کو اسلامی بنانے کا معاملہ ہو یا اسمبلی میں ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہو، جے یو آئی ہمیشہ اس معاملے میں سرکردہ رہے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے توہین رسالت ﷺ کے واقعات پر گہری فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک مخصوص حلقہ ایسا ماحول پیدا کر رہا ہے جسے روکنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ اپنا متنازعہ فیصلہ واپس نہ لے تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ ختم نبوت کی حرمت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور عوام کو ان کے جائز حقوق دلوانا چاہتے ہیں، ورنہ انہیں خود حقوق کے حصول کے لیے اٹھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عوام کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور ملک کی حالت زار مایوس کن ہے۔ تبدیلی اور انقلاب کے بغیر عوام کو ان کے حقوق نہیں ملیں گے۔