19جولائی ہڑتال۔وفاق ہائے چیمبر اور دیگر چیمبر مختلف رائے 

09:17 AM, 18 Jul, 2025

ملک کی بڑی تجارتی انجمنوں کی جانب سے 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کی کال کے مسئلے پروفاقی وزیر خزانہ اور ایف بی آر چیئرمین سے مذاکرات کے دوران بزنس کمیونٹی کے نمائندے" کبھی ناں اور کبھی ہاں " کی تکرار کے دائرے میں پھنسے دکھائی دیئے۔ 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کی کال کا مقصد فنانس ایکٹ 2025 میں شامل ان ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا ہے جنہیں وہ کاروبار دشمن قرار دے رہی ہیں،یہ کال ایسے وقت میں آئی ہے جب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ٹیکس قومی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیںمگر ٹیکس گوشواروں کے فارم انگریزی میںہیں اور پیچیدہ بھی جس کی وجہ سے انہیں پْر کرنا عام ٹیکس دہندگان کے بس کی بات نہیں۔ لیکن وفاقی وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا دعویٰ ہے کہ ایف بی آر نے ان کی مشکل آسان بنانے کے لئے گوشواروں کی زبان اردو میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایف بی آر کو آسان اور قومی زبان اردو میں ٹیکس گوشوارے جاری کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت کے اہم ترین اقدامات سے ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے لیکن کاروباری برادری کے بقول چیئرمین ایف بی آر کا رویہ کاروبار مخالف رہا ہے لیکن سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے اقدامات درست ہیں اور وہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھارہے ہیں جو کہ ملک کی اشد ضرورت ہے۔تاجروں کی ہڑتال کے فیصلے کا سبب فنانس ایکٹ میں شامل کی گئی چند متنازع شقیں بنی ہیں جن میں نقد لین دین پر 2 لاکھ روپے کی حد مقرر کرنا، ٹیکس چوری کے الزامات کی بنیاد پر ایف بی آر حکام کو گرفتاری کے وسیع اختیارات دینا اور ڈیجیٹل انوائسنگ و ای-بلنگ کا لازمی نفاذ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی صورتحال کو مزید بگاڑ رہی ہے کہ باقاعدہ (فارمل) شعبہ پہلے ہی بلند ترین ٹیکسز اور ودہولڈنگ شرح میں مسلسل اضافے کے بوجھ تلے دب چکا ہے جو کہ کسی طور بھی معاون ثابت نہیں ہورہا۔ٹرن اوور پر کم از کم ٹیکس کے ساتھ ہر سال ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بے رحمانہ اضافے نے صنعتی شعبے کی منافع بخش صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے اور صنعتی شعبے کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں شراکت میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔اب ودہولڈنگ ٹیکس کی عمومی شرح کو بڑھا کر ٹرن اوور کا بھاری بھرکم 15 فیصد کردیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کو اپنی مجموعی آمدنی کا 15 فیصد منافع سے قطع نظر حکومت کو دینا ہوگا ، یہ پچھلی شرح یعنی کمپنیوں کے لیے 9 فیصد اور افراد یا ایسوسی ایشنز آف پرسنز کے لیے 11 فیصد کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے، جو باقاعدہ معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہا ہے۔کتنے کاروبار حقیقت میں 15 فیصد مجموعی آمدن پر ٹیکس برداشت کرکے بھی منافع میں رہ سکتے ہیں؟ ایسے مالیاتی اقدامات نے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے جس کے باعث کاروبار ودہولڈنگ ٹیکس کو ایک لاگت کے جزو کے طور پر لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی واضح ہے: مسلسل مہنگائی، ٹیکس کی عدم ادائیگی میں اضافہ اور غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، کیونکہ کمپنیاں ظالمانہ اور بھتہ خوری جیسے ٹیکس نظام سے بچنے کے لیے غیر رسمی راستے اختیار کر رہی ہیں۔ڈیجیٹل انوائسنگ کو لازمی قرار دینے اور نقد لین دین پر پابندی سے متعلق شقوں کا مقصد بظاہر دستاویزی اور کیش لیس معیشت کو فروغ دینا ہے، تاہم حکام نے شاید اس حقیقت کو نظر انداز کردیا ہے کہ ایسی بڑی تبدیلیوں پر عملدرآمد ایک ایسی مارکیٹ میں آسان نہیں جہاں اب بھی زیادہ تر ادائیگیاں نقدی میں ہوتی ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ حکومت اس بنیادی تبدیلی سے پہلے ایک عبوری مدت متعارف کرائے تاکہ اس سے جڑے عملی مسائل کو کم کیا جاسکے۔میاں شہبازشریف کی کوشش رہی ہے کہ وہ بغیر کسی تصادم کے اپنی حکومت کو کامیاب بنائیں لیکن بیوروکریسی ایسی مشکلات کا دائرہ ان کے گرد بُن دیتی ہے کہ وہ کامیابی کی راہ پر چلتے ہوئے مشکلات میں پھنس جاتے ہیں۔ان کے دور میں ٹیکسز کے حوالے سے جوبھی اقدامات کئے جارہے ہیں انہیں آئی ایم ایف کا حکم قرار دے دیا جاتا ہے لیکن بزنس کمیونٹی ان اقدامات کو تسلیم کرنے سے انکار کررہی ہے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ یہ آن کھڑا ہوا ہے کہ بزنس کمیونٹی ایف بی آر کے نافذ کردہ نئے قوانین خاص طور پرسیکشن 37 اے اور 37 بی اور ایف بی آر افسران کو دیئے گئے بے جا اختیارات کوتسلیم کرنے سے انکار کررہی ہے اور اس کے خلاف سڑکون پر آنے کو تیار ہے،اگرچہ وفاقی وزیر خزانہ نے ملک کے اہم ترین چیمبرز آف کامرس کے صدور اور ایف پی سی سی آئی کی قیادت کو اسلام آباد میں بلا کر انہیں منانے کی بھرپور کوشش کی مگر سوائے ایف پی سی سی آئی کے صدر اور انکے حامی چندلوگوں کے ملک کے دیگر شہروں کے نمائدہ چیمبرز آف کامرس سیکشن 37 اے اور 37 بی اور ایف بی آر افسران کو دیئے گئے بے جا اختیارات کو ختم کئے بغیر ہڑتال کی کال واپس لینے کو تیار نہیں تھے۔پاکستان کے دوبڑے شہروں کے رہنمائوں لاہور چیمبر کے صدر ابوذرشاد اور کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ چاپلوسی کرنے والے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل نہیں کراسکتے اسی لئے انہوں نے وزیر خزانہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور تاجروں،صنعتکاروں،امپورٹرز،ایکسپورٹرز کی سپورٹ سے19جولائی کی ہڑتال ضرور ہوگی۔ اس طرح 19 جولائی کی ہڑتال کے حوالے سے ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز میں اختلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ایف پی سی سی کے صدر عاطف اکرام نے 19 تاریخ کی ہڑتال سے علیحدگی کا اعلان کیا اورکہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی 19 تاریخ کی ہڑتال کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہمارے مطالبات مانے گی اورحکومت کے وعدے کے بعد ہڑتال نہیں کی جاسکتی۔عاطف اکرام کا کہنا تھا کہ جب حکومت سے مذاکرات جاری ہیں تو ایسے وقت میں ایف پی سی سی آئی ہڑتال میں چیمبرز کاساتھ نہیں دے گی۔ دوسری جانب کے سی سی آئی کے صدر جاوید بلوانی نے کی ہڑتال کی کال کی حمایت کرتے ہوئے ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز نے بھی 19 جولائی کو پہیہ جام کا اعلان کیا ہے۔یہی نہیں بلکہ پاکستان وناسپتی مینوفیکچرر ایسوسی ایشن نے بھی بڑا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر کی گھی ملیں غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کی دھمکی دے دی ۔صدر پی وی ایم اے شیخ عمرریحان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے سیکشن 40 بی کے تحت ملک بھر کی گھی ملوں میں اہلکار تعینات کردئیے ہیں اورحکومت نے اگر جمعہ تک ہمارے مطالبات نہ مانے تو ملک بھر میں گھی ملیں بند کردیں گے اورگھی ملیں جمعہ کو مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ملک بھر میں سپلائی بند کردیں گی،گھی ملوں نے مذاکرات میں 37 اے،ڈیجیٹل انواء سیز اور بینکوں میں دو لاکھ والی شرط کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔شیخ عمرریحان ویسے تو ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام کے کیمپ میں شامل ہیں اور انہی کے کاروبار سے انکی وابستگی بھی ہے اس لئے یقیناً وہ 19جولائی کی ہڑتال کا حصہ تو نہیں بنیں گے۔ مگر جاوید بلوانی کی حمایت میں کراچی کی7میں سے5صنعتی ایسوسی ایشنز ہڑتال کا حصہ بننے کوتیار ہیں جبکہ صراف ایسوسی ایشن، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ شرجیل گوپلانی اور کراچی موبائل اینڈ الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام ، کراچی اولڈ سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے چیئرمین ناصر مکانی،کلفٹن اینڈ ڈیفنس تاجر اتحاد کے چیئرمین راشد خان،ریگل ٹریڈ کے گلزار آرائیں،. اسماعیل لالپوریہ،پان منڈی ایسوسی ایشن کے صدر کاشف سعیدی سمیت شہر بھر کی90فیصد تاجرتنظیموں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے 19 جولائی ہفتے کی ہڑتال کی مکمل حمایت کردی ہے۔ فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی)کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 26. 25میں عائد کئے جانے والے ٹیکسز کے خلاف کراچی چیمبر آف کامرس کا ساتھ دینے کا واضح اعلان کیا ہے جبکہ نارتھ کراچی ایسوسی ایشن کے صدر فیصل معیز خان ایک بار پھر اس مسئلے کے حل کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ مداخلت کریں اور تاجروں کو کالے ٹیکس قوانین، ایف بی آر کے ظالمانہ اختیارات، سیکشن 37 اے اور 37 بی سے نجات دلائیں۔اگرچہ ماضی میں تاجروں کی جانب سے کی جانے والی ایسی ہڑتالوں کی کالز عموماً دستاویزی نظام کی مزاحمت اور ٹیکس کی واجب الادا ادائیگی سے گریز کے سبب ہوتی تھیں، تاہم یہ امر قابل توجہ ہے کہ مخصوص احتجاج کے بنیادی حمایتی صنعت کار ہیں جو کہ عمومی طور پر پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں،لہٰذا ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور حکومت کو انہیں سرسری طور پر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ٹیکس پالیسی میں اس امتیازی سلوک سے عدم مساوات واضح ہوتی ہے جو نہ صرف معیشت کی رسمی حیثیت کو فروغ دینے سے روکتی ہے بلکہ صنعت میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی کرتی ہے، ضروری ہے کہ حکومت صنعتکاروں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور مشاورت سے فنانس ایکٹ کی ان شقوں میں مناسب ترامیم کرے جنہیں منصفانہ، قابلِ عمل اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے معاون بنانا لازم ہے۔

مزیدخبریں