لاہور جمخانہ کی رونقیں بحال کی جائیں

09:15 AM, 18 Jul, 2025

تاریخ کے گہواروں میں قائم و دائم شہر لاہور کی یوں تو بہت روایات ہیں۔ صدیوں سے آباد اس شہر میں سیاسی و ثقافتی، ادبی اور فنون لطیفہ سے منسوب روایات کی موجودگی میں کھیل ایسا شعبہ رہا جس میں لاہور نے ہمیشہ سقبت حاصل کی۔ اگر اس کے میدانوں کا ذکر کروں تو لاہور جم خانہ کے زیر سایہ لاہور جم خانہ کرکٹ کلب جس کی داستان ایک صدی سے لکھی جا رہی ہے۔ لاہور جم خانہ وہ گرائونڈ ہے جہاں دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کومیچز کھیلنے کا شرف حاصل ہوا ۔یہ چند سالوں کی بات ہے جب یہ گرائونڈ لاہوری کلب کرکٹ کا دل و جان تھی۔ خاص کر اس زمانے میں جب اس گرائونڈ کا مکمل کنٹرول جاوید زمان کے پاس تھا۔ جاوید زمان کرکٹ بورڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ کے بڑے عرصہ تک چیئرمین رہے اور جب تک وہ حیات تھے اس گرائونڈ پر صبح سے شام تک ٹورنامنٹس کی بھرمار ہوتی تھی اور شام کو یہاں باقاعدہ کرکٹ کیمپ لگا کرتا تھا۔ عمران خان سے رمیض راجہ، وسیم اکرم، عبدالقادر جیسے نامور کھلاڑی صبح و شام یہاں پریکٹس کرتے آتے تو شیدائیوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہو جاتا۔ یاد رہے یہ وہی جم خانہ کرکٹ کلب ہے جہاں میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم رہے تو تین مرتبہ وہ ہر ہفتے کے ہفتے کرکٹ کھیلنے جم خانہ کلب آتے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ گرائونڈ سیاسی حوالوں سے بھی بڑی شہرت یافتہ ہے۔ لاہور کی کلب کرکٹ میں اس کو بادشاہوں کی گرائونڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس گرائونڈ میں جدید سہولیات سے مزین جم بھی ہے جہاں کھلاڑی پریکٹس کے بعد باقاعدہ جم کیا کرتے تھے۔ 
دنیا ئے کرکٹ کی ایک نامور کرکٹ گراؤنڈ کی کہانی جو اب گمنام ہو چکی ہے۔ لاہور جم خانہ کرکٹ کلب گراؤنڈ کا پہلا اعزاز جہاں سن پچاس میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ کھیلا گیا۔ جم خانہ کرکٹ کلب کی تاریخ اور عظیم کرکٹر جن کے قدموں کو اس کلب کی مٹی نے بوسہ دیا۔ اس کے تاریخی حوالوں میں اترا جائے تو لاہور جمخانہ کرکٹ کلب مال روڈ پر باغ جناح کے احاطے میں واقع ایک شان دار، یادگار اور تاریخ ساز گرائونڈ جو دو سو گز رقبے پر محیط ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا جبکہ برصغیر پاک و ہند کا دوسرا قدیم ترین گراؤنڈ ہے جو 1880 میں قائم کیا گیا۔ یہ گرائونڈ کولکتہ ایڈن گارڈن گرائونڈ (1864ئ)  کے بعد جم خانہ کلب گراؤنڈ دوسرا تاریخی میدان ہے۔ اس کی خاص بات لاہور جم خانہ کرکٹ گراؤنڈ کا پویلین ایک شاہکار، اس کے فن تعمیر کا کریڈٹ سر اسٹون اور بھائی رام سنگھ کو جاتا ہے۔ اس کے پویلین کیلئے بیرون ملک سے خاص طور پر شاہ بلوط کی لکڑی منگوائی گئی جو ایک آرٹ ورک اور ماسٹر پیس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی جم خانہ کرکٹ کلب کی دیدہ زیب عمارت میں کرکٹ میوزیم اور آرکائیو بھی قائم ہے۔ میوزیم اور آرکائیو کا سہرا نجم لطیف کو جاتا ہے۔ جنہوں نے بنا کسی حکومتی امداد کے اپنے بل بوتے پر اس تاریخی پویلین کو میوزیم میں تبدیل کیا۔ اس کے اندر عالمی کرکٹ کے نامور کھلاڑیوں کی نایاب تصاویر،سرڈان بریڈ مین کی دستخط شدہ ایک گیند بھی موجود ہے۔ قائداعظم کی کرکٹر نذر محمد کے ساتھ اکلوتی فوٹو بھی موجود ہے۔ اس میدان میں کھیلنے والی ٹیموں کے جھنڈے، بینرز جبکہ کھلاڑیوں کے استعمال میں رہنے والی نایاب اشیاء آج بھی موجود ہیں۔جم خانہ کرکٹ کلب کے پویلین میں انٹر ہوتے ہی ایک Glass Plate پر اس گرائونڈکا مارکنگ سال لکھا ہوا ہے۔ جس کے تحت اس گرائونڈپر برطانوی فوج اور ورلڈ الیون کی کرکٹ ٹیموں کے مابین پہلا کرکٹ میچ 1911ء جبکہ یہاں پہلا بین الاقوامی میچ میلبورن کرکٹ کلب اور برطانوی فوج کی ٹیم کے مابین 1926ء میں کھیلا گیا پھر آزادی کے بعد فنڈ ریزنگ کیلئے 1947ء میں پنجاب اور سندھ کی ٹیموں کے مابین یادگار میچ ہوا۔ یاد رہے قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں کرکٹ کنٹرول بورڈ آف پاکستان کا قیام بھی اسی کلب میں ہوا جو بعد میں قذافی اسٹیڈیم میں شفٹ ہو گیا۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قومی ٹیم نے یہاں پر تین آفیشل بین الاقوامی میچ انڈیا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے۔ انڈین ٹیم جب پاکستان کے دورے پر آئی تو لاہور میں واحد ٹیسٹ میچ یکم فروری 1955ء کو اسی میدان پر کھیلا گیا جس میں انڈیا کو شکست ہوئی تھی۔ اسی سال اکتوبر میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو بھی اسی میدان پر ہرایا۔ جم خانہ کرکٹ کلب گراؤنڈ میں کھیلنے والے دنیائے کرکٹ کے ناقابل فراموش کھلاڑیوں میں عبد الحفیظ کاردار، فضل محمود، گیری الیگزینڈر، ویزلین ہال، گیری سوبر، امتیاز احمد، حنیف محمد، سرفراز نواز، ماجد خان، عبدالقادر، عمران خان، لانس گبز، ویوین رچرڈز، وجے لکشمن منجریکر، ایلن بارڈ، اور جیف بائیکاٹ ایسے انوکھے کھلاڑی اس میدان کو رونق بخش چکے ہیں۔انگلستان کے مشہور بلے باز ایلن لیمب نے اس کا تقابل لارڈز کرکٹ گراونڈ جبکہ آسٹریلین کھلاڑی گریگ چیپل نے اسے دنیا کے خوبصورت ترین گراؤنڈ میں سے ایک قرار دیا۔کبھی وہ زمانہ تھا کہ سر ویزلے ہال ایسے جارح مزاج باؤلر جبکہ حنیف محمد ایسے ٹھنڈے مزاج کے حامل بلے باز اس گرائونڈپر جلوہ افروز ہوتے تھے۔ آج چند عیش و عشرت میں مبتلا سرکار کے اعلی عہدوں پر براجمان افراد یہاں اپنا وقت بیتانے آتے ہیں۔ کبھی بالائے سر فلک رہنے والوں کے قدم بھی زیر خاک ہوتے ہیں۔ یہی کچھ اس عظیم الشان پویلین، سرسبز و شاداب، گھنے درختوں کے بیچ واقع اور پررونق فضا سے گھیرے جم خانہ کرکٹ کلب گراؤنڈ کے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔اب یہ گراؤنڈ صرف جم خانہ کلب کے اراکین کے لئے عام پریکٹس میچوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی جو کہ پاکستان میں کرکٹ گرائونڈز کی بہتری کے لئے دن رات کوشاں ہیں نجانے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹ کا یہ تاریخی میدان کیوں اوجھل ہے اور ان کے علم میں یہ بات ہے کہ لاہور جم خانہ کلب کو کس طرح لاہوری کلب کا گہوارہ بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں کوچنگ سکیموں اور ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے کرکٹ کیمپوں کا اجراء کیا جا سکتا ہے۔ لاہور جم خانہ کرکٹ کلب کو انٹرنیشنل گرائونڈز کا درجہ حاصل ہے۔ ایک دور میں یہاں قائداعظم ٹرافی اور دوسرے بڑے قومی ٹورنامنٹس ہوتے رہے ہیں لہٰذا میری گذارش ہے کہ محسن نقوی اس پر بھرپور توجہ دیں۔ اس کی ناصرف رونقیں بحال کریں بلکہ یہاں بڑے بڑے قومی ٹورنامنٹس بھی آرگنائزڈ کئے جائیں۔ یہ شہر لاہور کی خوبصورت کرکٹ گرائونڈ ہے جو کئی سالوں سے اپنی شاندار روایات سے محروم کر دی گئی ہے۔ 

مزیدخبریں