ہم نے وہ دور تو نہیں دیکھا جب علی گڑھ میں پڑھنے والے "بابو" کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پر سنا ضرور ہے کہ بابو کا سوسائٹی میں الگ ہی پروٹوکول ہوتا تھا۔ اس کی وضع قطع اور رنگ ڈھنگ ہی بدل جاتے تھے۔ ہم نے پندرہ بیس برس پہلے کا وہ دور ضرور دیکھا ہے جب جنوبی پنجاب میں بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان یا اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں پڑھنے والے بھی بابو ہی سمجھے جاتے تھے۔ اور اگر خوش قسمتی سے کوئی طالب علم پنجاب یونیورسٹی یا کسی وفاقی یونیورسٹی پہنچ جاتا تھا تو اس کی ٹور ہی بدل جاتی تھی۔ ہمارے زیادہ تر سینئرز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پڑھتے تھے۔ بہاولپور داخل ہوتے ہی کشادہ سڑکوں پر بڑی سے بڑی بس بھی یونیورسٹی سٹاپ کے لیے رکتی اور یونیورسٹی کا نام لے کر اعلان کیا جاتا۔ سامنے ریلوے لائن کے ساتھ وسیع وعریض یونیورسٹی کا شاندار داخلی راستہ چمک رہا ہوتا۔ دو رویہ بڑی سڑک پر یونیفارم میں ملبوس گارڈز، جدید آلات سے گاڑیا چیک کرتے نظر آتے۔ پورے شہر میں یونیورسٹی کی بسیں سارا دن دوڑتیں۔ شاید ہی کسی یونیورسٹی کی بسیں اتنی فراوانی سے شہر بھر کے طلبا کو لانے لیجانے کا کام کرتی ہوں۔ جب فیکلٹی کی ایکزیکٹیو بس نکلی تو دیکھنے والے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ دیگر شہروں کے علاؤہ خود بہاول پور کے لوگوں کے لیے یونیورسٹی فخر اور امید کا بڑا وسیلہ رہی ہے۔
بہاولپور میں 1879 میں ’’مدرسہ صدر علومِ دینیات‘‘ قائم کیا گیا تاکہ دینی اور دنیاوی علوم کا حسین امتزاج ممکن ہو۔ یہ قدم علمی روایت کے تسلسل کا آغاز تھا۔ 1925 میں اس ادارے کو جامعہ عباسیہ کا رْتبہ ملا۔ عباسی خاندان نے اسے مصر کی جامعہ الازہر کی طرح علمی مرکز بنانے کا ارادہ کیا۔ نواب صادق محمد خان عباسی پنجم نے صادق ایجرٹن کالج کے ساتھ شاندار عمارت تعمیر کروائی، جو آج بھی ‘‘عباسیہ کیمپس’’ کہلاتا ہے۔ 1963 میں صدر ایوب خان کے دورے کے بعد نام تبدیل ہوا، اور 1975 میں پنجاب اسمبلی کے ایکٹ کے تحت چارٹرڈ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا۔
یونیورسٹی کا انفراسٹرکچر حیران کن طور پر جدید فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس کے بڑے بڑے بلاکس، آڈیٹوریم، کشادہ سڑکیں، لیبارٹریز، امتیازی سہولیات اور بہت بڑے پروفائل رکھنے والے پروفیسر اور سائنسدان اس یونیورسٹی کا سرمایہ رہے
ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی، بہاول پور کا اصل نور محل ہے۔ یہ نور کی تخلیق کا کام انجام دیتی رہی ہے۔
جنوبی پنجاب کی مجموعی ثقافت کی امین اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، چمکتی سفید عمارتوں سے مسکراتی ہوئی۔ بہاول پور کے جدید کیمپسز کے علاؤہ رحیم یار خاں اور بہاول نگر میں بھی اس کے غیر معمولی وسائل سے مالامال کیمپسز بنائے گئے۔ اس یونیورسٹی نے لاکھوں افراد کو تعلیم دینے کے ساتھ پاکستان کی بہترین تحقیق بھی پیش کی۔ یہ یونیورسٹی ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے کا توسل بھی بنی۔
سانحہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اسلامیہ یونیورسٹی نوحہ کناں ہے۔ یہ مسلسل حشرات کی بسیار خوری بوسیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ قابل رشک کیریئر رکھنے والے سائنٹسٹ اب تنخواہوں کا رونا روتے ہیں۔ کبھی یہ مظلوم ادارہ سوشل میڈیا اور کبھی قومی میڈیا پر بدنام ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کا ایک مکمل پس منظر ہے۔ چند نالائقوں اور مجرمانہ دماغ کے لوگوں کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یونیورسٹی کی آس امید لے گیا۔ جس معاشرے میں جزا سزا کا کوئی تصور نہ پایا جاتا ہو وہاں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا معصوم وجود کتنی جنگ لڑ سکتا تھا؟ وسائل کا بے دریغ غلط استعمال کرنے والوں کا کبھی احتساب نہیں کیا گیا۔ یونیورسٹی کی انتڑیاں نکال کر بیچ کھانے والوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا۔ اسے سفارش، بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کے سپرد کیا گیا۔ ہم نے بہاول نگر کیمپس کے حالات خود بگڑتے دیکھے تھے۔ جب کسی معاشرے کے لوگ ذاتی مفاد کی خاطر اداروں میں دخل اندازی کرنے لگیں اور اس کے نظام کو سبوتاژ کر دیں تو ادارہ باقی نہیں رہتا۔ میں ایسے نیک اور محترم لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو ہر مجرم کی پشت پناہی کے لیے سامنے آ جاتے تھے۔ پھر اپنے خاندانی اثر و رسوخ سے اپنی دھاک بٹھاتے رہتے تھے۔ انھوں نے اپنے مفادات تو ضرور حاصل کر لیے لیکن یونیورسٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ نہ جانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبے کی بہت سی یونیورسٹیاں اسی انجام کی طرف گامزن ہیں۔ یونیورسٹی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کے بنا نہ تو تعلیمی معیار کو بہتر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یونیورسٹیوں کو مضبوط اور خود مختار بنایا جا سکتا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے موجودہ وائس چانسلر سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں لیکن ان کے لیے اندرونی اور بیرونی مسائل سے گھری ہوئی یونیورسٹی کو پھر سے اٹھانا آسان کام نہیں ہو گا۔
جس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں یہ نصیحتیں کارگر ثابت نہیں ہو سکتیں کہ لالچ بری بلا ہے اور دنیا کی محبت خسارے کا باعث ہے اسی طرح جامعات کے موجودہ نظام میں شفافیت اور انصاف جیسی خصوصیات پیدا کرنا نا ممکن ہے۔ یار لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں سب کی کہ فرداً فرداً اصلاح کریں ایک ایک آدمی عورت کو پکڑ کر نصیحتیں کریں اور سب ٹھیک ہوتا جائے گا۔ میرے خیال سے موجودہ نظام میں بعض بنیادی تبدیلیاں کرنا نا گزیر ہیں۔
یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی، ترقی سے لے کر تدریس اور تحقیق کے سارے نظام کو از سرِ نو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً فیکلٹی اور طلبا کے تمام تر مسائل نظام میں ذرا سی تبدیلی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ آپ پیپر بنانے اور چیک کرنے کا ایک سینٹرلائزڈ نظام قائم کر دیں جس میں ایک یونیورسٹی کے سوالیہ پرچے اور پیپرز چیکنگ جیسے امور کسی دوسری یونیورسٹی کو تفویض کر دیے جائیں۔ اسی طرح ایک صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں میں بھرتیوں کے لیے اعلی تعلیمی کمیشن اپنا خودکار نظام متعارف کروائے جس میں بھرتیوں اور ترقی کا موثر اور قابلِ عمل طریقہ موجود ہو۔ اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ پورا سسٹم بھی بیوروکریسی کے حوالے کر دیا جائے بلکہ ماہرینِ تعلیم اور ٹیکنوکریٹس کی مدد سے اعلی تعلیمی کمیشن خود اپنا ایک مرکزی نظام متعارف کروائے۔
موجودہ نظام سے حاصل کردہ نمبروں کو ہی بنیاد بنانے کی بجائے استاد کی پڑھانے کی صلاحیت، تحقیق، تخلیقی صلاحیت، کمیونیکیشن کی مہارت اور نفسیات کو پرکھتے ہوئے اس کا تقرر کیا جائے۔ طلبا کا لوکل استاد پر انحصار کم سے کم ہو جائے تو تعلیم کا نظام بہت حد تک شفاف ہو سکے گا۔ اسی طرح اگر فیکلٹی کی بھرتی اور ترقی کا نظام بھی مرکزی ہو تو یونیورسٹیوں میں پائی جانے والی ملازمین کی گھناؤنی سیاست کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اس سب سے بڑھ کر احتساب کا نظام فعال کرنا ہو گا۔ ماضی کے تمام مجرم کٹہرے میں کھڑے کرنا ہوں گے تاکہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو سبق مل سکے۔ ہم بغیر احتساب کے ایک ناکارہ اور فالج زدہ معاشرہ تو تشکیل دے سکتے ہیں کوئی ترقی یافتہ اور زندہ سماج ہر گز نہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کا نوحہ
09:15 AM, 18 Jul, 2025