شام میں ریت اور موت کا طوفان

09:13 AM, 18 Jul, 2025

پاکستان کے بعد ایک اور ملک کے ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ یہ اسلامی ملک شام ہے، اسے تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ امریکی ڈیپ سٹیٹ نے آج سے پچاس برس قبل بنایا تھا۔ اس وقت عراق پر امریکہ کی پسندیدہ حکومت تھی۔ کویت سے بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ تھی، تقسیم کے اس منصوبے کو پہلے حافظ الاسد اور بعد ازاں بشار الاسد نے ناکام بنایا۔ شامی حکومت کو روس اور بعد ازاں چین کی حمایت حاصل رہی۔ حافظ الاسد کے منظر سے ہٹنے کے بعد امریکہ نے اپنے حمایتی کرداروں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کی لیکن شامی عوام اور فوج نے اسے ناکام بنا دیا۔ اس وقت عوام اور فوج ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ انہوں نے اپنے درمیان سے امریکی مفادات کی ہوا تک کو نہ گزرنے دیا۔ امریکہ نے محسوس کیا کہ شام پر چڑھائی سے قبل عراق کو کمزور کرنا اور اسے فتح کرنا زیادہ ضروری ہے۔ یوں ان کی پہلی ترجیح عراق اور اس کے وسائل پر قبضہ قرار پایا۔ 
شام کی تقسیم اب زیادہ دور نہیں، اس کے بڑے ذمہ دار ہندو و یہود اور امریکی تو ہیں لیکن مسلمان ممالک بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو باہمی اختلافات امریکہ کی محبت میں ایک دوسرے سے دور رہے۔ امریکہ ایک ملک پر یلغار کرتا تو سب ملکر اس کا تماشا دیکھتے اور مختلف تنظیموں کے ہنگامی اجلاس بلا کر امریکی اقدامات کی دبے لفظوں میں مذمت نما تعریف کرتے اور مشکل میں گھرے اسلامی ملک کے ساتھ زبانی کلامی طور پر ساتھ کھڑے ہونے کے دعوے کرنے کے بعد سمجھتے کہ انہوں نے اپنے برادر اسلامی ملک کی بے پناہ مدد کی ہے۔ وہ اس سوچ سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹ سکے کہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ پاکستان کو دولخت کرنے کے بعد، عراق، لیبیا اور کویت پر چڑھائی کی گئی پھر سوڈان کی طرف توجہ دی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اب گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے شام کے حصے بخرے کئے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل اور امریکہ نے فلسطین اور ایران پر حملہ کرکے اس بات کو یقینی بنایا کہ جب وہ شام میں اپنا مکروہ کھیل شروع کریں 
تو کوئی اہل شام کی مدد کو نہ آئے۔ 
بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد جولانی کو اقتدار بخشا گیا جس نے اولین فرصت میں اہم تنصیبات سے فوج ہٹا لی۔ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو پیش کر دیں اور ایک وسیع علاقے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اسرائیلی فوج کو قبضے میں معاونت کی۔ آج اسرائیل، شام کے قریباً تین سو کلویٹر علاقہ پر قبضہ کر چکا ہے۔ شام پر اسرائیلی فوج نے فیصلہ کن حملہ کر دیا ہے جس میں دارالحکومت دمشق کو نشانہ بناتے ہوئے زبردست بمباری کی گئی ہے جس میں شام کے صدارتی محل وزارت دفاع کے دفاتر اور اہم تنصیبات اڑا کے رکھ دی گئی ہیں۔ اسرائیلی یلغار میں سینکڑوں افراد شہید کر دیئے گئے ہیں۔ شام میں مختلف علاقوں میں میزائل بھی برسائے گئے ہیں۔ صدر شام جولانی کہاں ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں غالباً اس نورا کشتی سے قبل ہی وہ کسی محفوظ مقام بھی منتقل ہو چکا تھا، امریکہ اپنا مفاد حاصل کرنے کے بعد اپنے ایجنٹ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی روایت برقرار رکھے گا، جولانی قتل ہو جائے گا اور بتایا جائے گا کہ اسے اس کے اپنے آدمیوں، اپنے محافظوں نے قتل کر دیا۔ 
جولانی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد شامی مسلح افواج میں سکریننگ کرتے ہوئے پچیس فیصد افسروں اور جوانوں کو برخاست کیا جو سابق حکومت اور حکمران کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے اس کے بعد بھیس بدل کر آئے اسرائیلیوں کیلئے اپنے دفاتر کھولے، انہیں اہم عہدوں پر تعینات کیا جب تمام معاملات پر اسرائیل کو اندرونی طور پر کنٹرول حاصل ہو گیا تو اس کے بعد شام پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ شام میں موجود اسرائیلی ایجنٹوں نے شام کے بڑے قلعے کا دروازہ اشارہ ملنے پر کھول دیا ہے۔ اہل شام اس وقت مدد کے لئے ترکی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ترکی نے شام میں بشار الاسد کی حکومت گرانے میں اسرائیل اور امریکہ کی مدد کی تھی۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ تجارت و سفارت عرصہ دراز سے کی جا رہی ہے۔ پس ترکی اگر مدد کیلئے آتا ہے تو وہ شام کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ اسے مزید پھنسانے اور جلد سرنڈر کرانے کے لئے آگے آئے گا، شام سے نبٹنے کے بعد ترکی کی باری آئے گی، اسے بھی موج میلہ کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جائے گا۔ قیام اسرائیل کے بعد آس پاس کے ممالک میں اسرائیل کی مزید تابعدار حکومت کی ضرورت ہوگی، وہاں مقبول ترک لیڈر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک منصوبے کے تحت ترکی کو یورپ میں شامل نہیں کیا گیا وہ نیٹو کا رکن ضرور ہے لیکن نیٹو ممالک ہی اس پر حملہ آور ہوں گے، کوئی نیٹو ایجنڈے کے مطاب اور نیٹو قوانین کے مطابق ترکی کو جنگ میں بچانے کیلئے نہیں آئے گا۔ یہ سہولت صرف امریکہ یورپ اسرائیل کے لئے ہے کسی بھی مسلمان ملک کے لئے نہیں، مسلمان ممالک نے کارنامہ انجام دیا کہ ترکی کو عرب لیگ سے دور کیا۔ یوں وہ امریکہ اور اسرائیل کے قریب تر ہوتا گیا۔ امریکہ بھی اسے مسلم بلاک سے دور کرنا چاہتا تھا۔ مسلمان ملکوں نے کام آسان کر دیا، شام کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے بعد قطر، بحرین اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے عرصہ حیات تنگ ہوگا۔ امریکہ اپنی جمہوریت کے بائولے کتے کو سعودی حکمران خاندان پر چھوڑ دے گا اور شام جیسے مثبت نتائج برآمد کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گا۔ عراق پر قبضے کے بعد امریکہ نے بہت پہلے کہا تھا کہ شام پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ جب سے شام پر نظر رکھے ہوئے تھا وقت مناسب جان کر اسرائیل کو حملے کا اشارہ کر دیا گیا۔ کاش مسلمان ممالک کو اس بات کا ادراک ہوتا کہ گریٹر اسرائیل آس پاس کے مسلمان ممالک کی زمین ہتھیا کر بنے گا، انہیں کمزور کرنے کے بعد ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے بعد وہ اس قابل نہ چھوڑے جائیں گے کہ منہ سے آہ بھی کر سکیں۔ آج اسرائیلی فوجیں اور ان کے آرمڈ دستے شام کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اسرائیلی فضائیہ شام کی فضائوں میں ’’ہوم فلائیٹ‘‘ کے مزے لے رہی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں شام میں صرف ریت ہوگی یا موت پھر ڈونلڈ ٹرمپ قبضہ مکمل ہونے کے بعد جنگ بند کرائے گا۔ یوں اس کے نوبل پرائز سی وی میں اسٹار کا اضافہ ہو جائیگا۔ وہ نوبل پرائز جس کے لئے پاکستان نے اسے نامزد کیا ہے۔ 

مزیدخبریں