گل پلازہ آتشزدگی: جاں بحق 6، فائر فائٹر بھی شہید، امدادی کارروائیاں جاری

01:05 PM, 18 Jan, 2026

کراچی :کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ رات 10 بجے لگنے والی شدید آتشزدگی 17 گھنٹے گزرنے کے باوجود قابو میں نہیں آ سکی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک 6 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، جن میں ایک فائر فائٹر فرقان بھی شامل ہے۔

واقعے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دھوئیں کے باعث متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ فائر فائٹر فرقان نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان قربان کر دی۔

شہر کے اہلکار اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ بجھانے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہیں، لیکن شدید دھواں اور آگ کی شدت کی وجہ سے اب تک قابو پانا ممکن نہیں ہو سکا۔

جا ن بحق افراد کی شناخت عامر، آصف، فراز، شہروز اور کاشف کے نام سے ہوئی ہے۔ فائر فائٹر فرقان امدادی کارروائی کے دوران عمارت کے ایک حصے میں پھنس گئے تھے۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن دورانِ علاج وہ جان کی بازی ہار گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور ایک واٹر باؤزر استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان نیوی کی فائر بریگیڈ ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

گل پلازہ کی گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکی ہیں، آگ نے بالائی دو منزلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عمارت کے متعدد حصوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ پلازہ میں کپڑے، کراکری، پرفیومز، میک اپ، الیکٹرونکس اور کھلونوں کی تقریباً 1200 دکانیں موجود ہیں۔ ریسکیو ترجمان کے مطابق شدید تپش اور آتش گیر سامان نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا ہے اور عمارت کے پلر کمزور ہو گئے ہیں۔

حادثے کے بعد کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں، اور دکاندار اپنے اہل خانہ کی خیریت کے لیے بے قرار ہیں۔ ایک خاندان کے مطابق ان کے دو بیٹے ابھی بھی عمارت کے اندر ہیں، جبکہ ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر اور دو سیلز مین بچوں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ایک بزرگ نے بھی کہا کہ ان کا داماد لاپتہ ہے اور گزشتہ رات کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے، تاہم عمارت کی مخدوش حالت اور شدید گرمی امدادی کاموں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

مزیدخبریں