پاک بھارت فضائیہ جنگی طیاروں کا تقابل

09:55 AM, 18 Jan, 2026


جدید دور میں کسی بھی ملک کی دفاعی طاقت صرف زمین پر نہیں بلکہ آسمان میں موجود اس کی فضائی دفاعی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔ آجکل پاکستان کے جنگی جہازوں کی عالمی سطح پر دھوم ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ مئی 2025 کی پاک بھارت چار روزہ جنگی جھڑپوں میں پاکستان ائیر فورس کے جنگی جہازوں کا بھارت کے آٹھ جنگی طیارے بشمول چار رافیل طیارے گرانے کی صلاحیت ہے۔ جو پاک فضائیہ کی خطے میں فضائی غلبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
مئی 2025 کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کی تاریخی سبکی کے بعد بھارت فرانس سے رافیل جنگی جہازوں کی خریداری میں مصروف ہے۔ جبکہ پاکستان چین کے تعاون سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں عالمی منڈیوں میں بیچنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ جنگی طیارے بدلتی ٹیکنالوجی اور جنگی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کئے جاتے ہیں۔ پاکستان ائیر فورس کے پاس جدید ٹیکنالوجی، استعمال اور ڈیزائن کے کئی لڑاکا طیارے موجود ہیں۔ دنیا بھر کی فضائی ٹیکنالوجی اور جنگی طیاروں کا جائزہ لیا جائے تو سوال یہ نہیں ابھرتا کہ کون سا جنگی طیارا/جہاز دنیا میں زیادہ مشہور ہے؟ یا کون سا جنگی طیارہ زیادہ مہنگا ہے؟ اہم سوال یہ ہے کہ جنگی حالات میں امریکی، فرانسیسی،جرمن یا چینی کون سی ٹیکنالوجی زیادہ موثر اور عملی طور پر مستحکم ثابت ہو گی۔پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے پاس موجود جدید طیارے صرف لڑاکا طیارے نہیں بلکہ دو متوازی ٹیکنالوجیکل فلسفے ہیں۔ پاکستان چین کے تعاون سے ایسے جنگی طیارے بنا رہا ہے جو دور حاضر میں جہاں دنیا کے مختلف ممالک میں جنگیں ہو رہی ہیں وہاں یہ طیارے فضائی دفاع کو نئی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ پاکستان کے JF17 تھنڈر طیاروں میں دنیا بھر کے ممالک انہی وجوہات کی بنا پر بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ جے ایف 17 تھنڈر کی فائر سیل کے بعد پاکستان اور چین J10 اور J35 جنگی طیارے بنانے کے ایڈوانس لیول پر ہیں۔
بھارتی جنگی طیارے بالخصوص رافیل طیارے مئی 2025 کی جنگ میں موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ اسکی ایک تکنیکی وجہ اسکا ڈیڈ ویٹ فلائٹ ہے یعنی یہ رافیل طیارے ایویانک ٹیکنالوجی ہونے کے ساتھ انتہائی بھاری بھرکم ہیں۔بھارت کی فرانسیسی کمپنی سے سوا سو 114 رافیل طیاروں کی خریداری کی ڈیل تقریباً لاک ہو چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ منافع بخش ڈیل نظر نہیں آتی۔ غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے انتہائی مہنگے دام وہ رافیل طیارے خریدے جا رہے ہیں۔ جن کی کارکردگی کو ماضی قریب میں پاک فضائیہ نیچا دکھا چکی ہے اور مستقبل کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ 
بھارتی فضائیہ کے دیگر جنگی بیڑے بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ نومبر 2025 میں دبئی ائیر شو میں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ ایک مرتبہ بھر مدمقابل آئی۔ اس مرتبہ مقابلہ جنگ کے میدان میں نہیں تھا بلکہ ائیر شو میں فضا میں طیاروں کے کرتب اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے جنگی طیارے دبئی ائیر شو میں آگ لگا دیں گے مگر بھارتی جنگی طیارے تیجس نے تو واقعی آگ لگا دی۔ فضا میں پلٹ کر کرتب کرتے ہوئے تیجس طیارہ کریش کر گیا۔ بھارتی فضائیہ کا ونگ کمانڈر نمنش سیال جان کی بازی ہار گیا۔ انتظامیہ کو ائیر شو ہنگامی بنیادوں پر ختم کرنا پڑا۔ یہ دلخراش واقعہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی حالت، پائلٹس کی مہارت اور تربیت پر کئی سوالات کھڑے کر گیا۔ اس کے برعکس دبئی ائیر شو میں پاک فضائیہ کے سٹال پر دنیا بھر سے پائلٹس،انجینئرز اور شائقین امڈ آئے اور ریکارڈ تعداد میں ایک روز میں دس ہزار سے بھی زیادہ افراد نے پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں میں دلچسپی لی۔
بھارت پاکستان کے J-10CE اور JF-17 Block-III جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے رافیل خرید رہا ہے۔ مگر بھارت کے لئے رافیل کافی نہیں ہیں۔ شاید مسئلہ صرف طیارے کی تعداد کا نہیں بلکہ فضائیہ پائلٹس کی ناقص ٹریننگ اور جنگی حالات میں پلاننگ کے فقدان کا بھی ہے۔ دفاعی خریداری ہر ملک کا انفرادی اور حساس معاملہ ہے۔ مگر بھارتی رافیل طیاروں کے گرنے کے بعد یہ بیانیہ سامنے آیا تھا کہ اب فرانسیسی رافیل طیاروں کی جیٹ صنعت بری طرح متاثر ہو گی۔ پاکستان کے ساتھ جنگ میں شکست کے بعد وقت نے ایسی کروٹ لی ہے کہ آج بھارت فضائی جنگی بیڑے مہنگے داموں خرید رہا ہے پاکستان چین کے ساتھ مل کر جنگی طیارے بنا کر بیچ رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے بھارت کو اپنے سٹرٹیجک امور پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارتی فضائیہ کا ہدف تیزی سے کم ہوتی ہوئی اپنے طیاروں کی فائٹر سکواڈرن طاقت کو بحال کرنا ہونا چاہئے۔ کیوں بھارت دنیا بھر کی فضائی طاقت کی اس تیز ترین دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔ جنگی طیاروں کی بجائے بھارت کو اپنی فضائیہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر زور دینے کی بھی ضرورت ہے۔ زمین سے ہزاروں فٹ بلند جنگی محاز پر پائلٹس کی مہارت اور فیصلہ سازی انتہائی اہم ہوتی ہے۔اس موضوع پر سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے بھی پڑھنے کے قابل ہیں جو بھارت کو مفت مشورے دے رہے ہیں کہ بھارت کی فرانسیسی کمپنی کے ساتھ ڈیل میں جنگی طیاروں کے پائلٹس بھی شامل ہونے چاہئیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے رافیل نام ہی بھارت کے لئے منحوس ہے۔ نام سن کر گمان ہوتا ہے جیسے بھارتی خفیہ ایجنسی را فیل ہو گیا ہے۔ گویا یہ رافیل انٹیلی جنس ادارے اور بھارتی فضائیہ دونوں کے لئے شبہ نہیں ہے۔ بھارت کے لئے اشبہ طیاروں نے پہلے گر بھارت کو جنگ ہروائی، مالی نقصان کے عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی اور اب بھی بھارت مہنگے ترین معاہدے کے تحت رافیل جنگی طیارے خریدنے پر مجبور ہے۔ رافیل گر کر کے بھی اور اب خرید کر بھی دونوں صورتوں کو بھارت کو بہت بھاری پڑ رہے ہیں۔ کسی نے درست کہا تھا یہ رافیل بہت بھاری ہیں۔

مزیدخبریں