پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل؟

09:58 AM, 18 Feb, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے قیام کو 30برس مکمل ہو نے والے ہیں‘ 25اپریل 1996ءکوقومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے لاہور میں اس جماعت کی بنیاد رکھی ۔جون 1996 ءمیں تحریک انصاف کی پہلی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی عمران خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جس میں نعیم الحق، احسن رشید، حفیظ خان، مواحد حسین، محمود اعوان اور نوشیرواں برکی شامل تھے۔ اس جماعت کا پہلا امتحان 1997ءمیں ہونیوالے عام انتخابات تھا جس میں عمران خان سمیت پارٹی کے تمام امیدوار بری طرح شکست کھا گئے۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جب بانی پی ٹی آئی کی کرشماتی شخصیت کے سحر نے ایک نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کیونکہ محض پانچ برس قبل1992ءمیں ان کی قیادت میں پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا اور تین برس قبل 1994ءمیں عمران خان نے کینسر کے علاج کیلئے شوکت خانم ہسپتال قائم کیا تھا۔ اس ہسپتال کےلئے انہوںنے ملک بھر سے چندہ اکٹھا کیا جس میں لوگوں نے دل کھول کر عطیات دیئے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی فنڈ ریزنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ دو ایسے کارنامے تھے جن کی بدولت وہ لوگوں کے دِلوں میں گھر کر چکے تھے تاہم عمران خان کو اپنی اس مقبولیت کے دور میں انتخابی میدان میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان انتخابات میں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے دوتہائی اکثریت حاصل کر کے اپنی حکومت قائم کی۔اکتوبر 1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو پاکستان تحریک انصاف نے پرویز مشرف کے اس اقدام کو سراہاجبکہ 2002ءکو پرویز مشرف کے صدارتی ریفرنڈم میں بھی انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ملک بھر میں اسی برس ہونیوالے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور صرف بانی پی ٹی آئی میانوالی کے ایک حلقہ سے کامیاب ہوسکے۔ 2002ءسے 2007ءتک وہ پی ٹی آئی کے واحد رکن قومی اسمبلی تھے۔ جنوری 2008ءمیں ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوا‘ ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہان میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس آئے۔ 27دسمبر 2007 ءکو بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں ایک خوفناک دھماکہ میں اللہ کو پیاری ہو گئیں جبکہ اسی روز میاں نواز شریف کے سیاسی قافلہ پر بھی حملہ ہوا لیکن وہ بچ گئے۔ان واقعات کے بعدعام انتخابات کی تاریخ 18فروری مقرر کی گئی۔ تحریک انصاف نے متعدد سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شمولیت اختیار کی اوران انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ یہ وہ دور تھا جب تحریک انصاف کو قائم ہوئے12برس کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن ابھی تک انتخابی سیاست میں اس کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی لہٰذا ان کے بائیکاٹ سے الیکشن پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا۔ پیپلز پارٹی کو ہمدردی کا خاصا ووٹ پڑا چنانچہ کامیابی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت قائم کی اور سید یوسف رضا گیلانی ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 
2011ءمیں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایکدوسرے کیخلاف تندوتیز بیانات دینا شروع کر دیئے تو سیاست نوے کی دہائی میں واپس جاتی دکھائی دے رہی تھی لیکن ایسے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب تحریک انصاف کو مخصوص طاقتوں کی حمایت ملنا شروع ہوئی ۔ ان’ ’ موزوں حالات“ میں تحریک انصاف نے30اکتوبر 2011ءکو مینار پاکستان پر جلسہ کا اعلان کر دیا تو اسے ” کامیاب“ بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ 25دسمبر کو مزار قائد پر جلسہ بھی انتہائی ”کامیاب“ بنایا گیا۔ یہ جلسے تحریک انصاف کی اٹھان کا باعث بنے اور بعدازاں دوسری جماعتوں کے اہم رہنما رفتہ رفتہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے لگے۔ اب یہ وہی تحریک انصاف تھی جو15 برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی خاص سیاسی کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی لیکن اب سیاسی زور پکڑ رہی تھی ۔ 2013ءمیں عام انتخابات کا اعلان ہوا تو انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے قوم کو ” نیا پاکستان “بنانے کی نوید سنائی۔ انتخابی نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اچھی خاصی سیٹیں حاصل کر لیں لیکن مرکزی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکی جبکہ پہلی بار صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ۔اپنے قیام کے 17برس بعد ایک صوبائی حکومت کا قیام اس کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد میاں نواز شریف تیسری بار ملک کے وزیراعظم بن گئے تاہم عمران خان نے دھاندلی کے الزامات لگا کر حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز کر دیا۔ 14اگست 2014ءکولاہور سے آزادی مارچ کا آغاز ہوا، ساتھ ہی ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب مارچ شروع کر دیا۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیا جو چار ماہ تک جاری رہا۔ عمران خان تقریباً روزانہ تقریر کرتے اور اپنی تقریر میں بارہا ” امپائر کی انگلی“ کا ذکر کرتے کہ وہ اٹھنے ہی والی ہے۔امپائر کی انگلی تو نہ اٹھ سکی لیکن 16دسمبر 2014ءکو پشاور میں آرمی پبلک سکول میںایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس کے بعد تحریک انصاف نے اپنا دھرنا ختم کر دیا۔ 2016ءمیں پاناما کیس سامنے آیا تو تحریک انصاف نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ میاں نواز شریف کواعلیٰ عدلیہ سے نااہلی اور قید کی سزا ملی اور انہیں وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ 2018ءکے انتخابی نتائج کے مطابق 28 برسوں بعد تحریک انصاف کو سب سے بڑی کامیابی مرکزی حکومت کی صورت میں ملی اور عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس حکومت کو سلیکٹڈ قرار دےا۔ سیاسی ہنگامہ آ رائی جاری رہی اور اپریل 2022 ءمیں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی اور انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ میاں شہباز شریف ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 5اگست 2023ءکو بانی پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 8فروری 2024ءکو عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو تحریک انصاف کیلئے حالات انتہائی نامساعد تھے ، انتخابی نشان چھن گیا تھا ، جلسے جلوسوں کی بھی اجازت نہ تھی ، تاہم تحریک انصاف کے حامی امیدواروں نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی اور خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔عمران خان کو قید میں دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے ابھی تک ان کی جماعت اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن قید کا یہ عرصہ طوالت پکڑ گیا تو اس جماعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ 30برس بعد بھی یہ جماعت فرد ِواحد ہی ہے۔سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے کہ معاملات کو فہم وفراست سے لیکر آگے بڑھا جائے کیونکہ اسی صورت اس جماعت کا مستقبل محفوظ رہ سکتا ہے۔

مزیدخبریں